logo logo
AI Search

کیا عورت اپنے جوان داماد کے ساتھ عمرہ یا حج پر جا سکتی ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جوان عورت کا جوان داماد کے ساتھ حج یا عمرہ پرجانا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا جوان عورت، جوان داماد کے ساتھ حج یا عمرہ پر جاسکتی ہے؟

جواب

بہ نظرحالات زمانہ و غلبہ فساد علمائے کرام نے فرمایا ہے کہ: جوان ساس کو داماد سے پردہ مناسب ہے اور جوان ساس کے ساتھ خلوت و سفر بھی اختیار نہ کرے۔ عورت کو چاہیے کہ حتی الامکان اپنے شوہر یا قابل اطمینان عاقل بالغ یا کم از کم مراہق قابل اعتماد محرم نسبی (جو نسب کی وجہ سے محرم ہے، اس) کے ساتھ سفر کرے۔ فتاوی رضویہ شریف میں ہے علماء نے لکھا ہے کہ جوان ساس کو داماد سے پردہ مناسب ہے۔ یہی حکم خسر اور بہو کا ہے۔ (فتاوی رضویہ شریف، جلد 22، صفحہ 240، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

مجلس شرعی کے فیصلے نامی کتاب میں ہے بہ نظرحالات زمانہ و غلبہ فساد یہ فیصلہ کیا گیا کہ:

عورت حتی الامکان اپنے شوہر یا قابل اطمینان محرم نسبی کے ساتھ سفر کرے اور جوان ساس اپنے داماد کے ساتھ، اسی طرح بہو اپنے جوان خسرکے ساتھ سفر نہ کرے۔ (مجلس شرعی کے فیصلے، ص 277، دار النعمان)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد ابوبکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-1557
تاریخ اجراء: 22 رمضان المبارک 1444ھ / 13 اپریل 2023ء