عمرہ کی سعی کرنے کے بعد اپنے روم میں جا کر حلق کروا سکتے ہیں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
افعال عمرہ سے فارغ ہو کر اپنے روم میں جا کر حلق کروانا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا عمرہ کی سعی کرنے کے بعد اپنے روم میں جا کر حلق کروا سکتے ہیں؟
جواب
جواب سے قبل تمہیداً یہ مسئلہ سمجھ لیجئے کہ احرام سے نکلنے کے لیے کیا جانے والا حلق یا تقصیر، حدودِ حرم کے اندر کروانا ضروری ہے، حدودِ حرم سے باہر کروانے کی صورت میں دَم لازم ہوگا، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر روم (رہائش گاہ) حدودِ حرم کے اندر اندر ہے، تو افعالِ عمرہ ادا کر لینے کے بعد روم میں جا کر بھی حلق یا تقصیر کروا سکتے ہیں، لیکن اگر روم حدودِ حرم سے باہر ہو، تو وہاں جا کر حلق یا تقصیر کروانا، جائز نہیں، اگر وہاں کروایا، تو دم لازم آئے گا۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد نوید چشتی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-1756
تاریخ اجراء: 30 ذو القعدۃ الحرام 1444ھ / 19 جون2023ء