logo logo
AI Search

قسم کا کفارہ دینے میں کس سال کی قیمت کا اعتبار ہوگا؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

قسم ٹوٹنے کے کئی سال بعد کفارہ دیتے ہوئے کس سال کی قیمت کا اعتبار ہوگا ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی نے چار سال پہلے قسم توڑی تھی اور اس کا کفارہ وہ اب ادا کرنا چاہتا ہے اور کفارے میں وہ گندم کی قیمت دینا چاہتا ہے تو چار سال پہلے جو گندم کی قیمت تھی، اس کے اعتبار سے کفارہ ادا کیا جائے گا یا جو قیمت اس وقت چار سال کے بعد ہے، اس کے اعتبار سے کفارہ ادا کیا جائے گا؟

جواب

صورت مسئولہ میں چارسال پہلے جب قسم توڑی تھی، اس وقت جو قیمت تھی اس کا لحاظ کیا جائے گا۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ قسم کا کفارہ قسم توڑنے کے وقت لازم ہوتا ہے اور کفارے میں قیمت کی ادائیگی کی فقہائے کرام نے اجازت عطا فرمائی ہے اور اس کے لیے کفارہ لازم ہونے والے دن کی قیمت کا لحاظ فرمایا ہے، کہ کفارہ لازم ہونے کے دن جو قیمت ہے، اس کے لحاظ سے کفارہ ادا کیا جائے گا۔

قسم ٹوٹنے کے وقت کفارہ واجب ہوتا ہے، اس کے حوالے سے جزئیات درج ذیل ہیں:

المبسوط للسرخسی میں ہے "قبل الحنث ما هو الأصل قائم فإذا حنث فقد فات الأصل، فتجب الكفارة" ترجمہ: قسم ٹوٹنے سے پہلے، جو اصل ہے وہ قائم ہے پس جب قسم ٹوٹے گی تو اصل فوت ہوگی، تب کفارہ واجب ہوگا۔ (المبسوط للسرخسی، کتاب الایمان، ج 08، ص 129، دار المعرفۃ، بیروت)

الاختیار لتعلیل المختار میں ہے "(ولا يجوز التكفير قبل الحنث) لقوله - عليه الصلاة والسلام-: «من حلف على يمين ورأى غيرها خيرا منها فليأت التي هي خير وليكفر عن يمينه»، وروي: «ثم ليكفر يمينه» أمر وأنه يقتضي الوجوب ولا وجوب قبل الحنث، أو نقول: إذا حنث يجب عليه أن يكفر بالأمر" ترجمہ: اور قسم ٹوٹنے سے پہلے کفارہ دینا جائز نہیں ہے، حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے اس فرمان کی وجہ سے: جس نے کسی کام پر قسم اٹھائی اور اس کے علاوہ کو اس نے اس سے بہتر سمجھا تو اسے چاہیے کہ وہ جو بہتر ہے وہ کام کرے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دے۔ اور یوں بھی روایت کیا گیا ہےکہ: "پھر اسے چاہیے کہ کفارہ ادا کر دے۔" یہ امر کا صیغہ ہے اور یہ وجوب کا تقاضا کرتا ہے اور قسم ٹوٹنے سے پہلے وجوب نہیں یا ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ: جب اس کی قسم ٹوٹے گی تب اس پر کفارہ ادا کرنا واجب ہوگا، صیغہ امر کی وجہ سے۔ (الاختیار لتعلیل المختار، کتاب الایمان، ج 02، ص 318، مطبوعہ قاہرہ)

کفارے میں قیمت دینا بھی جائز ہے اور قیمت کفارہ واجب ہونے کے دن کی معتبرہے، اس کے حوالے سے جزئیات درج ذیل ہیں:

در مختار میں ہے "(وجاز دفع القيمة في زكاة وعشر وخراج وفطرة ونذر وكفارة غير الإعتاق) وتعتبر القيمة يوم الوجوب" ترجمہ: اور زکاۃ، عشر، خراج، فطرہ، نذر اور غلام آزاد کرنے کے علاوہ کفارے کی صورتوں میں قیمت دینا جائز ہے اور جس دن ان کا وجوب ہو، اس دن کی قیمت معتبر ہے۔ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ الغنم، ج 03، ص 251-250، مطبوعہ کوئٹہ)

النہر الفائق میں ہے "ثم القيمة تعتبر عنده يوم الوجوب وعندهما يوم الأداء ۔۔۔۔ وكما يجوز دفع القيمة في الزكاة يجوز في الكفارة والصدقة الفطر والعشر والنذر" ترجمہ: پھر امام صاحب کے نزدیک قیمت میں واجب ہونے کے دن کا اعتبار ہے اور صاحبین کے نزدیک ادائیگی والے دن کا، اور جس طرح زکاۃ میں قیمت دینا جائز ہے، اسی طرح کفارہ، صدقۂ فطر، عشر اور نذر میں بھی قیمت دینا جائز ہے۔ (النھر الفائق، کتاب الزکاۃ، فصل فی الغنم، ج 01، ص 431، مطبوعہ کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: محمد عرفان مدنی

مصدق: مفتی ابو الحسن محمد ہاشم خان عطاری

فتوی نمبر: Lar-10739

تاریخ اجراء: 20 ذو القعدۃ 1442ھ/01 جولائی 2021ء