احرام میں وضو کے دوران چہرہ دھونا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
احرام میں چہرہ پر کچھ ٹچ کرنا منع ہے، تو وضو میں چہرہ کیسے دھوئیں
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
احرام کی حالت میں چہرے پر کچھ بھی ٹچ کرنا منع ہے، تو اگر وضو کی حاجت ہو تو منہ دھونے میں ہاتھ چہرے سے لگے گا ہی تو اس میں کیا کرنا ہوگا؟
جواب
احرام کی حالت میں وضو کرتے ہوئے چہرہ دھوتے وقت یا دعا کے بعد منہ پرہاتھ پھیرسکتے ہیں، اس میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ چہرے پر بغیر کسی کپڑے کے ہاتھ رکھنے یا پھیرنے کو عرف و عادت میں چہرہ چھپانا یا ڈھانپنا نہیں کہا جاتا۔ البتہ داڑھی ہونے کی صورت میں ہاتھ پھیرنے پر بالوں کے ٹوٹنے کا اندیشہ ہے، لہٰذا احرام کی حالت میں اس احتیاط کے ساتھ چہرے پر ہاتھ پھیرا جائے کہ کوئی بال نہ ٹوٹے۔
مباحات احرام یعنی احرام میں جائز امورکے متعلق لباب المناسک اور اس کی شرح میں ہے: (و وضع یدہ أو ید غیرہ علی رأسہ أو أنفہ) أی بالاتفاق لانہ لا یسمی لابسا للرأس و لا مغطیا للأنف‘‘ ترجمہ: اور اپنا یا دوسرے کا ہاتھ اپنے سر یا ناک پر رکھنا بالاتفاق جائز ہے کیونکہ اس کوسر ڈھانپنا نہیں کہا جاتا اور نہ ہی یہ ناک کو ڈھانپنا کہلاتا ہے۔ (لباب المناسک مع شرحہ، فصل فی مباحاتہ، صفحہ 136، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
رفیق الحرمین میں ایک سوال کے جواب میں ہے: (محرم دُعا مانگنے کے بعد اپنے ہاتھ مُنہ پر) پھیر سکتا ہے، منہ پر ہاتھ رکھنے کی مُطْلَقًا اجازت ہے، (البتہ) داڑھی والا اسلامی بھائی منہ پر بعدِ دُعابلکہ وُضو میں بھی اِس انداز میں (چہرے پر) ہاتھ مَلنے سے بچے جس سے بال گرنے کا اندیشہ ہو۔ (رفیق الحرمین، صفحہ 310، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2465
تاریخ اجراء: 22 ربیع الاول 1447ھ / 16 ستمبر 2025ء