جانداروں کی تصویر والی جیولری پہننا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
جیولری پر جاندار کی تصاویر ہوں، تو خواتین کااس کو پہننا کیسا؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جیولری پر جانداروں کی شکلیں بنی ہوئی ہوتی ہیں، مثلا تتلی،مور، ہاتھی ، سانپ وغیرہ۔ تو کیاخواتین ان کو پہن سکتی ہیں؟
جواب
اگر جیولری پر بنی ہوئی جاندار کی تصویر میں چہرہ موجود ہو اور اتنی بڑی ہو کہ زمین پر رکھ کر کھڑے ہو کر دیکھیں تو اعضا کی تفصیل ظاہر ہو تو اس کا استعمال شرعاً ناجائز و حرام ہوگا اور اگر چہرہ موجود نہ ہو یا تصویر بہت چھوٹی ہو کہ زمین پر رکھ کراگر کھڑے ہوکر دیکھیں تو اعضا کی تفصیل ظاہر نہ ہو تو استعمال جائز ہے۔
یہاں یہ بات یاد رکھی جائے کہ یہ حکم فقط استعمال کرنے ہی کا ہے، باقی رہا جیولری پر جاندار کی تصاویر بنانا اور بنوانا یا نقش کرنا اور نقش کروانا ! تو وہ بہرحال جائز نہیں۔
اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں : ” کسی جاندار کی تصویر جس میں اس کا چہرہ موجود ہو اور اتنی بڑی ہو کہ زمین پر رکھ کر کھڑے سے دیکھیں تو اعضاء کی تفصیل ظاہر ہو ، اس طرح کی تصویر جس کپڑے پر ہو اس کا پہننا ، پہنانا یا بیچنا ، خیرات کرنا سب ناجائز ہے اور اسے پہن کر نماز مکروہِ تحریمی ہے جس کا دوبارہ پڑھنا واجب ہے۔ “(فتاویٰ رضویہ ، ج 24، ص 567، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
اور لکھتے ہیں:”جاندار کی تصویر رکھنا تین صورتوں میں جائزہے: ایک یہ کہ چہرہ کاٹ دیا ہو یا بگاڑ دیا ہو۔ دوسرے یہ کہ اتنی چھوٹی ہوکہ زمین پررکھ کر کھڑے ہو کر دیکھیں تو اعضاء کی تفصیل نظرنہ آئے۔ تیسرے یہ کہ خواری و ذلت کی جگہ پڑی ہو جیسے فرش پا انداز میں،ورنہ رکھنا بھی حرام، ہاں غیرجاندار مثل درخت و مکان کی تصویر کھینچنا رکھناسب جائزہے۔“ (فتاوٰی رضویہ، ج 24، ص 557، رضا فاونڈیشن، لاہور)
فتاوٰی اجملیہ میں ہے:”کسی ذی روح کی تصویر بنانا حرام ہے ،اب چاہے وہ مجسم ہو یا منقش و منسج ہو۔“(فتاوٰی اجملیہ، ج 03، ص 468، شبیر برادرز)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2620
تاریخ اجرا: 05جمادی الاخریٰ 1447ھ / 27 نومبر 2025ء