logo logo
AI Search

حج تمتع میں حج کا احرام کہاں سے باندھیں گے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حج تمتع کرنے والا شخص حج کا احرام کہاں سے باندھے گا ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ حج تمتع کرنے والا شخص اگر عمرہ کی ادائیگی کے بعد مکہ میں ہو تو حج کا احرام کہاں سے باندھے گا؟ رہنمائی فرمادیں۔ سائل: محمد عادل (گول پلاٹ، ملتان)

جواب

حجِ تمتع کرنے والا شخص عمرہ کی ادائیگی کے بعد مکہ میں موجود ہو تو اس کیلئے حج کے احرام کا مقام حرم ہے یعنی پورے حرم میں کسی بھی جگہ سے احرام باندھ سکتا ہے، البتہ افضل اور بہتر یہ ہے کہ مسجدِ حرام سے احرام باندھے۔ وجہ یہ ہے کہ ایسا شخص اگرچہ حرم کا رہائشی تو نہیں مگر حرم میں داخل ہونے کی وجہ سے حرم میں رہنے والے کے حکم میں ہے اور جو شخص حرم میں رہنے والا ہو یا حرم میں رہنے والے کے حکم میں ہو اس کیلئے حج کے احرام کا مقام حرم ہے۔

لباب المناسک اور اسکی شرح میں ہے: "(من کان منزلہ فی الحرم) کسکان مکۃ ومنی (فوقتہ الحرم للحج) ومن المسجد افضل (وکذلک) أی مثل حکم اھل الحرم (کل من دخل الحرم من غیر اھلہ، کالمفرد بالعمرۃ والمتمتع) أی من اھل الافاق" جس کا گھر حرم میں ہو جیسے مکہ اور منی کے رہائشی، تو ان کیلئے حج کے احرام کی جگہ حرم ہے اور مسجد الحرام سے احرام باندھنا افضل ہے، اسی طرح وہ لوگ جو مکہ میں رہتے نہیں اور وہ حرم میں داخل ہو جائیں، تو وہ بھی حج کے احرام میں مکہ والوں کے حکم میں ہیں جیسے صرف عمرہ کرنے والے اور میقات کے باہر سے حج تمتع کیلئے آنے والے۔ ملخصا۔ (لباب المناسک مع شرح مناسک، ص 93، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)

بدائع الصنائع میں ہے: "وأما الصنف الثالث فميقاتهم ‌للحج: ‌الحرم، فيحرم المكي من دويرة أهله للحج أو حيث شاء من الحرم، لكن من المسجد أولى وكذلك من حصل في الحرم من غير أهله فأراد الحج فحكمه حكم أهل الحرم فإذا أراد أن يحرم للحج أحرم من دويرة أهله أو حيث شاء من الحرم" رہی تیسری قسم، تو ان کی میقات حج کے لیے حرم ہے۔ پس مکی شخص حج کے لیے اپنے گھر سے یا حرم کی جس جگہ سے چاہے احرام باندھے، لیکن مسجدِ حرام سے باندھنا اولی ہے۔ اسی طرح جو حرم کا رہنے والا نہ ہو اور وہ حرم میں آئے اور وہ حج کرنا چاہے، تو اس کا حکم اہلِ حرم جیسا ہی ہے، لہٰذا اگر وہ حج کا احرام باندھنا چاہے تو اپنے ٹھہرنے کی جگہ سے یا حرم کی جس جگہ سے چاہے احرام باندھے۔" ملخصا۔ (بدائع الصنائع، ج3، ص 166 تا 167، مطبوعہ کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے: "حرم کے رہنے والے حج کا احرام حرم سے باندھیں اور بہتر یہ کہ مسجد الحرام شریف میں احرام باندھیں" (بھار شریعت، ج 01، ص 1068، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)

یاد رہے کہ حجِ تمتع کرنے والا شخص عمرہ سے فارغ ہونے کے بعد اگر حرم کی حدود سے باہر میقات کے اندر رہے یا میقات پر رہے تو اس کے لیے احرام کا مقام حل یعنی حرم کی حدود کے باہر والا حصہ ہوگا اور اگر میقات سے باہر رہے تو اس کے لیے احرام کی جگہ میقات ہوگی۔

حج تمتع کرنے والے شخص کے متعلق رد المحتار میں ہے: "إن أقام بها حج كأهلها ‌فميقاته ‌الحرم، وإن أقام بالمواقيت أو داخلها حج كأهلها، فميقاته الحل، وإن أقام خارج المواقيت أحرم فيها كذا في القهستاني" اگر وہ مکہ میں رہے تو وہاں والوں کی طرح حج کرے گا اور اس کی میقات حرم ہوگی اور اگر وہ نفسِ میقات یا میقات کے اندر (مگر حرم سے باہر) رہے تو وہاں والوں کی طرح حج کرے گا اور اس کی میقات حل ہوگی اور اگر وہ میقات سے باہر رہے، تو وہ میقات سے احرام باندھے گا۔ ایسا ہی قہستانی میں ہے۔ (رد المحتار، ج 3، ص 642، مطبوعہ کوئٹہ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی فضیل رضا عطاری
فتویٰ نمبر: Mul-1406
تاریخ اجراء: 08 ذو الحجۃ الحرام 1446ھ / 05 جون 2025ء