logo logo
AI Search

نفلی حج کرنا افضل ہے یا نفلی صدقہ کرنا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نفلی حج افضل ہے یا نفلی صدقہ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص نے اپنا فرض حج ادا کر لیا ہے، اب وہ نفل حج کرنا چاہتا ہے، تو کیا نفلی حج کرنا افضل ہے یا کسی حاجت مند کی حاجت روائی کرنا افضل ہے؟

جواب

نفلی کاموں میں سے کونسا نفلی کام افضل ہے، اس بارے میں فقہائے اسلام نے قاعدہ بیان کیا ہے کہ جس نفلی کام کی حاجت و ضرورت زیادہ ہو وہ افضل ہے، لہذا اگر کسی علاقے میں مسافر خانے یا پُل وغیرہ کی زیادہ حاجت ہو، تو یہ بنانا نفلی حج سے افضل ہے، جبکہ نفلی حج، عام صدقات سے افضل ہے، البتہ اگرکوئی شخص بہت حاجت مند اور تکلیف میں ہے یا نیک لوگوں میں سے کوئی ضرورت مند ہے یا ساداتِ کرام میں سے کوئی محتاج ہے، تو اس کی مدد کرنا نفلی حج سے افضل ہے، جیسا کہ رد المحتار میں ہے: ”قال الرحمتی: و الحق التفصیل، فما کانت الحاجة فیہ أکثر و المنفعة فیہ أشمل فھو الأفضل کما ورد حجة أفضل من عشر غزوات و ورد عکسہ فیحمل علی ما کان أنفع، فاذا کان أشجع و أنفع فی الحرب فجھادہ أفضل من حجہ أو بالعکس فحجہ أفضل و کذا بناء الرباط ان کان محتاجا الیہ کان أفضل من الصدقة و حج النفل و اذا کان الفقیر مضطرا أو من أھل الصلاح أو من آل بیت النبی صلی اللہ علیہ و سلم فقد یکون اکرامہ أفضل من حجات و عمر و بناء ربط“ ترجمہ: علامہ رحمتی نے فرمایا: حق یہ ہے کہ اس مسئلہ میں تفصیل ہے: وہ یہ کہ جس کی حاجت زیادہ ہو اور نفع زیادہ ہو، تو وہ افضل ہے، جیساکہ روایت میں ہے کہ ایک حج دس غزوات سے افضل ہے اور اس کا عکس بھی مروی ہے، اسی طرح اگر مسافر خانہ کی حاجت ہو، تو مسافر خانہ بنانا صدقہ اور نفلی حج کرنے سے افضل ہے اور جب فقیر مجبور ہو یا نیک لوگوں میں سے ہو یا حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و الہ و سلم کے اہل بیت میں سےہو، تو اس کی عزت افزائی نفلی حج و عمرہ اور مسافر خانہ بنانے سے افضل ہے۔ (رد المحتار مع الدر المختار، کتاب الحج، مطلب فی تفضیل الحج علی الصدقة، جلد 4، صفحہ 55، مطبوعہ کوئٹہ)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی لکھتے ہیں: مسافر خانہ بنانا، حج نفل سےافضل ہے اور حج نفل صدقہ سے افضل یعنی جبکہ اس کی زیادہ حاجت نہ ہو، ورنہ حاجت کے وقت صدقہ حج سے افضل ہے۔ علامہ شامی نے نہایت نفیس حکایت اس بیان میں نقل فرمائی کہ ایک صاحب ہزار اشرفیاں لے کر حج کو جارہے تھے، ایک سیّدانی تشریف لائی اوراپنی ضرورت ظاہر فرمائی، تو انہوں نے سب اشرفیاں نذر کردیں اور واپس آئے، جب وہاں کے لوگ حج سے واپس ہوئے، تو ہر حاجی ان سے کہنے لگا، اللہ (عزوجل) تمہارا حج قبول فرمائے، انہیں تعجب ہوا کہ کیا معاملہ ہے، میں تو حج کو گیا نہیں، یہ لوگ ایسا کیوں کہتے ہیں؟ خواب میں زیارتِ اقدس (صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم) سے مشرف ہوئے، ارشاد فرمایا: کیا تجھے لوگوں کی بات سے تعجب ہوا؟ عرض کی، ہاں یا رسول اللہ! (عز و جل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم) فرمایا کہ تو نے جو میری اہلبیت کی خدمت کی، اس کے عوض میں اللہ عزوجل نے تیری صورت کا ایک فرشتہ پیدا فرمایا، جس نے تیری طرف سے حج کیا اور قیامت تک حج کرتا رہے گا۔ (بھار شریعت، جلد 1، صفحہ 1216، مکتبة المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا عبد الرب شاکر عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Sar-7190
تاریخ اجراء: 16 جمادی الثانی 1442ھ / 30 جنوری 2021ء