جس گائے کو صدقہ کرنے کی منت مانی وہ مر جائے تو حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
معین گائے کی منت مانی اور وہ گائے مر گئی تو منت کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کافی دنوں سے میرا بیٹا بیمار تھا، میں نے ایک مخصوص گائے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان الفاظ میں منت مانی "اگر میرا بیٹا شفاء یاب ہو گیا، تو میں یہ گائے اللہ پاک کی راہ میں صدقہ کروں گا "منت ماننے کے کچھ عرصہ بعد اللہ پاک کے فضل و کرم سے میرا بیٹا صحت یا ب ہو گیا، لیکن جس گائے کو صدقہ کرنے کی منت مانی تھی وہ میرے بیٹے کے صحت یاب ہونے کے بعد ایک بیماری لگنے کی وجہ سے مر گئی، تو پو چھنا یہ ہے کہ کیا اس صورت میں میری منت ساقط ہو گئی یا دوسری گائے صدقہ کرنی ہوگی؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں بیٹے کی شفاء یابی کی شرط پر جب آپ نے معین گائے کو صدقہ کرنے کی شرعی نذر مانی تو صدقہ کے لیے بعینہ وہی گائے آپ کے حق میں متعین ہو گئی اور پھر جب وہ ہلاک ہو گئی، تو آپ کی منت سا قط ہو گئی، اس کے بدلے دوسری گائے صدقہ کرنا ضروری نہیں، البتہ اگر آپ دوسری گائے صدقہ کردیں، تو یہ آپ کی طرف سے تبرع (نفلی و مستحب کام) ہو گا۔
بدائع الصنائع میں ہے: "إذا كان عينها بالنذر بأن قال لله تعالى علي أن أضحي بهذه الشاة - وهو موسر أو معسر فهلكت أو ضاعت أنه تسقط عنه التضحية بسبب النذر؛ لأن المنذور به معين لإقامة الواجب فيسقط الواجب بهلاكه" جب جانور کو نذر کے ساتھ معین کیا، جیسے یوں کہا: اللہ کے لیے مجھ پر لازم ہے کہ میں اس بکری کی قربانی کروں چاہے وہ خوشحال ہو یا تنگ دست (بہرصورت اگر) وہ جانور ہلاک ہو جائے یا گم ہو جائے، تو نذر کے سبب سے (لازم ہونے والی) قربانی ساقط ہو جائے گی، کیونکہ جس کی منت مانی گئی، واجب کی ادائیگی کے لیے وہی متعین ہوتا ہے، لہذا اس کے ہلاک ہو نے سے واجب ساقط ہو جائے گا۔ (بدائع الصنائع، ج 6، ص 289، مطبوعہ کوئٹہ)
سیدی اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن سے سوال ہوا: ’’کسی نے بکری یا مرغی موجودہ کی نسبت مخصوص کرکے کہا کہ میں اس بکری یا مرغی کی نیاز کروں گا، پھر کسی وجہ سے وہ مفقود ہوگئیں تو بجائے اس کے دوسری بکر ی یا مرغی یا گائے وغیرہ کی اسی قدر گوشت سے نیاز ہوگی یا نہیں؟ اس کے جواب میں فرمایا: اگر یہ نیاز نہ کسی شرط پر معلق تھی مثلاً میرا یہ کام ہوجائے تو اس جانور کی نذر کروں گا، نہ کوئی ایجاب تھا مثلاً ﷲ کے لئے مجھ پر یہ نیاز کرنی لازم ہے جب تو یہ نذر شرعی ہو نہیں سکتی، اور اگر لفظ ایسے تھے جن سے شرعاً وجوب ہو گیا تو جبکہ ایجاب خاص جانور معین سے متعلق تھا اس کے گمنے یا مرنے کے بعد دوسرا اس کی جگہ قائم کرنا کچھ ضرور نہیں، نہ اس نذر کا اس پر مطالبہ رہا، اگر دوسرا جانور کردے گا تو تبرع ہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ، ج 13، ص 589، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی فضیل رضا عطاری
فتویٰ نمبر: mul-461
تاریخ اجراء: 06 صفر المظفر 1444ھ/03 ستمبر 2026ء