logo logo
AI Search

حج میں جمعہ کی نماز پڑھیں گے یا ظہر کی؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حج کے دوران ظہر کی دو رکعت پڑھیں گے یا جمعہ کی؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ حج کے دوران جمعہ پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ دو رکعت نماز ظہر پڑھنی پڑے گی یا جمعہ کی دو رکعتیں پڑھیں؟

جواب

حاجی ہو یا غیر حاجی، مسافر پر جمعہ فرض نہیں ہوتا اور حجاج کی ایک بڑی تعداد سفر حج میں مسافر ہوتی ہے، لہذا ایسے حجاج جمعہ کی بجائے ظہر کی دو رکعتیں قصر کرتے ہوئے ادا کریں گے تو اس وقت کا فرض ادا ہو جائے گا؛ کہ مسافر پر چار رکعتی فرض نمازوں میں قصر کرنا واجب ہے۔ جمعہ کی نماز تنہا پڑھنے سے نہیں ہو سکتی؛ کیونکہ نماز جمعہ عام نمازوں کی طرح نہیں، اس کے لیے جماعت وغیرہ مخصوص شرائط ہیں، ہاں اگر مسافر کسی صحیح العقیدہ لائق امامت شخص کی اقتدا میں جمعہ ادا کر لیتا ہے، جبکہ وہاں جمعہ کی تمام شرائط متحقق ہوں، تو اس پر سے نماز ظہر کی ادائیگی ساقط ہو جاتی ہے۔

واضح رہے کہ مکہ مکرمہ پہنچنے کے بعد آٹھ ذوالحجہ یعنی منٰی جانے سے پہلے پندرہ دن یا اس سے زائد مکے میں رہنے کی مستقل نیت ہو تو حاجی مقیم ٹھہرتا ہے اور یونہی حج کے بعد بھی متصل پندرہ راتیں مکہ میں گزارنے کی نیت سے قیام کرتا ہے تو مقیم ہو جائے گا۔

علامہ برہان الدین ابراہیم بن محمد حلبی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 956ھ / 1549ء) لکھتے ہیں: ”الثاني الإقامة فلا تجب على مسافر لقوله عليه السلام الجمعة واجبة إلا على صبي أو مملوك أو مسافر رواه البيهقي وعليه إجماع الأئمة الأربعة وجمهور العلماء“ ترجمہ: (جمعہ واجب ہونے کی) دوسری شرط مقیم ہونا ہے، پس مسافر پر جمعہ واجب نہیں؛ کیونکہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے کہ "جمعہ واجب ہے مگر بچے، غلام اور مسافر پر (واجب نہیں)۔" اسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے، اور اس مسئلے پر چاروں ائمہ اور جمہور علما کا اجماع ہے۔ (غنية المتملی شرح منية المصلي، فصل في صلاة الجمعة، جلد 2، صفحہ 436، دارالکتب العلمیۃ، بیروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ / 1948ء) لکھتے ہیں: ”مسافر پر واجب ہے کہ نماز میں قصر کرے، یعنی چار رکعت والے فرض کو دو پڑھے، اس کے حق میں دو ہی رکعتیں پوری نماز ہے۔“ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 743، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ”جمعہ پڑھنے کے لیے چھ شرطیں ہیں کہ ان میں سے ایک شرط بھی مفقود ہو تو ہو گا ہی نہیں۔ ... (ان میں سے ایک شرط ہے) جماعت یعنی امام کے علاوہ کم سے کم تین مرد۔“ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 762 و 769، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

علامہ فخر الدین عثمان بن علی زیلعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 743ھ / 1342ء) لکھتے ہیں: ”ان العلماء أجمعوا على أنها لا تصح من المنفرد“ ترجمہ: علمائے کرام کا اس بات پر اجماع ہے کہ منفرد کی نمازِ جمعہ صحیح نہیں۔ (تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق، کتاب الصلاة، باب صلاة الجمعة، جلد 1، صفحہ 220، المطبعة الكبرى الأميري)

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ”ومن لا جمعة عليه إن أداها جاز عن فرض الوقت لأن السقوط لأجله تخفيفا فإذا تحمله جاز عن فرض الوقت كالمسافر“ ترجمہ: اور جس پر جمعہ واجب نہیں، اگر وہ جمعہ ادا کر لے تو وہ وقتی فرض (نماز ظہر) کی طرف سے جائز ہو جائے گا؛ کیونکہ جمعہ کا ساقط ہونا اس کے لیے بطور تخفیف ہے، پس جب وہ خود جمعہ ادا کرنے کی مشقت برداشت کر لے تو وہ وقتی فرض کی طرف سے کافی ہوگا، جیسا کہ مسافر (کے حق میں ہوتا ہے)۔ (تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق، کتاب الصلاة، باب صلاة الجمعة، جلد 1، صفحہ 221، المطبعة الكبرى الأميري)

ملک العلماء علامہ ابوبکر بن مسعود کاسانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 587ھ / 1191ء) لکھتے ہیں: ”ان الحاج إذا دخل مكة في أيام العشر ونوى الإقامة خمسة عشر يوما أو دخل قبل أيام العشر لكن بقي إلى يوم التروية أقل من خمسة عشر يوما ونوى الإقامة لا يصح لأنه لا بد له من الخروج إلى عرفات فلا تتحقق نية إقامته خمسة عشر يوما فلا يصح“ ترجمہ: حاجی جب عشرۂ ذوالحجہ کے دنوں میں مکہ میں داخل ہو اور پندرہ دن اقامت کی نیت کرے، یا عشرۂ ذوالحجہ سے پہلے داخل ہوا لیکن یومِ ترویہ تک پندرہ سے کم دن باقی ہوں اور وہ اقامت کی نیت کرے، تو یہ صحیح نہیں؛ کیونکہ اس کے لیے عرفات کی طرف نکلنا ضروری ہے، پس اس کی پندرہ دن اقامت کی نیت متحقق نہیں ہوتی لہذا یہ درست نہیں۔ (بدائع الصنائع، کتاب الصلاة، فصل بيان ما يصير المسافر به مقيما، جلد 1، صفحہ 98،  دار الكتب العلمية، بیروت)

شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1421ھ / 2000ء) لکھتے ہیں: ” مکہ معظمہ پہنچنے کے بعد اگر ۸ ذی الحجہ پندرہ دن یا اس سے زائد ہے تو پوری نماز پڑھیں، مکہ میں بھی اور منی عرفات مزدلفہ میں بھی، اور اگر پندرہ دن سے کم ہے تو مکہ معظمہ میں بھی قصر کریں، اور منی عرفات مزدلفہ ہر جگہ، اگر چہ بعد حج مکہ معظمہ پہنچنے سے وطن واپس ہونے کی تاریخ ۱۵ دن بعد ہو۔...مکہ معظمہ ایسے وقت پہنچا کہ ذوالحجہ کی ۸ تاریخ ۱۵ دن بعد تھی؛ اس لیے وہ مکہ معظمہ پندرہ دن قیام کر کے منی آیا تو منی عرفات مزدلفہ ہر جگہ پوری نماز پڑھے۔ پھر حج سے فراغت کے بعد مکہ معظمہ آیا اور اب ۱۵ دن سے کم رہنے کا ارادہ ہے تو بھی مقیم ہی ہے، قصر نہ کرے پوری نماز پڑھے۔“ (فتاوی جامع اشرفیہ، جلد 7، صفحہ 520، جامعہ اشرفیہ مبارک پور، یو پی)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ / 1948ء) لکھتے ہیں: ”مسافر اس وقت تک مسافر ہے جب تک اپنی بستی میں پہنچ نہ جائے یا آبادی میں پورے پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت نہ کر لے۔“ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 744، مکتبة المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1219
تاریخ اجراء: 16 ذو الحجة الحرام 1447ھ / 2 جون 2026ء