logo logo
AI Search

رمی کرتے ہوئے رخ کس طرف ہونا چاہئے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جس طرف رخ کر کے کنکریاں مارنی چاہییں، اس طرف نہ کیا تو کیا کفارہ ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

مسئلہ یہ ہے کہ: جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارتے ہوئے قبلہ بائیں طرف ہونا چاہیئے اور باقی جمرات میں قبلہ رو ہو کر کنکریاں مارنی چاہیئں۔ سوال یہ ہے کہ: اگر کسی مقرر کردہ جہت کے علاوہ کسی اور رخ ہو کر کنکریاں ماریں، تو کیا کفارہ ہوگا؟

جواب

سنت طریقہ یہی ہے کہ جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارتے وقت قبلہ مارنے والے کے بائیں جانب ہو اور باقی جمرات میں کنکریاں مارتے وقت، مارنے والے کارخ قبلہ کی جانب ہو، لہذا ان جہتوں کی مخالفت خلاف سنت اور مکروہ ہے لیکن اس سے کوئی کفارہ لازم نہیں آئے گا۔

لباب و شرح لباب میں ہے ”(و حکمھا) ای حکم المکروھات (دخول النقص) ای نقص الثواب (فی العمل) ای الذی ترک فیہ المستحب (و خوف العقاب) ای و تحقق العقاب فیما ترک فیہ السنۃ المؤکدۃ ۔۔۔ (و عدم الجزاء فیما عدا الواجب)ای و عدم لزوم الجزاء من الدم او الصدقۃ فی ارتکاب شئی من المکروھات، بخلاف شئی من الواجبات“ ترجمہ: مکروہات کا حکم یہ ہے کہ جس عمل میں مستحب کو ترک کیا گیا اس عمل کے ثواب میں کمی آجاتی ہے اور جس میں سنت مؤکدہ کو ترک کیا گیا، وہاں عقاب لازم آتا ہے اور مکروہات میں سے کسی مکروہ کا ارتکاب کرنے کی وجہ سے دم یا صدقہ لازم نہیں آتا، برخلاف کسی واجب کے (کہ وہاں جرم کے اعتبار سے دم یا صدقہ لازم آتا ہے)۔ (لباب و شرح لباب، ص 107، 108، المکتبۃ الامدادیۃ، السعودیۃ)

لباب و شرح لباب میں ہے ”مکروھاتہ ۔۔۔ ترک الجھۃ المسنونۃ“ ترجمہ: رمی کے مکروہات: رمی میں جہتِ مسنونہ کو ترک کرنا مکروہ ہے۔ (لباب و شرح لباب، ص 353، المکتبۃ الامدادیۃ، السعودیۃ)

فتاوی رضویہ میں رمی کے مکروہات بیان کرتے ہوئے فرمایا: رمی کے لیے جو جہت مذکور ہوئی، اس کے خلاف کرنا۔ (فتاوی رضویہ، ج 10، ص 755، رضا فاونڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-1743
تاریخ اجراء: 26 ذو القعدۃ الحرام 1444ھ / 15 جون 2023ء