یہ کہنا کہ مجھ پر سارا دن ہنسنا حرام ہے کا شرعی حکم کیا ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
یہ کہناکیسا کہ مجھ پر سارا دن ہنسنا حرام ہے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اگر کسی کی نماز قضاء ہوجائے اور وہ اپنے آپ سے کہے کہ میں نے نماز قضاء کردی ہے اب مجھ پہ سارا دن ہنسنا حرام ہے۔ یہ بات بولنے کے بعد وہ اس دن ہنس بھی لے، تو کیا حکم ہوگا؟
جواب
کسی حلال چیز کو اپنے اوپر حرام کرنا شرعاً قسم ہے ،اگر اس شخص نے زبان سے مذکورہ الفاظ کہے تھے تو قسم منعقد ہو جائے گی اور اس دن ہنسنے پر قسم ٹوٹ بھی جائے گی جس کا کفارہ دینا ہوگا البتہ اگر زبان سے الفاظ نہیں کیے ، صرف دل میں نیت کی تھی تو قسم نہیں ہوئی۔
بہار شریعت میں ہے:’’ جو شخص کسی چیز کو اپنے اوپر حرام کرے مثلاً کہے کہ فلاں چیز مجھ پر حرام ہے تو اس کہہ دینے سے وہ شے حرام نہیں ہوگی کہ اﷲ (عزوجل) نے جس چیز کو حلال کیا اسے کون حرام کرسکے مگر اس کے برتنے سے کفارہ لازم آئے گا یعنی یہ بھی قسم ہے۔ ‘‘(بہار شریعت،جلد:2،صفحہ:302، مکتبۃ المدینہ،کراچی )
واضح رہے کہ بلا اجازت شرعی نماز قضا کرنا سخت کبیرہ گناہ ہے جس سے سچی توبہ کرنا اور وہ نماز اد اکرنا لازم ہے۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا عابد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2626
تاریخ اجرا: 26جمادی الاولٰی1447ھ / 18 نومبر 2025ء