logo logo
AI Search

الکوحل والا کیک کھانا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

الکوحل والا کیک کھانا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائےدین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ الکوحل ملا کیک کھانا کیسا ہے؟

جواب

ادویات کے علاوہ کسی کھانے پینے کی چیز میں الکوحل ملائی گئی ہو تو اس کا کھانا یا پینا حرام ہے، چاہے وہ تھوڑی مقدار میں ہویا زیادہ، البتہ فی زمانہ چونکہ الکوحل آمیز ادویات کے استعمال میں عمومِ بلوی ہوچکا ہے کہ عوام و خواص کی اکثریت اس میں مبتلا ہے، اور اس سے بچنے کا حکم دینا، سخت حرج کا مُوجِب (یعنی حرج کو لازم کرنے والا) ہے تو صرف ادویات کی حد تک عمومِ بلوی کی بنا پر الکوحل آمیز ادویات کا استعمال جائز رکھا گیا ہے، جبکہ الکوحل ملا کیک کھانے میں نہ تو عمومِ بلوی ہے اور نہ اس میں ضرورت و حاجت والی صورت ہوتی ہےکہ اس کے متبادل حلال اشیاء موجود ہیں۔ لہذا الکوحل ملا کیک کھانےکی شرعاً اجازت نہیں۔

یاد رہے کہ بیان کردہ حکم کھانے، پینے کے حوالے سے تھا، رہا معاملہ خارجی استعمال کا تو الکوحل آمیز خارجی استعمال کی اشیاء مثلا: فرنیچر پالش، انک، پینٹ وغیرہ میں بھی فی زمانہ عمومِ بلوی پایا جاتا ہے، لہذا علمائے کرام نے عموم  بلوی کے پیشِ نظر الکوحل آمیز خارجی استعمال میں آنے والی تمام اشیاء کو جائز قرار دیا ہے۔

رد المحتار میں ہے:”كل مسكر حرام أي كل ما أسكر كثيره حرم قليله، و هو قول محمد المفتى به، فيدخل فيه الأشربة المتخذة من غير العنب و المثلث لا بقصد السكر“یعنی:ہر نشہ آور چیز حرام ہے یعنی جس کا کثیر استعمال نشہ دیتا ہو، اس کا قلیل استعمال بھی حرام ہے اور یہ امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا قول ہے جو کہ مفتی بہ ہے۔ اسی حکم میں انگور اور مثلث کے علاوہ شرابیں، جو نشہ کی غرض سے نہ ہوں، وہ بھی داخل ہیں۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 5، صفحہ: 405، مطبوعہ کوئٹہ)

مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے سوال ہوا کہ انگریزی دوا وغیرہ یا جس دوا میں ایسی چیز ملی ہو جس کا کھانا مکروہِ تحریمی ہو ان کا کھانا یا پینا درست ہے یا نہیں؟ تو آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے جواباً ارشاد فرمایا: ”وہ دوائیں جن میں اسپرٹ یا کسی حرام و نجس شے کا ملنا معلوم ہو ان کا استعمال حرام۔“

مذکورہ عبارت کے تحت "فتاوی امجدیہ کے حاشیہ" میں لکھا ہے: ”آج کے زمانہ میں نہ صرف ہند و پاک بلکہ پوری دنیا کے شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں عوام سے لے کر خواص تک سب ہی الکحل آمیز دواؤں کے استعمال میں مبتلا ہیں اور جڑی بوٹی والے اطباء نایاب نہیں تو کم یاب ضرور ہیں اور مریضوں کا ڈاکٹروں کے پاس آئے بغیر علاج کرا لینا سخت دشوار اور باعثِ حرج ہے۔ لہذا آج کے دور میں جبکہ ابتلائے عام ہے دفعِ حرج کی بنا پر بغرضِ علاج ایسی دواؤں کا استعمال جائز ہو گا۔“ (فتاوی امجدیہ، جلد 4، صفحہ: 104تا 105، مطبوعہ مکتبہ رضویہ، کراچی)

سیّد ی اعلی حضرت امامِ اہلسنت امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن ارشاد فرماتے ہیں: ”و الحرج مدفوع بالنص و عموم البلوی من موجبات التخفیف لا سیما فی مسائل الطھارۃ و النجاسۃ“ یعنی: نص سے ثابت ہے کہ حرج دور کیا گیا اور عموم بلوی سے حکم میں تخفیف ہوجاتی ہے، خصوصاً مسائلِ طہارت اور نجاست میں۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 4، صفحہ: 390، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: ”و لایخفی علی خادم الفقۃ ان ھذا کماھوجار فی باب الطھارۃ و النجاسۃ کذٰلک فی باب الاباحۃ و الحرمۃ“ یعنی: خادمِ فقہ پر پوشیدہ نہیں کہ جیسے یہ ضابطہ (عمومِ بلوی اسبابِ تخفیف میں سے ہے) طہارت و نجاست میں جاری ہے، ایسے ہی حرمت واباحت میں بھی جاری ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 25، صفحہ: 89، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

الکوحل ملی اشیاء کے استعمال کے متعلق "مجلس شرعی کے فیصلے نامی کتاب" میں ہے: ”اس عہد میں (اسپرٹ یا الکحل آمیز) انگریزی دواؤں کا استعمال عمومِ بلوی کی حد تک پہنچ چکا ہے، مجدّدِ اعظم اعلیٰ حضرت قدّس سرہ نے پڑیا کی رنگت کے بارے میں عمومِ بلوی اور دفع حرج کی بنیاد پر طہارت اور جواز کا فتوی دیا ہے۔ ۔ اس ارشاد کی روشنی میں فیصل بورڈ کے ارکان اس بات پر متفق ہیں کہ مذکورہ انگریزی دواؤں کے استعمال کی بھی بوجہِ عمومِ بلوی (دفع حرج کے لیے) اجازت ہے، البتہ یہ اجازت صرف انہیں صورتوں کے ساتھ خاص ہے جن میں ابتلائے عام اور حرج متحقق ہو۔“ (مجلس شرعی کے فیصلے، جلد 1، صفحہ: 120، جامعہ اشرفیہ مبارک پور ،ضلع اعظم گڑھ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا ذاکر حسین عطاری مدنی
فتوی نمبر: 7637Har-
تاریخ اجراء: 29 ربیع الاول 1448ھ / 12 ستمبر 2026ء