رسول اللہ ﷺ کے موئے مبارک پوسٹ کے ذریعے منگوانا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موئے مبارک بذریعہ پوسٹ دوسرے ملک منگوانا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا موئے مبارک کو پوسٹ کے ذریعے پاکستان سے یوکے منگوانا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موئے مبارک کی تعظیم و توقیر شرعاً لازم اور اہلِ ایمان کے لیے باعثِ برکت و سعادت ہے۔ اس معاملے میں ہر ایسی صورت سے بچنا ضروری ہے، جس میں موئے مبارک کی بے ادبی کا شائبہ بھی پایا جائے۔ موجودہ دور میں پوسٹ یا کورئیر کے ذریعے پارسل کے ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنے میں مختلف مراحل کا سامنا ہوتا ہے، کیونکہ دورانِ ترسیل پارسل مختلف افراد کے ہاتھوں سے گزرتا ہے، اُسے دیگر عام سامان کے ساتھ ایک جگہ رکھا جاتا ہے، چیزوں کو ایک دوسرے کے اوپر رکھا جاتا ہے، لوڈنگ اور اَن لوڈنگ کے دوران اسے عام اشیاء کی طرح اُٹھایا اور منتقل کیا جاتا ہے، پیکٹ زمین پر رکھنے جیسی صورتیں بھی پیش آتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ تمام امور اگرچہ عام سامان کی ترسیل میں معمول کا حصہ ہیں، لیکن موئے مبارک کے شایانِ شان نہیں۔ اس عمومی انداز کو عرف و عادت میں موئے مبارک کے لیے بے ادبی ہی سمجھا جائے گا، لہذا اس طریقہ کار سے موئے مبارک کو منگوانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اگر کسی کو موئے مبارک حاصل کرنے ہو ں، تو خود سفر کر کے ادب و احترام کے ساتھ اُسے وصول کرے، یا کسی ایسے شخص کے ذریعے منگوائے جو اُسے مکمل اہتمام، حفاظت اور تعظیم کے ساتھ براہِ راست پہنچا سکے، جس میں کسی قسم کی بے ادبی کا اندیشہ نہ ہو۔
موئے مبارک کی تعظیم سے متعلق سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں: ’’جیسے نقوش کتابت آیات و احادیث کی تعظیم فرض ہے یونہی حضور پُر نور صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی ردا و قمیص خصوصاً ناخن و موئے مبارک کی (تعظیم بھی فرض ہے)۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 9، صفحہ 119، 118، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
ایک دوسرے مقام پر ارشاد فرماتے ہیں: ’’نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے آثار و تبرکات شریفہ کی تعظیم دین، مسلمان کا فرضِ عظیم ہے۔ تابوت سکینہ جس کا ذکر قرآن عظیم میں ہے جس کی برکت سے بنی اسرائیل ہمیشہ کافروں پر فتح پاتے اس میں کیا تھا "بقیۃ مما ترک ال موسی وال ہرون" موسی اور ہارون علیہما الصلوٰۃ والسلام کے چھوڑے ہوئے تبرکات سے کچھ بقیہ تھا۔ موسی علیہ السلام کا عصا اور ان کی نعلین مبارک اور ہارون علیہ الصلوٰۃ والسلام کا عمامہ وغیرہا، ولہذا تواتر سے ثابت کہ جس چیز کو کسی طرح حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے کوئی علاقہ بدن اقدس سے چھونے کا ہوتا صحابہ و تابعین و ائمہ دین ہمیشہ اس کی تعظیم و حرمت اور اس سے طلب برکت فرماتے آئے اور دین حق کے معظم اماموں نے تصریح فرمائی ہے کہ اس کے لئے کسی سند کی بھی حاجت نہیں، بلکہ وہ چیز حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے نام پاک سے مشہور ہو اس کی تعظیم شعائر دین سے ہے۔ شفا شریف و مواہب لدنیہ و مدارج شریف وغیرہا میں ہے: من اعظامہ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم اعظامہ جمیع اسبابہ وما لمسہ او عرف بہ صلی ﷲ تعالی علیہ وسلم۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم میں سے ہے ان تمام اشیاء کی تعظیم جس کو نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے کچھ علاقہ ہو اور جسے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے چھوا ہو یا جو حضور کے نام پاک سے مشہور ہو۔ (فتاوی رضویہ، جلد 21، صفحہ 415، 414، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
ادب و بے ادبی کا مدار عرف و عادت پر ہے، چنانچہ سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ارشاد فرماتے ہیں: ”تعظیم و بے تعظیمی میں بڑا دخل عُرف کو ہے۔ محقق علی الاطلاق ”فتح القدیر‘‘ میں فرماتے ہیں: ’’یحال علی المعھود“ یہ معاملہ عرف و رواج کے حوالے کیا جاتا ہے۔‘‘ (فتاوٰی رضویہ، جلد 23، صفحہ 913، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
ایک دوسرے مقام پر ارشاد فرماتے ہیں: ”قاعدہ مسلمہ مرعیہ عقلیہ شرعیہ سے معلوم کہ توہین و تعظیم کا مدار عرف و عادتِ ناس و بلاد پر ہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 7، صفحہ 315، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1221
تاریخ اجراء: 20 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 06 جون 2026ء