logo logo
AI Search

حج و عمرہ کیلئے جدہ والے احرام کہاں سے باندھیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جدہ کا رہائشی عمرے کا احرام کہاں سے باندھے گا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید پاکستانی شہری ہے، کام کے سلسلے میں فی الحال جدہ میں رہائش پذیر ہے۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ زید اگر جدہ میں اپنی رہائش گاہ سے ہی عمرے کا ارادہ کرے، تو اس صورت میں زید عمرے کا احرام کہاں سے باندھے گا؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں زید کے لیے بہتر ہے کہ وہ عمرے کا احرام اپنے گھر سے باندھے۔

مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ جدہ چونکہ میقات کے اندر واقع ہے اور میقات کے اندر رہنے والوں کے احرام کی جگہ حل یعنی بیرونِ حرم ہے، پس یہاں کے افراد اگر حج یا عمرے کا ارادہ کریں تو بیرونِ حرم یعنی حرم شروع ہونے سے پہلے کسی بھی جگہ میں حج یا عمرے کا احرام باندھ سکتے ہیں مگر اپنے گھر سے احرام باندھنا بہتر ہے۔

میقات کے اندر رہنے والوں کے احرام کی جگہ حل ہے۔ چنانچہ المختار میں ہے: ”و من كان داخل الميقات فميقاته الحل“ یعنی جو میقات کے اندر رہنے والا ہے، تو اس کی میقات حل ہے۔

مذکورہ بالا عبارت کے تحت الاختیار لتعلیل المختار میں ہے: "الذي بين الميقات و بين الحرم" یعنی حل سے مراد وہ جگہ ہے، جو میقات اورحرم کے درمیان ہے۔ (الاختيار لتعليل المختار، کتاب الحج، ج 01، ص 142، مطبعۃ الحلبی، القاھرۃ)

فتح باب العنایۃ میں ہے: (و ميقاته الحل) الذي بين الميقات و الحرم، إلا أنه يجوز الإحرام من دويرة أهله، بل هو أفضل۔ ترجمہ: میقات کے اندر رہنے والوں کے احرام کی جگہ حل یعنی میقات اور حرم کی درمیانی جگہ ہے مگر یہ کہ ان کا اپنے گھر سے احرام باندھنا جائز بلکہ افضل ہے۔ (فتح باب العناية بشرح النقاية، کتاب الحج، ج 01، ص 622، دار الأرقم، بیروت)

تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے: "(و حل لاھل داخلھا) یعنی لکل من وجد فی داخل المواقیت (دخول مکۃ غیر محرم) مالم یرد نسکا" یعنی داخلِ میقات شخص یعنی ہر وہ شخص جو میقات کے اندر موجود ہو، اس شخص کے لئے بغیر احرام کے مکہ میں داخل ہونا جائز ہے بشرطیکہ اس کا حج یا عمرہ کرنے کا ارادہ نہ ہو۔

(ما لم یرد نسکا) کے تحت رد المحتار میں ہے: اما ان ارادہ وجب علیہ الاحرام قبل دخولہ ارض الحرم فمیقاتہ کل الحل الی الحر مفتح۔ یعنی اگر اس کا حج یا عمرے کا ارادہ ہو، تو زمینِ حرم میں داخل ہونے سے پہلے اس پر احرام واجب ہے، پس اس (حلی) کی میقات تمام حِل ہے حرم تک ہے فتح القدیر۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الحج، مطلب فی المواقیت، ج 03، ص 553 - 554، مطبوعہ کوئٹہ)

بہارِ شریعت میں ہے: جو لوگ میقات کے اندر کے رہنے والے ہیں مگر حرم سے باہر ہیں اُن کے احرام کی جگہ حل یعنی بیرون حرم ہے، حرم سے باہر جہاں چاہیں احرام باندھیں اور بہتر یہ کہ گھر سے احرام باندھیں اور یہ لوگ اگر حج یا عمرہ کا ارادہ نہ رکھتے ہوں تو بغیر احرام مکہ معظمہ جاسکتے ہیں۔ (بہارِ شریعت، ج 01، ص 1068، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Nor-13073
تاریخ اجراء: 14 ربیع الثانی 1445ھ / 30 اکتوبر 2023ء