logo logo
AI Search

جو نعمت نہیں ملی اس کی دعا کرنے کا حکم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

جو نعمت ہمیں نہیں ملی اس کی دعا کرنا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اللہ سے جو نعمت ہمیں نہیں ملی، کیا وہ مانگ سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

یہ سوال بہت زیادہ عموم رکھتا ہے، اپنے لیے نعمتوں کی دعا کرنے میں ہمیشہ درج ذیل امور کی پاسداری کرنی چاہیے:

(1) دعا میں حد سے نہ بڑھے، مثلا انبیاے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا مرتبہ مانگنا یا آسمان پر چڑھنے کی تمنا کرنا وغیرہ۔

(2) اسی طرح جو چیزیں محال یا قریب بہ محال ہیں، وہ نہ مانگے، اسی میں محال عادی بھی شامل ہے، یعنی جو عموما یا عادتا نہیں ہوتا، اس کی دعا نہ کرے، در مختار میں فرمایا: "ہمیشہ کے لیے تندرستی وعافیت مانگنا کہ آدمی کا عمر بھر کبھی کسی طرح کی تکلیف میں نہ پڑنا، یہ بھی محال عادی ہے۔"

اسی قبیل سے ہے اس معاملے کے بدلنے کی دعا مانگنا، جپر قلم جاری ہوچکا، مثلا: لمبا آدمی کہے: میرا قد کم ہوجائے، یا چھوٹی آنکھوں والا کہے: میری آنکھیں بڑی ہوجائیں۔

(3) اسی طرح گناہ کی دعا نہ کرے، مثلا یہ دعا کہ: مجھے دوسرے کا مال مل جائے۔

(4) لغو اور بے فائدہ دعا نہ کرے۔ جیسے بنی اسرائیل کے کسی شخص کو حکم ملا کہ تین دعائیں مانگو، قبول ہوں گی، اس نے اپنی عورت کے لیے دعا کی کہ بنی اسرائیل کی عورتوں میں سب سے زیادہ خوبصورت ہوجائے۔ تو وہ سب سے زیادہ خوبصورت ہوگئی، لیکن غرور و شر کرنے اور شوہر کو ستانے لگ گئی، ایک دن اس نے ناراض ہو کر کہا: خدا تجھے کتیا کردے۔ تو اسی وقت کتیا ہوگئی، پھر بیٹوں کے سفارش کرنے پر اس کے لیے دعا کی: الہی! اسے اصلی صورت پر کردے، جو صورت پہلے تھی۔ چنانچہ ویسی ہی ہوگئی، اور تینوں دعائیں مفت میں ضائع ہوگئیں۔ (تفسیر بغوی، ج 2، ص 180، دارالکتب العلمیۃ، بيروت)

(5) اللہ تعالی سے بلا ضرورت حقیر چیز نہ مانگے، عمدہ شے مانگے کہ خدا کریم ہے اور ہر چیز پر قادر۔ حدیث پاک میں آیا: اللہ تعالی سے فردوس کا سوال کرو کہ وہ جنت کا درمیانی یا سب سے بلند درجہ ہے، اس سے اوپر رحمن (عزوجل) کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں جاری ہیں۔ (صحیح بخاری، صفحہ 515، رقم الحدیث 2790، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

ہاں! جب معمولی چیز کی ضرورت ہو، تو اب اس کی دعا مانگنے میں حرج نہیں، کہ اپنی قلیل و کثیر حاجت و ضرورت اللہ تعالی سے ہی مانگنی چاہیے، کہ حدیث پاک میں ہے "تم میں سے ہر کسی کو اپنی ہر حاجت اللہ تعالی سے مانگنی چاہیے، یہاں تک کہ جوتے کا تسمہ ٹوٹے تو وہ بھی خدا تعالی سے مانگے"۔ اور ایک روایت میں ہے "نمک بھی خدا تعالی سے مانگے۔" (سنن ترمذی، صفحہ 1316، رقم الحیث 3604، دار ابن کثیر، دمشق)

المفاتیح فی شرح المصابیح میں ہے "موسى عليه السلام؛ قال لربه: إنه لتعرض إلي الحاجة من الدنيا، فأستحي أن أسألك يا رب؟ فقال اللہ تعالى: سلني حتى ملح عجينك، وعلف شاتك" ترجمہ: حضرت موسی علیہ السلام نے اپنے رب سے عرض کیا: اے میرے رب! کبھی مجھے دنیا کی کوئی حاجت پیش آتی ہے تو میں تجھ سے مانگنے میں شرم محسوس کرتا ہوں۔ تو اللہ تعالی نے فرمایا: مجھ سے (ہر چیز) مانگا کر، یہاں تک کہ اپنے آٹے کے لیے نمک اور اپنی بکری کے لیے چارہ بھی۔ (المفاتیح فی شرح المصابیح، جلد 1، صفحہ 65، مطبوعہ: کویت)

اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام توجہ اپنی میری طرف رکھ، غیر سے اصلا تعلق نہ رکھ، جو مانگ مجھ ہی سے مانگ، اگر کبھی کبھار معمولی چیز کی ضرورت پڑے، تو اس کا بھی مجھ سے سوال کر، لیکن یہ مطلب نہیں کہ جب بھی سوال کر، تو صرف معمولی چیز ہی مانگ۔

(6) دنیا کی زیادہ طلب ناپسند ہے، برخلاف آخرت کی نعمتوں کے کہ اس میں زیادت مطلوب و مقصود۔

(7) نیز یاد رہے کہ! چیزیں تین طرح کی ہیں:

(الف) جو بندے کے حق میں یقینی طور پر بہتر ہے، جیسے ایمان، محبت خدا و مصطفی (عزوجل وصلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم) جنت میں داخلہ وغیرہ۔ ایسی چیز کی دعا، بغیر کوئی شرط لگائے، مطلقا مانگ سکتا ہے۔

(ب) جو بندے کے حق میں یقینی طور پر نقصان دہ ہے، جیسے کفر و شرک، گناہ، دوزخ میں داخلہ وغیرہ۔ ایسی چیز سے، بغیر کوئی شرط لگائے، مطلقا پناہ مانگ سکتا ہے۔

(ج) جس کے بہتر ہونے یا نقصان دہ ہونے کا علم نہ ہو۔ اس میں بہتری کی شرط کے ساتھ دعا مانگے، مثلا یوں کہے کہ: یا اللہ! عزوجل، اگر یہ کام میرے دین و دنیا و انجام میں میرے لیے بہتر ہے، تو مجھے عطا فرما، یا اس کی توفیق عطا فرما، ورنہ مجھ کو اس سے باز رکھ، اور میرا دل اس سے پھیر دے۔ اسی طرح کا مفہوم دعاے استخارہ میں وارد ہے۔

نوٹ:یہ سارا مواد فضائل دعا سے لیا گیا ہے، مزید تفصیل کے لیے "فضائل دعا، صفحہ نمبر 172 تا 180، اور صفحہ نمبر 240 سے 242 تک" مطالعہ مفید رہے گا۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی

فتوی نمبر: WAT-5363

تاریخ اجراء: 18 ربیع الاول 1448ھ/01 ستمبر 2026ء