کیا حج یا عمرہ کرنے والے کا اپنا حلق خود کرنا جائز ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حج یا عمرہ کرنے والے کا اپنا حلق خود کرنا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا حج یا عمرہ کرنے والا خود اپنا حلق کرسکتا ہے؟
جواب
جی ہاں! حج یا عمرہ کے مناسک ادا کرنے کے بعد جس شخص کے احرام کھولنے کا وقت ہو گیا ہو، تو وہ اپنا حلق یا تقصیر خود کرسکتا ہے، بلکہ کوئی اَور شخص جس کا احرام کھولنے کا وقت ہو گیا ہے، تو یہ اُس کا بھی حلق یا تقصیر کر سکتا ہے، مثال کے طور پر دو افراد عمرہ کر رہے تھے اور جب وہ طواف و سعی سے فارغ ہو گئے، اب صرف حلق یا تقصیر ہی کرنا ہے، تو یہ دونوں ایک دوسرے کا حلق یا تقصیر کر سکتے ہیں۔
لباب و شرح لباب میں ہے ”(و اذا حلق) ای المحرم (رأسہ) ای رأس نفسہ (أو رأس غیرہ) ای و لو کان محرما (عند جواز التحلل) ای الخروج من الاحرام بأداء أفعال النسک (لم یلزمہ شیٔ) الاولی: لم یلزمھما شیٔ“ ترجمہ: افعالِ حج کی ادائیگی کے بعد احرام سے نکلنے کے وقت محرم نے اپنے سر یا کسی دوسرے اگرچہ وہ بھی محرم ہو، اس کے سر کا حلق کیا تو دونوں پر کچھ بھی لازم نہیں ہوگا۔ (لباب و شرح لباب، باب، مناسک منی، فصل فی الحلق و التقصیر، ص 324، المکتبۃ الامدادیۃ، السعودیۃ)
27 واجبات حج اور ان کے تفصیلی احکام میں ہے کسی شخص کا احرام کھولنے کا وقت ہو گیا تو وہ اپنا حلق یا تقصیر خود کر سکتا ہے بلکہ کسی ایسے آدمی کا حلق یا تقصیر بھی کر سکتا ہے جس کا احرام ابھی نہ کھلا ہو لیکن احرام کھولنے کا وقت آگیا ہو مثلاً دو افراد عمرہ کر رہے تھے طواف و سعی سے فارغ ہو گئے اب صرف حلق یا تقصیر ہی کرنا ہے تو یہ دونوں ایک دوسرے کا حلق یا تقصیر کر سکتے ہیں۔ (27 واجبات حج اور ان کے تفصیلی احکام، ص 120، مکتبۃ المدینہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو الفیضان مولانا عرفان احمد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-1707
تاریخ اجراء: 14 ذو القعدۃ الحرام 1444ھ / 03 جون 2023ء