logo logo
AI Search

جس کام کے کرنے کی منت مانی تھی وہ بھول گئے تو کیا کریں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

منت مانی تھی اور بھول گئے کہ کس چیز کی مانی تھی، تو کیا حکم ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر کسی نے منت مانی کہ میرا فلاں کام ہو گیا تو یہ کروں گا لیکن یہ بھول گیا کہ کیا کرنا ہے یعنی نفل پڑھنے کی منت مانی تھی یا صدقہ دینے کی، تو ایسی صورت میں کام ہو جانے پر منت کو کیسے پورا کریں؟

جواب

اگر زبان سے الفاظ کہہ کر کسی کام کے ہونے پر نماز یا رقم صدقہ کرنے وغیرہ کی منت مانی تھی اور اب کام ہو گیا ہے لیکن یاد نہیں آ رہا کہ کس چیز کی منت مانی تھی تو اس صورت میں قسم کا کفارہ دے کر بری الذمہ ہو سکتے ہیں۔

قسم کا کفارہ ایک غلام آزاد کرنا یا دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلانا یا ان کو کپڑے پہنانا ہے یعنی یہ اختیار ہے کہ ان تین باتوں میں سے جو چاہے کرے۔ اگر رقم کے ذریعے قسم کا کفارہ ادا کرنا چاہیں تو دس شرعی فقیروں میں سے ہر ایک کو الگ الگ ایک صدقہ فطر کی مقدار رقم کا مالک بنا دیں، یوں بھی قسم کا کفارہ ادا ہوجائے گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک شرعی فقیر کو دس دن تک روزانہ ایک صدقہ فطر کی رقم کا مالک بنایا جائے ۔ ایک فقیر کو ایک ساتھ ساری رقم دے دینے سے کفارہ ادا نہیں ہوگا۔

الاشباہ والنظائر میں ہے: ”شك في المنذور هل هو صلاة أم صيام، أو عتق، أو صدقة ينبغي أن تلزمه كفارة يمين أخذا من قولهم: لو قال: علي نذر فعليه كفارة يمين؛ لأن الشك في المنذور كعدم تسميته“ یعنی جس کو منت میں شک ہو کہ وہ نماز ہے، روزہ ہے، غلام آزاد کرنا ہے یا صدقہ ہے، تو اس پر قسم کا کفارہ لازم ہوگا۔ یہ مسئلہ فقہائے کرام کے اس مسئلے سے اخذ کیا گیا ہے کہ اگر کوئی کہے مجھ پر نذر ہے، تو اس پر قسم کا کفارہ لازم ہوگا کیونکہ منت میں شک کرنے والا ایسا ہی ہے جیسے منت والی چیز کو ذکر نہ کرنے والا۔ (الاشباہ و النظائر، صفحہ 53، دار الکتب العلمیۃ)

بہار شریعت میں ہے: ”منّت میں اگر کسی چیز کو معین نہ کیا مثلاً کہا اگر میرا یہ کام ہو جائے تو مجھ پر منّت ہے یہ نہیں کہا کہ نماز یا روزہ یاحج وغیرہا تو اگر دل میں کسی چیز کو معین کیا ہو تو جو نیت کی وہ کرے اور اگر دل میں بھی کچھ مقرر نہ کیا تو کفارہ دے۔“ (بہار شریعت، جلد 2، حصہ 9، صفحہ 315، مکتبۃ المدینہ)

بہار شریعت میں ہے: ”قسم کا کفارہ غلام آزاد کرنا یا دس مسکینوں کو کھانا کھلانا یا ان کو کپڑے پہنانا ہے یعنی یہ اختیار ہے کہ ان تین باتوں میں سے جو چاہے کرے۔۔۔ مساکین کو دونوں وقت پیٹ بھر کر کھلانا ہوگا اور جن مساکین کو صبح کے وقت کھلایا انہیں کو شام کے وقت بھی کھلائے دوسرے دس مساکین کو کھلانے سے ادا نہ ہوگا۔ اور یہ ہو سکتا ہے کہ دسوں کو ایک ہی دن کھلا دے یا ہر روز ایک ایک کو یا ایک ہی کو دس دن تک دونوں وقت کھلائے۔ اور مساکین جن کو کھلایا، ان میں کوئی بچہ نہ ہو اور کھلانے میں اباحت و تملیک دونوں صورتیں ہو سکتی ہیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کھلانے کے عوض ہر مسکین کو نصف صاع گیہوں یا ایک صاع جو یا ان کی قیمت کا مالک کر دے یا دس روز تک ایک ہی مسکین کو ہر روز بقدر صدقہ فطر دے دیا کرے یا بعض کو کھلائے اور بعض کو دے دے۔“ (بہار شریعت جلد 2، حصہ 9، صفحہ 305، مکتبۃ المدینہ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2413
تاریخ اجراء: 21 صفر المظفر 1447ھ/16 اگست 2025ء