logo logo
AI Search

ایک مٹھی داڑھی واجب ہونے کی کیا دلیل ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ایک مشت داڑھی کے وجوب پر دلائل

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ یہ جو کہا جاتا ہے کہ داڑھی ایک مٹھی رکھنا واجب ہے، اور ایک مٹھی سے کم کرنا، جائز نہیں، یہ کہاں سے ثابت ہے؟ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی احادیث یا قرآن پاک سے ؟

جواب

اسلام میں ایک مٹھی داڑھی رکھنا واجب ہے، اور بالکل کٹوانا یا ایک مٹھی سے کم کروانا، دونوں کام شرعاً ناجائز و گناہ ہیں۔ اس کا ثبوت قرآنِ کریم اور احادیثِ نبویہ صلی اللہ علیہ و سلم سے ملتا ہے، خود حضور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ و سلم نے داڑھی بڑھانے کا حکم فرمایا، اور صحابہ کرام علیہم الرضوان نےاپنے عمل سے اس کی تفسیر ایک مٹھی تک کردی، بلکہ نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے عمل مبارک سے بھی یہی تفسیر ہوتی ہے، وہ یوں کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا عمل مبارک ایک مٹھی داڑھی رکھنے کا تھا، اور روایت میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم اپنی داڑھی مبارک کو چوڑائی اور لمبائی میں کاٹتے تھے، تو اس سے ثابت ہوا کہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام مٹھی سے زائد ہی کاٹتے تھے، کبھی مٹھی سے کم نہیں فرمایا۔

اس کے دلائل ترتیب وار ملاحظہ فرمائیں

اللہ تعالی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فرمایا ہے کہ ان کا حکم مانا جائے اور ان کی اطاعت کی جائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے داڑھی شریف رکھنے کا حکم فرمایا ہے۔ چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۚ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ-﴾ ترجمہ کنز العرفان: اور رسول جو کچھ تمہیں عطا فرمائیں وہ لے لو اور جس سے تمہیں منع فرمائیں تو تم باز رہو۔ (پارہ: 28، سورۃ الحشر، آیت: 7)

اور ایک مقام پر اللہ پاک فرماتا ہے: ﴿یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْ﴾ ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور ان کی جو تم میں سے حکومت والے ہیں۔ (پارہ: 5، سورۃ النساء، آیت: 59)

اللہ پاک نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور طریقہ کو اپنانے کا حکم فرمایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہمیشہ داڑھی شریف رکھنا ہے۔ اللہ پاک فرماتا ہے: ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَكَرَ اللّٰهَ كَثِیْرًا﴾ ترجمہ کنز العرفان: بیشک تمہیں رسولُ الله کی پیروی بہتر ہے اس کے لیے کہ الله اور پچھلے دن کی امید رکھتا ہو اور الله کو بہت یاد کرے۔ (پارہ: 21، سورۃ الاحزاب، آیت: 71)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ داڑھی شریف رکھی۔ چنانچہ صحیح مسلم میں ہے: ’’عن سماك أنه سمع جابر بن سمرة يقول: كان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم .... كثير شعر اللحية ‘‘ ترجمہ: حضرت سماک سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی داڑھی کے بال بہت زیادہ تھے ۔ (صحیح مسلم، صفحہ : 916، حدیث: 2344، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

داڑھی کم از کم ایک مٹھی رکھنا واجب ہے اور کتروا کر ایک مٹھی سے کم کرنا ناجائز گناہ ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مطلقا داڑھی پڑھانے کا حکم ارشاد فرمایا ہے، صحیح بخاری میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’انهكوا الشوارب، وأعفوا اللحى‘‘ ترجمہ: مونچھوں کو خوب پست کرو اور داڑھیوں کو بڑھاؤ۔ (صحیح البخاری، ص: 1091، حدیث: 5893، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

دو جلیل القدیر صحابہ کرام، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک مٹھی سے زائد داڑھی کاٹ کر اس مجمل کی تفسیر کر دی کہ احادیث میں جو داڑھی بڑھانے کا امر فرمایا گیا، وہ کم از کم ایک مٹھی تک ہے۔ سنن ابو داؤد میں مروان بن سالم سے مروی ہے، فرماتے ہیں: ’’رأيت ابن عمر يقبض على لحيته، فيقطع ما زاد على الكف‘‘ ترجمہ: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ اپنی داڑھی کو مٹھی میں پکڑتے، پھر جو بال مٹھی سے زائد ہوتے انہیں کاٹ دیتے۔ (سنن ابی داؤد، حدیث: 2357، جلد: 02، ص: 306، مطبوعہ بیروت)

یہ حدیث پاک صحیح بخاری میں ان الفاظ کے ساتھ ہے ”عن ابن عمر عن النبي صلی اللہ علیہ و سلم قال: خالفوا المشركين: وفروا اللحى وأحفوا الشوارب، وكان ابن عمر إذا حج أو اعتمر قبض على لحيته، فما فضل أخذه‘‘ ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’مشرکین کی مخالفت کرو، داڑھیاں بڑھاؤ اور مونچھیں خوب پست کرو۔‘‘ اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جب حج یا عمرہ کرتے تو اپنی داڑھی کو مٹھی میں پکڑتے، پھر جو بال مٹھی سے زائد ہوتے انہیں کاٹ دیتے۔ (صحیح البخاری، ص:1091، رقم الحدیث: 5892، دار الکتب العلمیۃ، بيروت)

مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے ’’كان ابو هريرة يقبض على لحيته، ثم يأخذ ما فضل عن القبضة‘‘ ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اپنی داڑھی کو مٹھی میں پکڑتے، پھر جو بال مٹھی سے زائد ہوتے انہیں کاٹ دیتے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، جلد: 05، ص: 225، حدیث: 25481، مطبوعہ: ریاض)

یہ بات ذہن نشین رہے کہ مقدار کا بیان غیر قیاسی ہے، یعنی قیاس و عقل سے بیان نہیں ہو سکتا، اور صحابہ کرام علیہم رضوان کا ایسا قول یا فعل جو غیر قیاسی ہو، حدیث مرفوع کے حکم میں ہوتا ہے، گویا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا کہ داڑھی کو بڑھاؤ اور دوسرے مقام پر اس کی تفسیر کر دی کہ یہ بڑھانے کا حکم ایک مٹھی تک ہے، بلکہ یہ ایک مٹھی سے زائد کو کم کرنا خود حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے، سنن ترمذى ميں ہے "أن النبي صلى اللہ عليه وسلم «كان يأخذ من لحيته من عرضها وطولها»" ترجمہ: بیشک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی داڑھی مبارک کی چوڑائی اور لمبائی سے کچھ بال تراش لیا کرتے تھے۔ (سنن ترمذى، صفحہ 1015، رقم الحدیث 2762، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

ہدایہ وفتح القدیرمیں ہے "(وھو) ای القدرالمسنون فی اللحیۃ (القبضۃ) ۔۔قال فی النھایۃ: وماوراء ذلک یجب قطعہ ھکذاعن رسول اللہ (عزوجل وصلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم) انہ کان یاخذ من اللحیۃ من طولھاوعرضھا" ترجمہ: داڑھی میں سنت مقدار ایک مٹھی ہے۔ نہایہ میں فرمایا: اور جو اس سے زائد ہو، اس کا کاٹنا واجب ہے، اسی طرح اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم داڑھی مبارک کو لمبائی اور چوڑائی سے کچھ کاٹ لیاکرتے تھے۔ (فتح القدیر، کتاب الصوم، ج: 2، ص: 351، مطبوعہ: کوئٹہ)

حاصل یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گویا کہ ایک مٹھی داڑھی رکھنے کا امر ارشاد فرمایا اور ’’الامر للوجوب‘‘ یعنی امر وجوب کے لیے آتا ہے۔ فتح القدیر میں ہے ’’وأما الأخذ منها وهي دون ذلك كما يفعله بعض المغاربة ومخنثة الرجال فلم يبحه أحد‘‘ ترجمہ: اور رہی داڑھی کو ایک مٹھی سے کم کرنا، جیسا کہ بعض مغربی علاقوں کے لوگ اور مخنث مرد ایسا کرتے ہیں، تو اسے کسی نے بھی جائز قرار نہیں دیا۔ (فتح القدیر، ج: 2، ص: 352، مطبوعہ: کوئٹہ)

امام اہل سنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: ”حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم و حضرت عبداللہ بن عمر و حضرت ابو ہریرہ وغیرہما صحابہ و تابعین رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین کے افعال و اقوال، اور ہمارے امام اعظم ابو حنیفہ و محرر امام محمد رضی اللہ تعالی عنہما و عامہ کتب فقہ و حدیث کی تصریح سے اس کی حد یکمشت ہے، ابھی نصوص علماء سے گزرا کہ اس سے کم کرنا کسی نے حلال نہ جانا۔“ (فتاوی رضویہ، جلد :22 صفحہ :655 رضا فاؤنڈیشن لاہور)

مزید فرماتے ہیں: "داڑھی کا طول ایک مشت یعنی ٹھوڑی سے نیچے چار انگل چاہیے اس سے کم کرنا حرام ہے۔" (فتاوی رضویہ، جلد 22 صفحہ: 606، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد حسان عطاری مدنی

فتوی نمبر: WAT-5348

تاریخ اجراء: 17 ربیع الاول 1448ھ/31 اگست 2026ء