جسم گورا کرنے کے لیے انجکشن یا میڈیسن استعمال کرنا
بسم اللہ الرحمن الرحیم
جسم گورا کرنے والا انجکشن یا میڈیسن استعمال کرنے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا غیر شادی شدہ لڑکیاں اپنی پورا جسم گورا اور سفید کرنے کے لیے کوئی انجکشن یا میڈیسن کیپسول وغیرہ استعمال کر سکتی ہیں؟
جواب
خوبصورت نظر آنے اور جسم گورا کرنے کے لیے انجکشن، میڈیسن یا کیپسول وغیرہ کھانا شرعاً جائز ہے، بشرطیکہ اس میں کوئی غیر شرعی امر مثلاً غیر محرم کو دکھانے یا دھوکہ دہی کی نیت وغیرہ نہ ہو۔
زینت جائز ہونے کے بارے میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: ﴿قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَۃَ اللّٰہِ الَّتِیْۤ اَخْرَجَ لِعِبَادِہٖ﴾ ترجمہ کنز الایمان: تم فرماؤ: کس نے حرام کی اللہ کی وہ زینت، جو اس نے اپنے بندوں کے لئے نکالی؟ (پارہ 8، سورۃ الاعراف، آیت 32)
اس آیت کے تحت تفسیرِ صراط الجنان میں ہے’’آیت میں لفظِ ’’زینت‘‘ زینت کی تمام اقسام کو شامل ہے، اسی میں لباس اور سونا چاندی بھی داخل ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ جس چیز کو شریعت حرام نہ کرے، وہ حلال ہے۔ حرمت کے لئے دلیل کی ضرورت ہے، جبکہ حلت کے لئے کوئی دلیل خاص ضروری نہیں۔‘‘ (تفسیرِ صراط الجنان، ج 3، ص 303، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”دخل علیّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم حین توفی ابو سلمۃ و قد جعلت علی عینی صبرا، فقال: ماھذا یا ام سلمۃ؟ فقلت: انما ھو صبر یا رسول اللہ! لیس فیہ طیب، قال: انہ یشب الوجہ فلا تجعلیہ الا باللیل و تنزعینہ بالنھار“ ترجمہ: جب حضرت ابو سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ کا انتقال ہو چکا تھا (اور میں ان کی عدت میں تھی) تو میرے پاس حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم تشریف لائے اور میں نے اپنے چہرے پر ایلوا لگا رکھا تھا، تو حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے ام سلمہ! یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ ایلوا ہے، جس میں خوشبو نہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ چہرے کو نکھارتا ہے، پس اسے نہ لگاؤ، مگر (ضرورتاً لگانا پڑے) تو رات کو لگاؤ اور دن کو اتار لو۔ (سنن ابی داؤد، ص 369، الرقم 2305، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
اس حدیثِ پاک کے تحت مرقاۃ المفاتیح میں ہے ’’فقال: ما هذا ای: التلطخ؟ وانت في العدة يا ام سلمة! قلت: انما هو صبر ليس فيه طيب۔۔ ای: عطر، فقال: انه۔۔ يشب ۔۔۔ای: يوقد الوجه ويزيد في لونہ و علل المنع به، لان فيه تزيينا للوجه وتحسينا له‘‘ ترجمہ: حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے امِ سلمہ! یہ لیپ کس چیز کا ہے؟ حالانکہ تو عدت میں ہے، میں نے کہا: یہ ایلوا ہے، اس میں خوشبو نہیں۔ پس حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ چہرے کو نکھارتا ہے اور چہرے کی رنگت میں اضافہ کرتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ممانعت کی وجہ یہی بیان فرمائی، کیونکہ اس میں چہرے کو زینت دینا اور اسے خوبصورت بنانا ہے (حالانکہ معتدہ کو ان چیزوں کی ممانعت ہے)۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب النکاح، ج 6، ص 458 تا 459، مطبوعہ:کوئٹہ)
خوبصورتی کے لیے ادویات کے استعمال کا جواز بیان کرتے ہوئے علامہ عینی رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں: ”العلة في تحريمه أما لكونه شعار الفاجرات أو تدليسا وتغيير خلق اللہ عز وجل، ولا يمنع من الأدوية التي تزيل الكلف وتحسن الوجه للزوج وكذا أخذ الشعر منه“ ترجمہ: اس کے حرام ہونے کی وجہ اس کا فاسقہ و فاجرہ عورتوں کا شعار ہونا یا دھوکہ دہی اور تغییر خلق اللہ کا پایاجانا ہو سکتا ہے، اور ان ادویات سے منع نہیں کیا گیا جو چہرے کے داغ دھبےکو دور کریں اور شوہر کے لیے چہرے کو خوبصورت بنائیں اور اسی طرح چہرے کے بال لینا بھی جائز ہے۔ (عمدة القاري، جلد 20، صفحہ 273، مطبوعہ: کوئٹہ)
امام اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے دلہا، دلہن کے جسم پر اُبٹن (ایک خوشبودار مسالہ جس سے جسم صاف، خوشبودار اور ملائم ہو جاتا ہے) ملنے کے بارے میں سوال ہوا، تو اس کے جواب میں ارشاد فرمایا: ’’اُبٹن ملنا جائز ہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ، ج 22، ص 245، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد آصف عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5440
تاریخ اجراء: 08 ربیع الثانی 1448ھ/21 ستمبر 2026ء