logo logo
AI Search

فٹ بال میچ دیکھنے کا حکم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

فٹ بال میچ بغیر شرط کے دیکھنا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا فٹ بال کا میچ دیکھنا جائز ہے؟ اگر بغیر شرط لگائے صرف فیملی کے ساتھ دیکھیں تو کیا حکم ہوگا؟

جواب

مروّجہ انداز پر فٹ بال کا میچ دیکھنا شرعاً ممنوع و ناجائز ہے، خواہ ٹی وی یا موبائل سکرین پر ہو یا اسٹیڈیم میں جا کر براہ راست دیکھا جائے؛ کیونکہ یہ بہت سی برائیوں اور گناہ کے کاموں کا مجموعہ ہے۔

اولاً: فٹ بال کے کھلاڑی میچ کے دوران عام طور پر ایسے شارٹس (Shorts) پہنتے ہیں جن سے ان کی رانیں یا گھٹنے کھلے رہتے ہیں، جو کہ بے ستری اور بد نگاہی کا باعث ہے اور بد نگاہی گناہ ہے۔

ثانیاً : موجودہ دور میں فٹ بال وغیرہ کھیلوں کے میچ میوزک اور گانے باجوں سے خالی نہیں ہوتے اور میوزک سننا شرعاً ناجائز و گناہ ہے۔

ثالثاً : موجودہ زمانے کے بڑے ٹورنامنٹ یا تماشیوں پر مشتمل مغربی ممالک کے فٹ بال کا میچ کہیں بھی دیکھتے ہوئے تماشائیوں میں موجود بے پردہ خواتین کا بار بار نظر آنا ایک لازمی امر ہے اور یہ خود کو فتنے پر پیش کرنا ہے۔

اس کے علاوہ اسٹیڈیم میں جا کر میچ دیکھنا اور زیادہ قبیح ہے؛ کہ اس میں مرد و عورت کے اختلاط اور مردوں کی جماعت کے فوت ہونے، بلکہ نماز ہی کے قضا ہو جانے کا قوی اندیشہ ہے اور یہ سب کام خلاف شرع اور گناہ ہیں۔ پس موجودہ دور میں رائج فٹ بال کا میچ نہ خود دیکھنے کی اجازت ہے، نہ فیملی کو دکھانے کی، اگرچہ بغیر شرط کے ہو؛ کیونکہ جو چیز ممنوع فعل کا سبب بنتی ہو وہ خود بھی ممنوع ہوتی ہے۔

اللہ کریم نے ارشاد فرمایا: ﴿وَ لَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ﴾ ترجمہ کنز العرفان: اور ظاہری و باطنی بے حیائیوں کے پاس نہ جاؤ۔ (پارہ 8، سورۃ الانعام 6، آیت 151)

صحیح مسلم، جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ، صحیح ابن حبان، مسند احمد وغیرہ میں ہے: ”ان رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم قال: لا ينظر الرجل إلى عورة الرجل ولا المرأة ‌إلى ‌عورة ‌المرأة“ ترجمہ: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی مرد کسی مرد کے ستر کو نہ دیکھے اور نہ کوئی عورت کسی عورت کے ستر کو دیکھے۔ (صحيح المسلم، ‌‌ كتاب الحيض، ‌‌ باب تحريم النظر إلى العورات، جلد 1، صفحہ 183، حدیث 338، دار الطباعة العامرة، تركيا)

علامہ مظہر الدین حسین بن محمود مظہری حنفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 727ھ/1327ء) اس حدیث پاک کے تحت لکھتے ہیں: واعلم أن نظر الرجل إلى عورة الرجل حرام وعورة الرجل ما بين سرته إلى ركبتيه وكذلك يحرم نظر المرأة إلى عورة المرأة“ ترجمہ: اور جان لو کہ مرد کا مرد کے ستر کی طرف دیکھنا حرام ہے اور مرد کا ستر اس کی ناف سے گھٹنوں تک کا حصۂ بدن ہے۔ اسی طرح عورت کا عورت کے ستر کی طرف دیکھنا حرام ہے۔ (المفاتيح في شرح المصابيح، كتاب النكاح، باب النظر إلى المخطوبة وبيان العورات، جلد 4، صفحہ 19، دار النوادر، كويت)

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”بد نگاہی ہمیشہ حرام ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 757، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

مسند احمد، معجم کبیر اور مشکوۃ المصابیح وغیرہ کی حدیث پاک میں ہے: ”عن أبي أمامة قال قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم: إن اللہ بعثني رحمة للعالمين وهدى للعالمين وأمرني ربي بمحق المعازف والمزامير“ ترجمہ: حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے تمام جہانوں کے لیے رحمت اور تمام جہانوں کے لیے ہدایت بنا کر بھیجا ہے، اور میرے رب نے مجھے باجوں اور بانسریوں کو مٹانے کا حکم دیا ہے۔ (مسند احمد، حديث أبي أمامة الباهلي، جلد 36، صفحہ 646، حدیث22307، مؤسسة الرسالة)

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”مزامیر (آلات موسیقی) حرام ہیں اور حرام ہر حال میں حرام رہے گا، لوگ گناہوں میں مبتلا ہیں اس کے سبب گناہ جائز ہو جائے تو شریعت کا منسوخ کر دینا فاسقوں کے ہاتھ میں رہ جائے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 139، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ”اس میں شک نہیں کہ یہ ناچ اور اکثر باجے شرعاً حرام و ممنوع ہیں اور ان کے دیکھنے سننے کا مرتکب فاسق و گنہگار (ہے)۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 11، صفحہ 110، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ، مصنف ابن ابی شیبہ اور مشکوۃ المصابیح وغیرہ کی حدیث پاک میں ہے: ”كل ما يلهو به الرجل المسلم باطل إلا ‌رميه ‌بقوسه وتأديبه فرسه وملاعبته أهله فإنهن من الحق“ ترجمہ: ہر وہ چیز جس سے مسلمان آدمی لہو کرے (یعنی کھیلے اور غفلت میں پڑے) وہ باطل ہے، سوائے تیر اندازی کرنے، اپنے گھوڑے کو سدھانے اور اپنی بیوی کے ساتھ ملاعبت کرنے کے، پس یہ سب حق ہیں۔ (جامع الترمذی، أبواب فضائل الجهاد، جلد 3، صفحہ 274-275، حدیث 1637، دار الغرب الإسلامي، بيروت)

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ/1921ء) سے گیند کھیلنے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”عبث ہے، اگرچہ صاحبِ ہدایہ نے ہر عبث کو حرام لکھا ہے، لیکن صحیح یہ ہے کہ عبث باطل ہے۔ حدیث میں ہے: "مسلمان کا ہر لہو باطل ہے مگر تین باتوں میں: اول گھوڑا پھرانا، دوسرے تیر اندازی، تیسرے اپنی عورت سے ملاعبت۔" یہ ان تینوں باتوں میں داخل نہیں، اس لیے باطل ہے۔“ (ملفوظات اعلی حضرت، صفحہ 473، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ”ہر کھیل اور عبث فعل جس میں نہ کوئی غرض دین نہ کوئی منفعت جائزہ دنیوی ہو، سب مکروہ و بے جا ہیں، کوئی کم کوئی زیادہ۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 78، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

مفتی محمد وقار الدین قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1413ھ/1993ء) لکھتے ہیں: ”حدیث میں واضح طور پر بتا دیا کہ مؤمن کی زندگی لہو و لعب کے لیے نہیں ہے، لہذا تندرستی کے لیے ٹہلنا یا ورزش کے لیے تھوڑا کھیلنا تو جائز ہے، مگر کرکٹ، ہاکی جس طرح کھیلی جاتی ہے، اس میں کوئی مقصد صحیح نہیں، بلکہ قوم اور ملک کا بہت بڑا نقصان ہے۔ ... اس میں قوم کے مال کی بربادی اور وقت کو ضائع کرنا ہے اور دین کے نقصان کا تو عالم یہ ہے کہ ہزاروں آدمی اسٹیڈیم میں بیٹھے دن بھر کھیل دیکھتے رہتے ہیں، نہ نماز کی پرواہ نہ اپنا وقت ضائع ہونے کی پرواہ۔ ... بہر صورت یہ سب کھیل کھیلنا ناجائز و حرام ہیں اور ان کو دیکھنے اور سننے میں وقت ضائع کرنا بھی ناجائز ہے۔“ ( وقار الفتاوی، جلد 3، صفحہ 437، بزم وقار الدین،کراچی )

الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ میں ہے: ”الاختلاط إذا كان فيه ... عبث ولهو وملامسة للأبدان كالاختلاط في الأفراح و الموالد والأعياد فالاختلاط الذي يكون فيه مثل هذه الأمور حرام لمخالفته لقواعد الشريعة“ ترجمہ: جب (مرد و عورت کے) اختلاط میں کھیل تماشا، لہو و لعب اور جسموں کا باہم مس ہونا ہو، جیسے شادیوں، سالگرہوں اور عیدوں میں اختلاط (ہوا کرتا ہے)، پس وہ اختلاط جس میں اس قسم کے امور ہوں وہ قواعدِ شریعت کے خلاف ہونے کی وجہ سے حرام ہے۔ (الموسوعة الفقهية الكويتية، جلد 2، صفحہ 290، دارالسلاسل، الكويت)

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”وکل ما ادی الی محظور محظور“ ترجمہ: ہر وہ شے جو ممنوع تک پہنچائے، وہ خود ممنوع ہوتی ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 8، صفحہ 93، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری

فتوی نمبر: FAM-1291

تاریخ اجراء: 26 صفر المظفر 1448ھ/10 اگست 2026ء