کیا دل میں قسم کے الفاظ آنے سے قسم ہو جاتی ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
قسم کے الفاظ دل میں چلتے رہے لیکن زبان سے نہیں کہے، تو قسم ہوگی یا نہیں؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
میرے دل میں قسم کے الفاظ چلتے رہتے ہیں میری نیت اور ارادہ نہیں ہوتا اور یہ الفاظ زبان پر نہیں ہوتے، توکیا قسم ہوجائے گی؟
جواب
صرف دل میں خیال آنے سے قسم نہیں ہوتی جب تک قسم کے الفاظ زبان سے نہ کہہ لے اور اگر زبان سے قسم کے الفاظ کہہ دیے تو قسم ہوگئی اگرچہ دل میں قسم کا ارادہ نہ ہو۔
بہار شریعت میں ہے:” غلطی سے قسم کھا بیٹھا مثلاً کہنا چاہتا تھا کہ پانی لاؤ یاپانی پیوں گا اور زبان سے نکل گیا کہ خدا کی قسم پانی نہیں پیوں گا یا یہ قسم کھانا نہ چاہتا تھا دوسرے نے قسم کھانے پر مجبور کیا تو وہی حکم ہے جو قصداً اور بلا مجبور کیے قسم کھانے کا ہے۔‘‘(بہار شریعت،ج2،ص300،مکتبۃ المدینہ،کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2408
تاریخ اجرا: 08ربیع الاول1447ھ/02ستمبر2025ء