logo logo
AI Search

نوکری ملنے پر درودِ پاک کی منت پوری کرنا ضروری ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

ایک ہزار درود پاک پڑھنے کی منت کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

پوچھی گئی صورت میں آپ پر ایک ہزارمرتبہ درود پاک پڑھنے کی منت کو پورا کرنا لازم ہے۔

مسئلہ کی تفصیل یہ ہے کہ شریعتِ مطہرہ نے شرعی منت کہ جس کا پورا کرنا شرعاً واجب ہوتا ہے، اس کی کچھ شرائط بیان کی ہیں کہ اگر وہ شرائط پائی جائیں، تو اس منت کو پورا کرنا لازم ہوتا ہے، ورنہ نہیں، ان شرائط کی تفصیل یہ ہے: (1) جس چیز کی منت مانی جائے وہ خود فی الحال یا فی المآل (آئندہ) شریعت کی طرف سے پہلے سے لازم نہ ہو۔ (2) جس چیز کی منت مانی جائے ،وہ خود بالذات عبادتِ مقصودہ ہو، یعنی کسی دوسری عبادت کے لیے وسیلہ نہ ہو۔ (3) ایسی چیز کی منت مانی جائے کہ جس کی جنس سے کوئی واجب ضرور ہو۔

ان شرائط پرغورکیا جائے، تو درودِ پاک میں یہ تمام شرائط موجود ہیں کہ درود پاک عبادت مقصودہ بھی ہے، وہ خود فرض یا واجب بھی نہیں، بلکہ ایک مستحب کام ہے اور اس کی جنس سے فرض و واجب بھی موجود ہےکہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم پر عمر بھر میں کم از کم ایک مرتبہ درودِ پاک پڑھنا فرض ہے۔ اسی بنا پر فقہائے کرام نے تصریح فرمائی ہے کہ اگر کوئی شخص درودِ پاک پڑھنے کی منت مانے تو یہ منت شرعاً لازم ہو جاتی ہے۔ نیز صورت مسئولہ میں آپ کی منت معلق تھی یعنی آپ نے اس منت کو نوکری ملنے کی شرط پر معلق کیا تھااور ایسی منت کا حکم یہ ہے کہ شرط پائے جانے پر اس کا پورا کرنا واجب ہو جاتا ہے۔ چونکہ آپ کو نوکری مل بھی گئی ہے، لہذا اب آپ پر ایک ہزار بار دورد پاک پڑھنا لازم ہے۔

نذرِ شرعی کو پورا کرنے کے متعلق اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: (وَ لْیُوْفُوْا نُذُوْرَهُمْ) ترجمۂ کنزا لعرفان: اور اپنی منتیں پوری کریں۔ (القرآن الکریم، پ 17، سورۃ الحج، آیۃ 29)

منت لازم ہونے کی شرائط کے متعلق فتاوی تاتارخانیہ میں ہے: اعلم ان النذر لا یصح الا بشروط ثلاثۃ:احدھا:ان یکون الواجب من جنسہ شرعا والثانی : ان یکون مقصوداً لا وسیلۃ والثالث: ان لا یکون واجبا علیہ فی الحال او ثانی الحال“ ترجمہ: تُو جان لے! منت  شرعی تین شرائط سے درست ہوتی ہے، ان میں سے ایک یہ کہ اس کی جنس سے کوئی شرعی واجب ہو۔ دوسری یہ کہ وہ عبادت، عبادت مقصودہ ہو، عبادت کے لیے وسیلہ نہ ہو۔ تیسری یہ کہ وہ فی الحال یا آئندہ خود واجب نہ ہو۔ (فتاویٰ تاتارخانیہ، کتاب الصوم، جلد3، صفحہ 431، مطبوعہ کوئٹہ)

ان شرائط کی روشنی میں درود پاک کی منت، شرعی منت ہے، جسے پورا کرنا لازم ہے، جیساکہ اس کی صراحت کے متعلق بحر الرائق میں ہے: و لو قال: لله عليّ أن أصلي على النبي عليه الصلاة و السلام في كل يوم كذا يلزمه“ ترجمہ: اور اگر کسی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے لیے مجھ پر روزانہ اتنی تعداد میں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم کی ذات مبارکہ پر درود پاک پڑھنا لازم ہے تو اتنی تعداد میں درود پڑھنا اس پر لازم ہوگا۔ (البحر الرائق، جلد 4، صفحہ 322، مطبوعہ دار الکتاب الاسلامی)

دُرود پاک کی جنس سے فرض ہونے اور منت لازم ہونے کی علت کے متعلق رد المحتار میں ہے: لان من جنسہ فرضاً و ھو الصلاۃ علیہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم مرۃ واحدۃ فی العمر“ ترجمہ:دُرود پاک کی منت اس لیے لازم ہو جاتی ہے ، کیونکہ اس کی جنس سے فرض موجود ہے اور وہ یہ کہ نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ذات  بابرکات پر عمر بھر میں ایک بار درود پاک پڑھنا فرض ہے۔ (رد المحتار مع الدر المختار، کتاب الایمان، جلد 5، صفحہ 542، مطبوعہ کوئٹہ)

درود پاک کے عبادت ہونے کے متعلق القول البدیع میں ہے:عن وهب بن منبه، قال:  الصلاة  على  النبي صلى اللہ عليه وسلم  عبادة“ ترجمہ: حضرت وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے فرمایاکہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم پردرود بھیجنا عبادت ہے۔ (القول البديع في الصلاة على الحبيب الشفيع، صفحہ 134، مطبوعہ دار الریان للتراث)

درود پاک کی منت کے متعلق الفقہ علی المذاہب الاربعۃ میں احناف کا یوں بیان ہوا کے موقف کے متعلق ہے: و كذا إذا نذر الصلاة على النبيّ صلی اللہ علیہ وسلم فإنه يجب الوفاء به على الصحيح، لأنه من جنسها فرضًا وهو الصلاة عليه في العمر مرة ۔ ۔ ۔ ۔ فالضابط الكلي في صحة النذر: أن يكون المنذور عبادة مقصودة من جنسها فرض“ ترجمہ: اور اسی طرح اگر کسی نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم پر درود پڑھنے کی منت مانی تو صحیح قول کے مطابق اس منت کو پورا کرنا بھی لازم ہے، کیونکہ اس کی جنس سے فرض موجود ہے اور وہ ایک مرتبہ پوری عمر میں حضور علیہ السلام پر درود پڑھنا ہے، تو منت کے صحیح ہونے میں قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ جس چیز کی منت مانی وہ خود ایسی عبادت مقصودہ ہو جس کی جنس سے فرض ہو۔ (الفقہ علی المذاھب الاربعۃ، جلد 2، صفحہ 132، مطبوعہ دار الكتب العلمية)

معلق منت میں شرط پائی جانے کی صورت میں منت کو پورا کرنا واجب ہوتا ہے،جیساکہ بدائع الصنائع میں ہے: و ان كان معلقا بشرط نحو ان يقول: إن شفى اللہ مريضي، او ان قدم فلان الغائب فلله علي ان اصوم شهرا، او اصلي ركعتين، او اتصدق بدرهم، ونحو ذلك فوقته وقت الشرط، فما لم يوجد الشرط لا يجب بالإجماع“ ترجمہ: اگرکوئی شخص نذر کو کسی شرط پر معلق کردے مثلا یوں کہے: اگراللہ تعالیٰ میرے مریض کو شفا دے دے یا میرے غائب کو واپس لوٹا دےتو مجھ پر اللہ کے لیے ایک ماہ کے روزے رکھنا یا دو رکعتیں پڑھنا ، یا درہم کو صدقہ کرنا وغیرہ لازم ہےتو اس منت کو پورا کرنے کا وقت، شرط پائے جانے کا وقت ہے، شرط نہ پائی گئی تو منت کو پورا کرنا بالاجماع واجب نہیں۔ (بدائع الصنائع، جلد 5، صفحہ 93، مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری 
فتویٰ نمبر: FSD-10037
تاریخ اجراء: 01 محرم الحرام 1448ھ / 18 جون 2026ء