مکئی کے بھٹے سے مرا ہوا کیڑا نکلا تو کھانا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مکئی کےابلے ہوئے بھٹے سے مرا ہوا کیڑا نکلا تو کیا حکم ہے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
ایک شخص نے ابلا ہوا مکئی کابھٹہ خریدا ، اس میں سے ایک مکئی کا کیڑا نکلا، جو اس میں مرا ہوا تھا، ایسی صورت میں بھٹہ کا کیا حکم ہوگا؟
جواب
وہ حشرات الارض جن میں بہتا ہوا خون نہیں ہوتا یہ اگر کسی چیز میں گر کر مرجائیں، تو اس سے وہ چیز ناپاک نہیں ہوتی، البتہ حشرات الارض کو کھانا، جائز نہیں ہے۔ لہٰذا پوچھی گئی صورت کا حکم یہ ہے کہ وہ مکئی کا بھٹہ کھاسکتے ہیں، البتہ وہ کیڑا اور اس کے اثرات نکال کر بھٹہ صاف کرلیا جائے۔
حشرات الارض کا کھانا حرام ہےکہ یہ خبائث میں سے ہیں۔اس کے متعلق علامہ عبد الغنی دمشقی حنفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’لا یحل اکل الحشرات کلھا ای المائی والبری کالضفدع والسلحفاۃ والسرطان والفأروالوزغ والحیات لانھا من الخبائث“ تمام حشرات کاکھاناحرام ہے،خواہ وہ حشرات تری کے ہوں یاخشکی کے۔جیسے مینڈک ، کچھوا،کیکڑا،چوہا،چھپکلی اور سانپ، کیونکہ یہ خبیث چیزوں میں سے ہیں۔ (اللباب ملتقطاً، جلد4،صفحہ 95،مطبوعہ:کراچی)
فتاوی رضویہ میں ہے:” حرام شے جلنے کے بعد بھی حرام ہی رہے گی اور دوسری شے میں اگر ایسی مخلوط ہوگئی کہ تمیز ناممکن ہے، تو اُسے بھی حرام کردے گی۔ اذا اجتمع الحلال والحرام غلب الحرام۔ حلال اور حرام مجتمع ہوں تو حرام کو غلبہ ہوتاہے۔“(فتاوی رضویہ، جلد20،صفحہ 262۔263،رضا فاؤنڈیشن ، لاھور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا رضا محمد مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2534
تاریخ اجرا: 23ربیع الآخر1447ھ/17 اکتوبر2025ء