logo logo
AI Search

احرام کے بغیر میقات سے گزرنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

بغیر احرام مکہ شریف جانے اور عمرہ کیے بغیر پاکستان آنے والے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

عندالشرع جوآفاقی شخص مکہ شریف حدود حرم میں جانے کا ارادہ رکھتاہو اگرچہ حج وعمرہ کے علاوہ کسی اور کام سے ہی ہو، اس کے لیے میقات سے احرام باندھنا ضروری ہے اور بغیر احرام کے میقات سے گزرنا حرام ہے اور اگرکوئی بغیر احرام کے وہاں سے گزر جائے تو اس پر احد النسکین (حج یا عمرہ میں سے کوئی ایک) اور ایک دم لازم ہوتا ہے۔ اور اس پر واجب ہوتا ہے کہ مواقیت میں سے کسی ایک میقات پر واپس جاکر احرام باندھ کر آئے اگرچہ وہ اس کی اپنی میقات نہ ہو۔ پھر اگر وہ اسی سال (یعنی ایام نحر وتشریق گزرنے سے پہلے پہلے) میقات کی طرف جاکر احرام باندھ لے، خواہ کسی بھی نیت کے ساتھ باندھے، یہاں تک کہ فرض حج کی نیت سے باندھ لے، تودم بھی ساقط ہوجاتاہے اوروہ عمرہ یاحج، جو اس پرلازم ہواتھا،وہ بھی ذمہ سے اتر جاتا ہے البتہ اگروہ شخص اسی سال میقات کی طرف نہیں لوٹتا، آئندہ کسی اور سال جاتا ہے تو اب خاص اس عمرہ یاحج کی نیت کرےگا جو بغیراحرام میقات عبورکرنے سے اس پرلازم ہواتھا، تودم سے اور اس عمرہ یاحج سے بری الذمہ ہوگااور اگر خاص بغیر احرام میقات سے گزرنے کے باعث لازم آنے والے حج یا عمرہ کے ارادے سےمیقات سے احرام باندھ کر نہیں آئے گا تو نہ دم سے اور نہ اس حج یا عمرے سے بری الذمہ ہوگا لہذا صورت مسئولہ میں آپ کے والد صاحب پر مدینہ شریف سے مکہ شریف آتے ہوئے میقات سے احرام باندھنا لازم تھا اور اگر وہ بغیر احرام گزر ہی گئے تھے تو ان پر واجب تھا کہ وہ مواقیت میں سے کسی ایک میقات پر واپس جاکر احرام باندھ کرآتے لیکن جب انھوں نے ایسا نہیں کیا اور اسی طرح وطن واپس آگئے ہیں تواب ان پر لازم ہے کہ حج یا عمرے کے ارادے سے میقات سے احرام باندھ کر مکہ جائیں اور جس کا احرام باندھا ہو وہ بجالائیں پھراگراسی سال چلے جاتے ہیں توخاص اس لازم شدہ کی نیت کے بغیر بھی بلا احرام میقات سے گزرنے کے باعث لازم آنے والا حج یاعمرہ ادا ہوجائے گا اور دم بھی ساقط ہوجائے گا اور اگر آئندہ کسی سال جائیں گے تو بغیر احرام میقات سے گزرنے کے باعث لازم آنے والےخاص حج یا عمرہ کی نیت سے حج یا عمرہ کا احرام میقات سےباندھ کر بجالانے سے بری الذمہ ہونگے اور دم بھی ساقط ہوجائے گااور بہر صورت وہ گناہ گار ہوئے ان پر توبہ کرنا بھی واجب ہے۔

معرفۃ السنن و الآثار للبیہقی کی حدیث پاک میں ہے ”و لا یجاوز المیقات إلا محرما“ ترجمہ: میقا ت سے بغیراحرام کے گزرنا، جائز نہیں ہے۔ (معرفۃ السنن و الاثار للبیہقی، جلد 07، صفحہ 99، دار الوفاء، المنصورة، القاهرة، مصر)

فتح القدیرمیں ہے ”الآفاقی اذا انتہی الیہا علی قصد دخول مکۃ فعلیہ أن یحرم سواء قصد الحج أو العمرۃ أو لم یقصد عندنا، لقولہ علیہ الصلاۃ و السلام: ”لا یجاوز أحد المیقات إلا محرما“ و لأن وجوب الإحرام؛ لتعظیم ہذہ البقعۃ الشریفۃ فیستوی فیہ التاجر و المعتمر و غیرہما“ ترجمہ: آفاقی جب مکہ میں داخل ہونے کےقصد سے میقات پر آجائے تو چاہے حج کا ارادہ ہو یا عمرہ کا یا ارادہ نہ ہو تو ہمارے نزدیک اس پر احرام باندھنا لازم ہے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اس فرمان کی وجہ سے کہ: ”میقات سے کوئی بھی بغیر احرام کے نہ گزرے۔“ کیونکہ اس ارض مقدسہ کی تعظیم کی وجہ سے احرام واجب ہے اس میں تاجر، عمرہ کرنے والے اور ان کے علاوہ سب برابر ہیں۔ (فتح القدیر، جلد 3، صفحہ 111، دار الفکر، بیروت)

تنویرالابصار مع الدرالمختار میں ہے ”(و حرم تأخير الإحرام عنها لمن) أي لآفاقي (قصد دخول مكة) يعني الحرم (و لو لحاجة) غير الحج“ ترجمہ: ہر وہ آفاقی شخص جس کا مکۃ المکرمہ حدودحرم میں جانے کا اراد ہواگرچہ حج کے علاوہ کسی اور کام سے اس کے لیے حرام ہے کہ وہ میقات سے احرام کو موخر کرے یعنی میقات سے بغیر احرام باندھے گزرجائے۔ (تنویر الابصار مع الدر المختار، کتاب الحج، فی المواقیت، جلد 3، صفحہ 551، مطبوعہ کوئٹہ)

مذکورہ بالا عبارت کے تحت علامہ شامی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں: ”فعليه العود إلى ميقات منها وإن لم يكن ميقاته ليحرم منه، و إلا فعليه دم“ ترجمہ: جو کوئی بغیر احرام کے میقات سے گزر گیا پس اس پر ان مواقیت میں سے کسی ایک میقات کی طرف لوٹ کر جانا واجب ہے تاکہ وہاں سے احرام باندھے اگرچہ وہ اس کی اپنی میقات نہ ہواور اگر اس نے ایسا نہ کیا تو اس پر دم لازم ہے۔ (ردالمختار، کتاب الحج، فی المواقیت، جلد 3، صفحہ 551، مطبوعہ کوئٹہ)

حرم مکہ کے ارادے سے آنے والا آفاقی اگر میقات سے احرام کے بغیر گزر جائے تو اس پر دوچیزیں لازم آتی ہیں: ایک دم اور دوسرا نسک یعنی ایک حج یا عمرہ، چنانچہ علامہ شامی رحمۃاللہ علیہ ا یک مسئلے کے ضمن میں ردالمحتار میں لکھتے ہیں: ”لأن الواجب عليه بدخول مكة بلا إحرام أمران: الدم و النسك“ ترجمہ: کیونکہ بغیر احرام مکہ میں داخل ہونے کی وجہ سے اس پر دو امور لازم ہوئے تھے (1) دم (2) حج یا عمرہ۔ (رد المحتار مع الدر المختار، باب جنایات الحج، ج 02، ص 583، دار الفکر، بیروت)

ملارحمت اللہ سندھی حنفی ”لباب المناسک“میں اور ملاعلی قاری اس کی شرح میں لکھتے ہیں ”و من دخل“ ای من اھل الآفاق ”مکۃ“ او الحرم ”بغیر احرام فعلیہ احد النسکین“ای من الحج اوالعمرۃ، و کذا علیہ دم المجاوزۃ او لعود ”فان عاد الی میقات من عامہ فاحرم“ بحج فرض ”ای اداء“ او قضاء او نذر او عمرۃ نذر ”او قضاء“ و کذا عمرۃ سنۃ و مستحبۃ ”سقط بہ“ ای تلبیتہ للاحرام من الوقت ”مالزمہ بالدخول من النسک“ ای الغیر المتعین، ”و دم المجاوزۃ و ان لم ینو“ ای بالاحرام ”عما لزمہ ای بالخصوص لان المقصود تحصیل تعظیم البقعۃ، و ھو حاصل فی ضمن کل ما ذکر، و ھذا استحسان، و القیاس ان لا یسقط و لا یجوز الا ان ینوی ما وجب علیہ للدخول و ھو قول زفر: کما لو تحولت السنۃ، فانہ لایجزیہ الا بالاتفاق عما لزمہ الا بتعیین النیۃ، و لعل الفرق بین الصورتین عند الائمۃ الثلاثۃ ان السنۃ الاولی کالمعیار لما التزمہ، فیندرج فی ضمن مطلق النیۃ و مقیدھا بخلاف السنۃ القابلۃ لانھا لیست لماذکرنا ہ قابلۃ

 یعنی اہل آفاق میں سے جو مکہ یا حرم بغیر احرام کے داخل ہو ا تو اس پر دو نُسک یعنی حج و عمرہ میں سے ایک لازم ہے، اور اسی طرح بغیر احرام کے میقات سے گزرنے کا دم یا میقات کو احرام کے لیے لوٹنا لازم ہے، پس اگر وہ اسی سال میقات کو لوٹا پھر وہاں سے حج فرض ادا یا قضا یا نذر یا عمرہ نذر یا قضا کا احرام باندھا، اسی طرح عمرہ سنت یا عمرہ مستحبہ کا احرام باندھا تو میقات سے احرام کی تلبیہ کہنے سےاس پر جو غیر متعین نسک (حج یا عمرہ)بغیر احرام داخل ہونے کے سبب لازم ہوا تھا وہ ساقط ہوگیااور بغیر احرام کے میقات سے گزرنے کا دم (بھی)ساقط ہوگیا، اگرچہ اس نے اسی احرام میں خصوصا اسی کی نیت نہ کی جو اسے لازم ہوا، کیونکہ مقصد تو (اس)خطہ کی تعظیم کا حصول ہے اور وہ سب (یعنی حج و عمرہ ادا و قضا، نذرو سنت) کے ضمن میں حاصل ہوجاتا ہے اور یہ استحساناً ہے اور قیاس یہ ہے کہ ساقط نہ ہو اور اس کی نیت کیے بغیر جائز نہ ہو جو حرم میں بغیر احرام کے داخل ہونے کے سبب واجب ہوا، یہ امام زفر کا قول ہے جیسا کہ سال بدل جائے تو اس وقت اس کے ذمہ جو (عبادت حج یا عمرہ)لازم ہوا تھا وہ نیت کی تعیین کے بغیر بالاتفاق جائز نہ ہوگا۔ دونوں صورتوں (یعنی بلااحرام میقات سے گزرنے کے بعد اسی سال واپس میقات سے احرام باندھنے اور دوسری صورت یہ ہے کہ دوسر ےسال میقات سے احرام باندھنے) میں ائمہ ثلاثہ کے نزدیک فرق شاید یہ ہے کہ جس کا اس شخص سے التزام کیا ہے ،پہلا سال اس کے لیے مثل معیار کے ہے تو وہ مطلق اور مقید نیت (دونوں) کے تحت داخل ہوگا،بخلاف آئندہ سال کے کہ یہ سال اسے قبول کرنے والا نہیں جسے ہم نے ذکر کیا۔ (المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط،فصل فی مجاوزۃ المیقات بغیر احرام، صفحہ 98،دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

تحفۃ الفقہاء میں ہے ”ثم الآفاقي إذا لزمه الحج أو العمرة بسبب مجاوزته الميقات في دخول مكة من غير إحرام فأحرم في تلك السنة لما وجب عليه بسبب المجاوزة أو لحجة الإسلام أو للحجة التي وجبت عليه بسبب النذر فإنه يسقط عنه ما وجب عليه بسبب المجاوزة ۔ ۔ ۔ و لو تحولت السنة لا يسقط عنه إلا بتعيين النية بالإجماع لأنه صار دينا عليه فلا بد من تعيين النية“ ترجمہ: پھر آفاقی پر جب مکہ میں داخل ہونے کے لئے میقات سے بغیر احرام گزرنے کی وجہ سے حج یا عمرہ لازم ہوا اور اس نے اسی سال، اس لازم ہونے والے حج یا عمرے یا فرض حج یا اپنے اوپر منت کی وجہ سے واجب حج کی نیت سے احرام باندھا تو میقات سے بغیر احرام گزرنے کے سبب لازم ہونے والا حج یا عمرہ بھی ساقط ہو جائے گا اور اگر یہ سال گزر گیا تو متعین کئے بغیر بالاجماع ساقط نہ ہوگا کیو نکہ وہ اس کے ذمہ دَین بن چکا ہے تو تعیینِ نیت ضروری ہے۔ (تحفۃ الفقہاء، کتاب المناسک، باب الاحرام، ج 1، ص 398، دار الكتب العلمية، بيروت)

یہاں اسی سال جانے سے مراد ایام نحر وتشریق گزرنے سے پہلے پہلےجا کر کرنا ہے اور اگر ایام نحر و تشریق کے بعدگیا تو اگلا سال شمار ہوگا چنانچہ البحر الرائق شرح کنزالدقائق میں بغیر احرام میقات سے گزرنے والے کے اسی سال اور آئندہ سال آنے کے حوالے سے مسائل بیان کرتے ہوئےلکھا ہے ”فإن قلت: سلمنا أن الحجة بتحول السنة تصير دينا، و لكن لا نسلم أن العمرة تصير دينا؛ لأنها غير مؤقتة قلت: لا شك أن العمرة يكره تركها إلى آخر أيام النحر والتشريق فإذا أخرها إلى وقت يكره صار كالمفوت لها فصارت دينا كذا في غاية البيان“ ترجمہ: پس اگر آپ یہ کہیں کہ ہم یہ تو تسلیم کرتے ہیں کہ سال بدل جانے سے حج ذمہ پر دین ہو جاتا ہے لیکن یہ تسلیم نہیں کرتے کہ عمرہ بھی دین ہوجاتا ہے کیونکہ عمرہ غیر موقت عبادت ہے۔ تو میں کہتا ہوں: بیشک عمرے کو ایام نحر وتشریق کے آخر تک چھوڑے رکھنا مکروہ ہے پس جب اسےمکروہ وقت تک موخر کیا تو یہ اسے فوت کرنے کی طرح ہوگیا پس وہ دین ہوگیا جیسا کہ غایۃ البیان میں ہے۔ (البحر الرائق شرح کنز الدقائق، باب مجاوزۃ المیقات بغیر احرام، جلد 3، صفحہ 53، مطبوعہ بیروت)

فتاوی حج و عمرہ میں ہے ”ایک شخص پاکستان سے عمر ہ کرنے کے ارادہ سے مکہ مکرمہ آیا اس نے وہیں سے عمرہ کا احرام باندھا تھا مکہ مکرمہ آکر عمر ہ ادا کیا پھر مدینہ منو رہ چلا گیا، وہاں سے واپس مکہ بغیر احرام کے آیا، یہاں اس نے کوئی عمرہ بھی ادا نہ کیا اس طرح وہ جدہ، وہاں سے کراچی پاکستان چلا گیا، اس صورت میں اس پر کوئی دم و غیرہ لا زم ہوگا یا نہیں؟

الجواب: ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ صورت مسئولہ میں اس شخص پر لازم ہے وہ مکہ کو حج یا عمرہ کے احرام کے ساتھ آئے، اگر اسی سال آ تا ہے تو تعین ضروری نہیں، اس سے حج یا عمرہ کا احرام آنا اور دم دونوں ساقط ہو جائیں گے اور اگر اس سال نہیں آ تا تو سقوطِ نُسک و دم کے لئے تعین نیت ضروری ہو گا اور ہر صورت میں توبہ لازم ہوگی۔ (فتاوی حج و عمرہ، ج 1، ص 116، 120، جمعیت اشاعت اہلسنت، پاکستان)

البحرالعمیق میں ہے ”و الدم شاۃ اوسبع بدنۃ صفتھا صفۃ الاضحیۃ“ اور دم بکری یابدنہ( گائے اونٹ) کاساتواں حصہ ہے اس کے اوصاف وہی ہیں جو قربانی کے جانور میں ہوتے ہیں۔ (البحرالعمیق، جلد 2، صفحہ 822، مطبوعہ موسسۃ الریان، المکتبۃالمکیہ)

مبسوط للسرخسی میں ہے ”کل دم وجب علیہ بطریق الکفارۃ فی شیء من أمر الحج أو العمرۃ فإنہ لا یجزئہ ذبحہ إلا فی الحرم“ ترجمہ: ہر وہ دم جو حج یا عمرے کے امور میں سے کسی شی کے بدلے میں بطور کفارہ واجب ہو تو اس کا حرم کے سوا کسی اور جگہ ذبح کر نا کافی نہیں۔ (مبسوط للسرخسی، کتاب الحج، باب الحلق، جلد 4، صفحہ 75، دار المعرفۃ بیروت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی 
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری 
فتویٰ نمبر: JTL-0867
تاریخ اجراء: 25 شعبان المعظم 1444ھ / 18 مارچ 2023ء