حج و عمرہ کے دم کے گوشت کا حکم؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حج و عمرہ میں لازم ہونے والے دم کا گوشت کون کھا سکتا ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
میں سعودی عرب میں کام کے سلسلے میں مقیم ہوں، میں شرعی فقیر (یعنی زکوۃ کا حقدار) نہیں ہوں۔ مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ یہاں جب لوگ حج و عمرہ کیلئے آتے ہیں تو بعض اوقات اُن پر دم لازم ہوتا ہے، تو اِن میں سے بعض لوگ میرے جاننے والے ہوتے ہیں جو دم کی ادائیگی کی بعد، دم کی قربانی کا گوشت مجھے دیدیتے ہیں، تو کیا اس صورت میں وہ گوشت میرے لئے کھانا جائز ہے؟ اسی طرح ایک اور صورت بھی ہوتی ہے وہ یہ کہ بعض لوگ وہ گوشت قصاب کو ہی دیدیتے ہیں تو میں قصاب کے پاس جاکر اُنہیں پیسے دے کر اپنے کھانے کیلئے اُن سے وہ گوشت خرید لیتا ہوں۔ کیا میرا اس طرح دم کا گوشت خرید کر کھانا درست ہوگا؟
جواب
دم کی قربانی کا گوشت خاص فقراء کا حق ہے، دم دینے والے پراُس گوشت کو شرعی فقیر پر صدقہ کرنا واجب ہے۔ قربانی کرنے والا خود اگرچہ فقیر ہو، اُس گوشت کو نہیں کھاسکتا، یونہی جو شخص شرعی فقیر نہ ہو اُسے بھی اُس گوشت کو کھانا جائز نہیں۔ البتہ اگر دم کی قربانی دینے والا وہ گوشت کسی شرعی فقیر پر صدقہ کردے یا قصاب کے شرعی فقیر ہونے کی صورت میں قصاب ہی کو اجرت کے علاوہ میں وہ گوشت دیدے اور پھر یہ لوگ کسی ایسے شخص کو جو شرعی فقیر نہ ہو، یہ گوشت ہبہ کردیں یا بیچ دیں، تو اب غیر مستحق شخص کیلئے اُس گوشت کا لینا اور اُسے کھانا جائز ہوگا۔
اس تفصیل کے بعد پوچھی گئی صورت کا حکم واضح ہوگیا کہ پہلی صورت میں آپ کا اس طرح براہ راست دم دینے والے سے گوشت لینا اور اور اس کو کھانا جائز نہیں۔ نیز جن لوگوں کو معلوم تھا کہ آپ شرعی فقیر نہیں ہیں اور اس کے باوجود انہوں نے آپ کو وہ گوشت دیا تو شرعاً ان کا بھی ایسا کرنا جائز نہیں ہوا، ایسے لوگ گنہگار ہیں ان پر توبہ لازم ہے، اور (آپ کا شرعی فقیر ہونا وہ جانتے ہوں یا نہیں) بہرحال ان لوگوں پر اُس گوشت کی قیمت کا تاوان بھی لازم ہوگا جسے فقراء پر صدقہ کرنا لازم ہے۔ اور رہی دوسری صورت جس میں وہ لوگ اپنی مرضی سے قصاب کو گوشت دیدیتے ہیں اور پھر آپ اُن سے گوشت خرید لیتے ہیں تو اس صورت میں آپ کا اس طرح دم کا گوشت خریدنا اور اُسے کھانا ہر دو امور شرعاً جائز ہیں، اس میں کوئی حرج نہیں۔
دم دینے والا خود اور جو شخص شرعی فقیر نہ ہو، دم کی قربانی کا گوشت نہیں کھا سکتے، جیسا کہ لباب المناسک اور اسکی شرح میں ہے: ’’(و کل دم وجب جبراً لا یجوز لہ الأکل منہ) و لو کان فقیراً (و لا للأغنیاء و یجب التصدق بجمیعہ حتی لو استھلکہ بعد الذبح) أی کلہ أو بعضہ (لزمہ قیمتہ) أی للفقراء فیتصدق بھا علیھم‘‘ ترجمہ: ہر وہ دم جو جبری طور پر واجب ہو، تو اس میں سے دم دینے والے کو اگرچہ وہ فقیر ہو اور غنی شخص کو کھانا جائز نہیں اوردم دینے والے پر اس کا سارا گوشت صدقہ کرنا واجب ہے یہاں تک کہ اگر ذبح کر دینے کے بعد دم کے جانور کو پورا یا اس کا بعض حصہ صرف کرڈالا تو فقراء کیلئے اس کی قیمت لازم ہوگئی لہذا اب اس قیمت کو فقراء پر صدقہ کردے۔ (لباب المناسک مع شرحہ، باب الھدایا، صفحہ 665، مطبوعہ مکۃ المکرمۃ)
اگر کوئی دم کا گوشت کسی شرعی فقیر کو دے، اور پھر شرعی فقیر کسی غنی شخص کو ہبہ کردے یا بیچ دے تو اس صورت میں غیر فقیر شخص کیلئے اس گوشت کا کھانا جائز ہوگا، جیسا کہ لباب المناسک اور اس کی شرح میں ہے: ’’(لو اعطاہ) أی المتصدق لحم ھدیہ (لغنی لم یجز) بخلاف الفقیر فانہ اذا أخذہ و وھبہ لغنی أو باعہ ایاہ جاز، لما فی حدیث بریرۃ‘‘ ترجمہ: اگر صدقہ کرنے والا اپنے دم کی قربانی کا گوشت کسی غنی کو دے تو یہ جائز نہیں، بخلاف فقیر کے کہ جب فقیر اس گوشت کو وصول کرلے اور پھر وہ کسی غنی کو ہبہ کردے یا اس کو بیچ دے تو یہ جائز ہے۔ اس دلیل کی وجہ سے جو حدیثِ بریرہ میں ہے۔ (لباب المناسک مع شرحہ، باب فی جزاء الجنایات و کفاراتھا، فصل فی احکام الدماء، صفحہ 555، مطبوعہ مکۃ المکرمۃ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-1825
تاریخ اجراء: 29 ذو الحجۃ الحرام 1444ھ / 18 جولائی 2023ء