logo logo
AI Search

کیا مرد حالت احرام میں بوٹ پہن سکتا ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مرد کے لیے حالت احرام میں بوٹ پہننا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا مرد حالتِ احرام میں ایسے بوٹ وغیرہ پہن سکتا ہے، جن سے اوپر نیچے سے ٹخنوں سمیت پورا قدم ہی چھپ جاتا ہے؟

جواب

مرد کے لئے احرام کی حالت میں ایسے بوٹ وغیرہ پہننا شرعا جائز نہیں، جن سے قدم کے درمیان میں موجود ابھری ہڈی سے لے کر اوپر تک کا کوئی حصہ دائیں بائیں، سامنے یا پیچھے، کسی جانب سے چھپ جائے کیونکہ احرام کی حالت میں مرد کے لیے قدم کے درمیان والی ابھری ہڈی کو اور اس سے اوپر والے کسی حصے کو کسی بھی جانب سے چھپانے کی اجازت نہیں ہے، لہذا جس بوٹ وغیرہ سے قدم کے درمیان میں موجود ابھری ہڈی سے لے کر اوپر تک کا کوئی حصہ، کسی جانب سے چھپ جاتا ہے، مرد کے لیے اسے حالت احرام میں پہننے کی اجازت نہیں۔

صحیح البخاری میں ہے ”عن عبد اللہ بن عمر رضي اللہ عنهما، قال: قام رجل فقال: يا رسول اللہ ماذا تأمرنا أن نلبس من الثياب في الإحرام؟ فقال النبي صلى اللہ عليه و سلم: «لا تلبسوا القميص، و لا السراويلات، و لا العمائم، و لا البرانس إلا أن يكون أحد ليست له نعلان، فليلبس الخفين، و ليقطع أسفل من الكعبين“ ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنھما سے مروی ہے، آپ نے فرمایا کہ ایک آدمی نے عرض کی، یا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم! آپ ہمیں اس کے متعلق کیا حکم ارشاد فرماتے ہیں کہ ہم احرام میں کون سے کپڑے پہنیں؟ تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: قمیص، شلوار، عمامے اور قباء نہ پہنو اور اگر کسی کے پاس جوتے نہ ہوں تو وہ موزے پہن لے اور موزوں کو کعبین کے نیچے سے کاٹ لے۔ (صحیح البخاری، کتاب جزاء الصید، ج 3، ص 15، دار طوق النجاۃ)

مختصر الطحاوی میں ہے ”و من احرم من الرجال ۔۔۔ لا یلبس سراویل و لا خفا ۔۔۔ و من لم یجد نعلین فلیلبس خفین بعد ان یقطعھما اسفل من الکعبین“ ترجمہ: مردوں میں سے جو احرام باندھ لے تو وہ شلوار و موزے نہ پہنے اور جو شخص جوتے نہ پائے تو وہ موزوں کو کعبین سے نیچے کاٹنے کے بعد موزوں کو پہن لے۔ (مختصر الطحاوی، کتاب الحج، باب ما یجتنبہ المحرم، ص 67، 68، 69، مطبوعہ حیدر آباد دکن)

مجد الدین فیروزآبادی (المتوفی 817ھ ) القاموس المحيط میں کعب کے اطلاقات کے حوالے سے لکھتے ہیں: "كُلُّ مَفْصِلٍ لِلْعِظامِ، و العَظْمُ النّاشِزُ فَوْقَ القَدَمِ، و النّاشِزانِ من جانِبَيْها" ترجمہ: ہڈی کے ہر جوڑ، پاؤں کے اوپر ابھری ہوئی ہڈی، اور اس کے دونوں اطراف کی ابھری ہوئی ہڈیوں کو کو کعب کہتے ہیں۔ (القاموس المحیط، صفحہ 131، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت)

زین الدین بن ابراہیم بن محمد، المعروف علامہ ابن نجیم، مصری علیہ الرحمۃ (متوفی 970ھ) بحر الرائق میں فرماتے ہیں:  (قوله و لبس القميص و السراويل و العمامة و القلنسوة و القباء و الخفين إلا أن لا تجد النعلين فاقطعهما أسفل من الكعبين ۔۔۔) ۔۔۔ و الكعب هنا المفصل الذي في وسط القدم عند معقد الشراك فيما روى هشام عن محمد بخلافه في الوضوء فإنه العظم الناتئ أي المرتفع و لم يعين في الحديث أحدهما لكن لما كان الكعب يطلق عليه و على الثاني حمله عليه احتياطا، كذا في فتح القدير أي حمل الكعب في الإحرام على المفصل المذكور لأجل الاحتياط؛ لأن الأحوط فيما كان أكثر كشفا و هو قيما قلنا

 ترجمہ: (مصنف کا قول: اور قمیص، شلوار، عمامہ، ٹوپی، قباء اور موزوے پہننے سے بچے مگر جب تو جوتے نہ پائے تو موزوں کو کعبین کے نیچے سے کاٹ لے) اور کعب سے مراد یہاں وہ جوڑ ہے جو وسط قدم میں تسمہ باندھنے کی جگہ ہوتا ہے اس کے مطابق جو ہشام نے امام محمد سے روایت کیا بخلاف وضو کے کہ وہاں کعب سے مراد ابھری ہوئی ہڈی ہے اور حدیث میں ان دونوں میں سے کسی کو معین نہیں کیا گیا لیکن جب کعب کا اطلاق اس پر بھی اور دوسری ہڈی پر بھی ہوتا ہے تو اسی پر احتیاطا محمول کیا جائے گا جیسا کہ فتح القدیر میں ہے یعنی احرام میں کعب کو مذکورہ جوڑ پر محمول کرنا احتیاط کی بناء پر ہے کیونکہ زیادہ احتیاط اس میں ہے کہ زیادہ حصہ کھلا ہو اور وہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جو صورت ہم نے بیان کی۔ (بحر الرائق، کتاب الحج، باب الاحرام، ج 2، ص 348، دار الكتاب الإسلامي)

جد الممتارمیں امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ (متوفی 1340ھ) تحریر فرماتے ہیں: "و قد فسرا هاهنا بمعقد الشراك في وسط الرجل، و هو مفصل الساق و القدم فإذا بقي مكشوفا من كل جانب جاز ستر ما وقع تحته من الصدر و العقب و الأطراف جميعا" ترجمہ: اور ان ابھری ہڈیوں کی تفسیر یہاں پر یہ کی گئی ہے کہ جو قدم کے درمیان میں تسمہ باندھنے کی جگہ ہوتی ہے اور یہ پنڈلی و قدم کا جوڑ ہے پس جب یہ ہر جانب سے کھلا رہے تو جو اس کے نچلا حصہ ہے، اس کا چھپانا، جائز ہے چاہے وہ قدم کے سامنے کا حصہ ہو یا ایڑی ہو یا بقیہ تمام اطراف ہو۔ (جد الممتار، ج 04، ص 313، مکتبۃ المدینہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-1670
تاریخ اجراء: 03 ذو القعدۃ الحرام 1444ھ / 23 مئی 2023ء