پہلی سیلری کا 5 فیصد صدقہ کرنے کی منت
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
پہلی سیلری کا پانچ فیصد اللہ کی راہ میں صدقہ کرنے کی منت کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
میں نے منت مانی تھی کہ جب میری نوکری لگے گی، تو میں پہلی سیلری میں سے 5 فیصد اللہ پاک کی راہ میں صدقہ کروں گا، تو اب پوچھنا یہ ہے کہ یہ صدقہ واجب ہے یا نفل؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں یہ منت، منتِ شرعی ہے، جس کا پورا کرنا واجب ہے، کیونکہ یہاں صدقہ کرنے کو شرط پر معلق کیا گیا ہے، اور صدقہ کرنے کو جب شرط پر معلق کیا جائے، تو وہ منت شرعی ہوتی ہے، لہذا جب شرط پائی جائے، تو اب صدقہ کرنا لازم ہو جاتا ہے، اور اس منت میں صدقہ کی جانے والی رقم، صدقہ واجبہ کی رقم ہوگی، جسے ایسے شرعی فقرا پر صدقہ کرنا ضروری ہے، جن کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے، یعنی وہ ہاشمی و سید بھی نہ ہوں، اور دینے والے کے آبا و اجداد، اور اولاد میں سے بھی نہ ہوں، اور نہ دینے والے، اور لینے والے میں میاں بیوی کا رشتہ ہو، اور زکوۃ کے مصرف کے علاوہ باقی کار خیر میں صرف کرنے کی اجازت نہیں۔
کسی شرط پر منت کو معلق کرنے کی صورت میں اس شرط کے پائے جانے پر منت پوری کرنالازم ہوگی، جیسا کہ تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے (و وجد الشرط) المعلق بہ (لزم الناذر) لحدیث من نذر وسمی فعلیہ الوفاء بما سمی (کصوم و صلاۃ و صدقۃ) ترجمہ: جس شرط پر منت کو معلق کیا ہےاس کے پائے جانے کی صورت میں منت کو پورا کرنا لازم ہے، کیونکہ حدیث پاک میں ہے جس نے کوئی منت مانی اور کسی چیز کے کرنےکو بیان کیا تو اس پر بیان کردہ چیز کو پورا کرنا لازم ہے مثلاً نماز، روزہ اور صدقہ۔ (تنویر الابصار مع الدر المختار، کتاب الایمان، ج 05، ص 538 - 537، مطبوعہ کوئٹہ)
امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن سے سوال ہوا:
ز ید نے عہد کیا تھا کہ میں ملازم ہوجاؤں تو ایک ماہ کی تنخواہ راہِ خدا میں صرف کروں گا، اب وہ ملازم ہوگیا، اگر زید اپنی اس ماہ کی تنخواہ کو اپنے کسی نہایت غریب بیکس و مفلس رشتہ دار کو اس نیت سے دے تو اس کے ذمہ سے وہ عہد ساقط ہوجائے گا یا نہیں، درصورت عدم ساقط ہونے کے وہ اور کس کام میں خرچ کرے؟
تو آپ رحمۃ اللہ علیہ نے جواباً ارشاد فرمایا: ضرور نذرادا ہوجائیگی جبکہ وہ عزیز نہ اس کی اولاد میں ہو، نہ یہ اس کی، نہ زوج و زوجہ، نہ سید وغیرہ جنہیں زکوٰۃ دینا جائز نہیں بلکہ عزیز کو دینے میں دونا ثواب ہے صدقہ اور صلہ رحم، کماثبت عن النبی صلی ﷲ تعالٰی علیہ وآلہ و سلم (جیسا کہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم سے ثابت ہے)۔ (فتاوی رضویہ، جلد 13، صفحہ 593، 594، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد فراز عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5081
تاریخ اجراء: 29 ذوالحجۃ الحرام 1447ھ / 15 جون 2026ء