پیشہ ور بھکاری سے بھیک میں ملا ہوا آٹا خریدنے کا شرعی حکم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
پیشہ ور بھکاری سے وہ آٹا خریدنا جو وہ بھیک میں لے کر آیا ہے
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
بھیک مانگنے والے آتے ہیں، کچھ لوگ ان کو پیسوں کے بجائے آٹا بھی دے دیتے ہیں پھر وہ آٹاہمیں لا کر بیچتے ہیں تو ان سے وہ آٹا خریدنے کا کیا حکم ہوگا؟
جواب
اگر معلوم ہو کہ یہ پیشہ ور بھکاری ہے یعنی کمانے پر قدرت کے باوجود بلاضرورت سوال کرنا اس نے اپنا پیشہ بنالیا ہے اور یہ وہی آٹا دے رہا ہے جو بھیک میں لے کر آیا ہے تو اُس سے وہ آٹا خریدنا، جائز نہیں ۔
اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:”بے ضرورتِ شرعی سوال کرنا حرام ہےاور جن لوگوں نے باوجودِ قدرتِ کسب (یعنی کمانے پر قادر ہونے کے باوجود) بلاضرورت سوال کرنا اپناپیشہ کرلیا ،وہ جو کچھ اس سے جمع کرتے ہیں، سب ناپاک وخبیث ہےاور ان کا یہ حال جان کر اس کے سوال پر کچھ دینا داخل ِ ثواب نہیں، بلکہ ناجائز وگناہ اور گناہ میں مدد کرنا ہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ،جلد10،صفحہ303،مطبوعہ رضا فاؤ نڈیشن ،لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا رضا محمد مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2592
تاریخ اجرا: 19جمادی الاولٰی1447ھ / 11 نومبر 2025ء