logo logo
AI Search

کیا نفلی طواف کے بعد دو رکعت پڑھنا اور سعی کرنا ضروری ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نفلی طواف کے بعد دو رکعت پڑھنے اور سعی کرنے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

عمرہ کی ادائیگی کے بعد نفلی طواف کئے جائیں، تو کیا اس صورت میں طواف کے بعد مقامِ ابراہیم پر دو رکعت پڑھنا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنا بھی لازم ہوگا؟ یا صرف طواف ہی کرنا ہوگا؟

جواب

نفلی طواف کے بعد دو رکعت پڑھنا واجب ہےاور اس کے لیے افضل مقام، مقام ابراہیم ہے ، لیکن نفلی طواف کے بعد سعی نہیں کی جائے گی اس لیے کہ سعی صرف حج و عمرہ کے واجبات میں سے ہے، نفلی طواف کے بعد سعی مشروع نہیں۔

علامہ ابنِ عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’و علیہ لکل اسبوع رکعتان، لباب، و اطلق الاسبوع فشمل طواف الفرض و الواجب و السنۃ و النفل“ ترجمہ: اور اس پر ہر سات چکروں کے بعد دو رکعت لازم ہیں، لباب، اور اسبوع کو مطلق رکھا تو یہ شامل ہے فرض، واجب، سنت اور نفل طواف کو۔ (رد المحتار، جلد 3، صفحہ 585، مطبوعہ: کوئٹہ)

رد المحتار میں ہے: ”و السعی من واجبات الحج و العمرۃ فقط و ھذا الطواف تطوّع فلا سعی بعدہ۔ قال فی الشرنبلالیۃ عن الکافی: لانّ التنفّل بالسعی غیر مشروع“ ترجمہ: سعی صرف حج و عمرہ کے واجبات میں سے ہے جبکہ یہ طواف نفلی ہے لہذا اس کے بعد سعی نہیں کریں گے، شرنبلالیہ میں کافی کے حوالے سے کہا کہ سعی اس لئے نہیں کریں گے کیونکہ نفلی سعی کرنا مشروع نہیں۔ (رد المحتار، جلد 3، صفحہ 590، مطبوعہ: کوئٹہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا فرحان احمد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-345
تاریخ اجراء: 16 ذو الحجۃ الحرام 1443ھ / 16 جولائی 2022ء