logo logo
AI Search

حالت احرام میں زوجہ سے جماع کیا تو شرعی حکم؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عمرے کے احرام میں طواف سے پہلے ہمبستری کرنا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

ایک شخص نے عمرہ کا احرام باندھا اور احرام کی نیت کے بعد، طواف سے پہلے اس نے اپنی زوجہ سے جماع کرلیا، اب اس شخص کے متعلق کیا حکم ہے؟ نیز اگر یہاں ایسے شخص پر دم لازم ہوگا، تو کیا وہ شخص دم کے بدلے روزے رکھ سکتا ہے۔ کیا اس سے وہ کفارہ ادا ہوجائے گا؟

جواب

جس شخص نے عمرے کا احرام باندھا اور طواف سے پہلے اپنی زوجہ سے جماع کرلیا، اُس کا عمرہ فاسد ہوگیا، اب اُس پر توبہ کرنے کے ساتھ، ایک دم ادا کرنا لازم ہے، لیکن احرام ختم نہیں ہوا، لہذا صورت مسئولہ میں ایسے شخص پر لازم ہوگا کہ اولاً تو وہ اُس فاسد ہوجانے والے عمرے کو پورا کرے یعنی طواف و سعی ادا کرے، پھر حلق یا تقصیر کرے۔ اس کے بعد پھر ایک نئے عمرے کے احرام کے ذریعے اُس فاسد ہوجانے والے عمرے کی قضا کرے۔ مذکورہ شخص کی زوجہ بھی اگر اپنے شوہر کی طرح، عمرے کے احرام میں ہو اور اس نے بھی ابھی طواف نہ کیا ہو تو بعینہ یہی حکم اس پر بھی لازم ہوگا۔

عمرے کے احرام میں جماع ہوجانے سے متعلق، تنویر الابصار مع در مختار میں ہے: ’’(و) وطؤه (فی عمرتہ قبل طوافہ أربعۃ مفسد لھا فمضی و ذبح و قضی) وجوباً‘‘ ترجمہ: اور محرم کا عمرے کے احرام میں، طواف کے چار پھیروں سے پہلے جماع کرنا عمرے کو فاسد کردے گا، لہذا اب اس پر وجوبی طور پر لازم ہوگا کہ اس عمرے کو پورا کرے، دم ادا کرے اور (فاسد ہوجانے والے عمرے کی) قضا کرے۔ (تنویر الابصار مع در مختار، جلد 3، صفحہ 676، دار المعرفۃ، بیروت)

احرام میں جماع سے متعلقہ احکام میں مرد و عورت کا کوئی فرق نہیں، جیسا کہ لباب المناسک اور اسکی شرح میں ہے: (و لا فرق فیہ) أی فی المجامع بالنسبۃ الی ھذا الحکم ۔۔۔ (بین ۔۔۔ الرجل و المرأۃ) أی اذا کانا عاقلین بالغین محرمین‘‘ ملتقطاً۔ ترجمہ: اور حالت احرام میں جماع کرنے والے سے متعلق حکم میں مرد اور عورت کا کوئی فرق نہیں یعنی جبکہ وہ دونوں عاقل بالغ مُحرم ہوں۔ (لباب المناسک مع شرحہ، باب الجنایات، صفحہ 478، مطبوعہ مکۃ المکرمۃ)

احرام کی حالت میں جماع کرنے سے احرام ختم نہیں ہوگا، جیسا کہ صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی امجد علی اعظی رحمۃ اللہ علیہ، بہار شریعت میں ارشاد فرماتے ہیں: جماع سے احرام نہیں جاتا، وہ بدستور مُحرِم ہے اور جو چیزیں مُحرِم کے لیے ناجائز ہیں وہ اب بھی ناجائز ہیں اور وہی سب احکام ہیں۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 6، صفحہ 1175، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابوحفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-2227
تاریخ اجراء: 15 جمادی الاول 1445ھ / 30 نومبر 2023ء