عدت میں کمانے کے لیے گھر سے نکلنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عدتِ وفات میں عورت کا روزگار کے لیے گھر سے نکلنا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک عورت عدت ِوفات میں ہے، اس کے اخراجات اٹھانے والا کوئی نہیں ہے، اس کی ملکیت میں پانچ تولے سونا ہے، اس کے علاوہ اس کے پاس رقم کوئی نہیں ہے، پوچھنا یہ تھا کہ کیا ایسی عورت کو عدت کے دوران اپنا گزر بسر کرنے کے لیے دن کے وقت کمانے کے لیے باہر جانے کی اجازت ہوگی؟ یا اس کے پاس موجود سونے میں سے کچھ بیچ کر عدت کے دوران خرچہ کرنا لازم ہوگا؟ رہنمائی فرمادیں۔
جواب
سوال میں بیان کردہ عورت کو عدت کے دوران کمانے کے لیے گھر سے باہر جانے کی شرعاً اجازت نہیں ہے، کیونکہ دورانِ عدت عورت کو صرف شرعی ضرورت کی وجہ سے گھر سے نکلنے کی اجازت ہے، کمانے کے لیے گھر سے نکلنا اسی وقت شرعاً ضرورت بنے گا، جب گھر میں رہتے ہوئے، عورت کا گزارا نہ ہو سکے، لہذا سوال میں بیان کردہ عورت کے پاس جب پانچ تولے سونا موجود ہے، تو اسے چاہیے کہ وہ اس میں سے کچھ سونا بیچ کر دورانِ عدت گزارا کرے۔
دورانِ عدت گھر سے باہر نہ نکلنے کے بارے میں ارشاد ِخداوندی ہے: ﴿لَا تُخْرِجُوْہُنَّ مِنْۢ بُیُوْتِہِنَّ وَ لَا یَخْرُجْنَ﴾ ترجمہ کنز الایمان: ’’عدت میں انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ آپ نکلیں۔‘‘ (سورة الطلاق، آیت 01)
بیان کردہ آیت مبارکہ کی تفسیر میں امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں: ”وعلى الزوجات أيضا أن لا يخرجن حقا لله تعالى إلا لضرورة ظاهرة، فإن خرجت ليلا أو نهارا كان ذلك الخروج حراما“ ترجمہ: اور بیویوں پر بھی لازم ہے کہ وہ باہر نہ نکلیں، یہ اللہ عزوجل کی طرف سے ان پر حق ہے، مگر یہ کہ کوئی واضح ضرورت ہو، پس اگر (بلا ضرورت) نکلی، چاہے دن میں یا رات میں، تو یہ حرام ہے۔ (تفسير الرازي، جلد 30، صفحه 560، دار إحياء التراث العربي)
عدتِ وفات میں کمانے کے لیے گھر سے نکلنے کے حوالے سے علامہ مَرْغِینانی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 593 ھ / 1196ء) لکھتے ہیں: ”(والمتوفى عنها زوجها تخرج نهارا وبعض الليل)۔۔۔ فلأنه لا نفقة لها فتحتاج إلى الخروج نهارا لطلب المعاش“ ترجمہ: اور جس عورت کا شوہر فوت ہو گیا ہو، وہ (کمانے کے لیے) دن اور رات کے کچھ حصے میں گھر سے نکل سکتی ہے، کیونکہ (جب) اس کے پاس نفقہ نہیں ہے، تو اسے دن میں کمانے کی غرض سے نکلنے کی حاجت ہے۔ (الھدایہ، جلد 02، صفحہ 279، دار احياء التراث العربي، بيروت)
ذکر کردہ عبارت کے تحت امام کمال الدین ابنِ ھُمَّام رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 861ھ / 1456ء) لکھتے ہیں: ”لأن نفقتها عليها وعسى لا تجد من يكفيها مئونتها فتحتاج إلى الخروج لنفقتها۔۔۔ويعرف من التعليل أيضا أنها إذا كان لها قدر كفايتها صارت كالمطلقة فلا يحل لها أن تخرج۔۔۔والحاصل أن مدار الحل كون غيبتها بسبب قيام شغل المعيشة فيتقدر بقدره، فمتى انقضت حاجتها لا يحل لها بعد ذلك صرف الزمان خارج بيتها“ ترجمہ: کیونکہ اس کا نان و نفقہ اسی کے ذمہ ہے، اور ممکن ہے کہ اسے کوئی ایسا شخص نہ ملے جو اس کے اخراجات کی کفالت کرے، تو اسے اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے باہر نکلنے کی حاجت ہے، اور اس علت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر اس کے پاس اپنی کفایت کے مطابق مال و اسباب موجود ہو، تو وہ مطلقہ عورت کی طرح ہو جائی گی، یعنی پھر اس کے لیے گھر سے نکلنا جائز نہیں ہوگا۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ باہر نکلنے کے جائز ہونے کا مدار اس بات پر ہے کہ اس کی غیر حاضری (گھر سے باہر ہونا) معاشی ضرورت کے کام کی وجہ سے ہو، اور یہ اجازت بھی اسی ضرورت کے مطابق محدود رہے گی، پس جب اس کی ضرورت پوری ہو جائے، تو اس کے بعد گھر سے باہر وقت گزارنا اس کے لیے جائز نہیں ہوگا۔ (فتح القدیر، جلد 04، صفحہ 343، دار الفکر، لبنان)
فتاوی شامی میں مذکور فتح القدیر کی عبارت "فلا یحل لھا الخروج" کے تحت امام اہلسنت، سیدی اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ ’’جدالممتار ‘‘ میں لکھتے ہیں: ”اذا قدرت علی الکسب فی البیت من دون خروج، فان المبیح ھی بالضرورۃ فبحیث لا ضرورۃ فلا اباحۃ، وھذا واضح جدا“ ترجمہ: جب عورت باہر نکلے بغیر، گھر میں رہتے ہوئے کمانے پر قادر ہو، (تو بھی نکلنا جائز نہیں ہے)کہ بے شک اجازت ضرورت کی وجہ سے ہے، جب ضرورت نہیں، تو اجازت بھی نہیں، اور یہ واضح قاعدہ ہے۔ (جد الممتار، جلد 05، حصہ 202، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
اسی طرح فتاوی رضویہ میں ہے: ”پس اگر عورت کے پاس اتنا مال ہے کہ چار ماہ دس دن گھر بیٹھ کر کھائے، جب تو اسے نکلنا بالکل جائز نہیں ورنہ جتنے دنوں کھانے کا سامان پاس رکھتی ہے اتنے دنوں اسے گھر بیٹھ کر کھانا لازم، اور پھر نکلنا جائز، رات اپنے گھر میں گزارے۔ وﷲ تعالٰی اعلم۔ “ (فتاوی رضویہ، جلد 13، صفحہ 330، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ / 1947ء) لکھتے ہیں: ”عورت کو زمانہ عدت میں گھر سے نکلنا حرام ہے، ہاں اگر عدت موت کی ہو اور اس کے پاس کھانے کو نہ ہو بغیر گھر سے نکلےکام نہ چل سکے گا یا نقصان پہنچے گا، تو اس ضرورت سے اس کے لیے جا سکتی، اور رات اسی گھر میں گزارے اور بغیر ضرورت شرعیہ نکلنا حرام ہے۔“ (فتاوی امجدیہ، جلد 02، صفحہ 285، مکتبہ رضویہ، کراچی)
"ضرورت " کی وضاحت کرتے ہوئے بہار شریعت میں لکھا ہے: ”ضرورت وہ ہے کہ اُس کے بغیر چارہ نہ ہو۔“ (بھار شریعت، جلد 02، حصہ 08، صفحہ 245، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: OKR-0269
تاریخ اجراء: 17 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 05 مئی 2026ء