عورت کا شوہر کے بھائی یا ان کے بچوں کے ساتھ حج پر جانا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اپنے دیور، اس کے بیٹے اور اپنے نابالغ بچہ کے ساتھ حج پر جانے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
ایک بیوہ عورت ہے، ان کے سسر انہیں حج پر بھیجنا چاہتے ہیں، لیکن بیوہ عورت کے ساتھ کوئی بالغ محرم نہیں بلکہ ان کے مرحوم شوہر کے بھائی، شوہر کا بھتیجا اور اس بیوہ عورت کا چار سال کا نابالغ بیٹا ہے جو ساتھ حج پر جانا چاہتے ہیں، کیا وہ عورت اپنے نابالغ بچے اور شوہر کے بھائی اور شوہر کے بھتیجے کے ساتھ حج پر جاسکتی ہیں؟
جواب
اس عورت کا شوہر کے بھائی یا ان کے بچوں کے ساتھ حج پر جانا، جائز نہیں ہے کیونکہ دیور اور اس کے بچے عورت کے لیے نامحرم ہیں اور کسی بھی عورت کو شوہر یا محرم کے بغیر شرعی مسافت یعنی 92 کلومیٹر یا اس سے زائد سفر کرنا، جائز نہیں، خواہ وہ سفر حج و عمرہ کی غرض سے ہو یا کسی اور مقصد کے لیے ہو۔ نیز بطور محرم سفر کرنے کے لیے لڑکے کی کم از کم عمر 12 سال ہونا ضروری ہے جبکہ اس عورت کے بیٹے کی عمر 4 سال ہے جس کی وجہ سے بچہ بطور محرم کافی نہیں ہوگا۔
صحیح مسلم میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ”لا یحل لامرأۃ تؤمن باللہ و الیوم الاخر ان تسافر سفراً یکون ثلاثۃ ایام فصاعداً الا و معھا ابوھا او ابنھا او زوجھا او اخوھا او ذومحرم منھا“ یعنی جو عورت اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہے، اس کے لیے تین دن یا اس سے زیادہ کا سفر کرنا حلال نہیں، مگریہ کہ اس کے ساتھ اس کا باپ، بیٹا، شوہر، بھائی یا اس عورت کا کوئی محرم ہو۔ (صحیح مسلم، جلد 1، صفحہ 434، مطبوعہ: کراچی)
فتاوی رضویہ میں ہے: عورت اگرچہ عفیفہ یا ضعیفہ ہو، اسے بے شوہر یا محرم سفر کو جانا، حرام ہے ۔۔۔ اگر چلی جائے گی گنہگار ہوگی ہر قدم پر گناہ لکھا جائے گا۔ (فتاویٰ رضویہ ملتقطا، جلد 10، صفحہ 706 - 707، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: عورت کو مکہ تک جانے میں تین دن یا زیادہ کا راستہ ہو تو اس کے ہمراہ شوہر یا محرم ہونا شرط ہے، خواہ وہ عورت جوان ہو یا بڑھیا ۔۔۔ شوہر یا محرم جس کے ساتھ سفر کرسکتی ہے اس کا عاقل، بالغ، غیر فاسق ہونا شرط ہے ۔ ۔ ۔ مراہق و مراہقہ یعنی لڑکا اور لڑکی جو بالغ ہونے کے قریب ہوں بالغ کے حکم میں ہیں یعنی مراہق کے ساتھ جا سکتی ہے اور مراہقہ کوبھی بغیر محرم یا شوہر کے سفر کی ممانعت ہے۔ (بہار شریعت، جلد 1، صفحہ 1044 ۔ 1045، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا عابد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-1119
تاریخ اجراء: 07 ربیع الثانی 1445ھ / 23 اکتوبر 2023ء