اگر حج فرض ہونے کے بعد مال ختم ہوگیا تو حج کا حکم؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حج فرض ہونے کے بعد مال نہ رہا تو فرض حج کا کیا حکم ہے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج سے تقریبا آٹھ ، دس سال پہلے ایک عورت کی ملکیت میں اتنی مالیت کا سونا (Gold) موجود تھا کہ وہ محرم کے ساتھ حج پر جاسکتی تھی، لیکن کوئی بھی محرم اس کے ساتھ جانے کے لئے تیار نہ ہوا، پھر وہ سونا سال بہ سال زکاۃ دینے، قربانی کرنےاور دیگر اخراجات کی وجہ سے کم ہوگیا اور حج بھی مہنگا ہوگیا ہے، اب اس عورت کے پاس حج کرنے کے اسباب نہیں ہیں۔ اس صورت میں اس عورت کے لئے کیا حکم ہے؟
جواب
سفرِ حج کے لئے محرم یا شوہر کا ہونا وجوبِ حج کی شرائط سے نہیں، بلکہ شرائط پائے جانے پر حج فرض ہوجانے کے بعد اس کی ادائیگی واجب ہونے کی شرائط میں سے ہے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں فرضیتِ حج کی دیگر شرائط پائے جانے کے ساتھ جب اس عورت کی ملکیت میں اتنا مال موجود تھا کہ وہ خود حج کر سکتی تھی، لیکن محرم کے ساتھ نہ جانے کی وجہ سے حج ادا نہیں کرسکی تو اس پر حج فرض ہوچکا تھا، لیکن ادائیگی واجب ہونے کی صورت نہیں پائی گئی، اس عورت پر اب بھی حج فرض ہے، مال کم ہونے یا ہلاک ہونے کی وجہ سے فرض ہوجانے والاحج ساقط نہیں ہوگا، البتہ جب تک ساتھ جانے کے لئے کوئی محرم نہیں ملتا، انتظار کرے۔ اگر شوہر یا محرم میں سے کوئی میسر ہو تو اس فرض حج کی ادائیگی کرے۔ نیز اگر شوہر یا محرم کے میسر نہ ہونے کی وجہ سے اپنی زندگی میں حج کی ادائیگی ہی ممکن نہ ہوسکی اور عمر اتنی زیادہ ہوگئی کہ اب خود ہی حج کرنے سے عاجز ہے اور وقتِ وفات بھی قریب ہے، تو حجِ بدل کروانا یا حجِ بدل کی وصیت کرنا اس عورت پر واجب ہوگا۔ واضح رہے کہ حجِ بدل کروانے میں اس کی تمام شرائط کا خیال رکھنا ضروری ہوگا۔
ہدایہ میں ہے: ”یعتبر المراۃ ان یکون لھا محرم تحج بہ او زوج و لا یجوز لھا ان تحج بغیرھما اذا کان بینھا و بین مکۃ مسیرۃ ثلاثۃ ایام“ یعنی عورت کے لئے محرم یا شوہر کا ہونا معتبر ہے جس کے ساتھ حج کر سکے اور عورت کے لئے جائز نہیں کہ ان دونوں کے بغیر حج کو جائے، بشرطیکہ جب اس کے اور مکۃ المکرمہ کے درمیان تین دن (یعنی 92 کلو میٹر یا اس سے زائد) کی مسافت ہو۔ (ھدایہ مع فتح القدیر، جلد 2، صفحہ 326، مطبوعہ: بیروت)
عورت کے ساتھ محرم یا شوہر کا ہونا شرائطِ وجوبِ ادا میں سے ہے اور شرائطِ وجوبِ ادا کے حکم سے متعلق مناسکِ ملا علی قاری اورفتاوی شامی میں ہے: و اللفظ للشامیۃ: ”و النوع الثانی: شروط الاداء و هی التی ان وجدت بتمامها مع شروط الوجوب وجب اداؤه بنفسه و ان فقد بعضها مع تحقق شروط الوجوب فلا يجب الاداء بل عليه الاحجاج او الايصاء عند الموت و هی خمسة: سلامة البدن و امن الطريق و عدم الحبس و المحرم او الزوج للمراة وعدم العدّة لها“ یعنی حج کی شرائط میں سے دوسری قسم شرائطِ وجوبِ ادا کی ہے اور یہ وہ شرائط ہیں کہ جب یہ ساری شرائط، وجوبِ حج کی شرائط کےساتھ پائی جائیں تو آدمی پر خود حج ادا کرنا فرض ہوجاتا ہے اور اگر شرائطِ وجوب ادا میں سے کوئی شرط نہ پائی جائے، وجوب کی ساری شرائط پائی جاتی ہوں تو اب آدمی پر خود حج کے لئے جانا واجب نہیں بلکہ اس پر لازم ہے کہ اپنی طرف سے کسی اور کو حج پر بھیجے یا مرنے کے وقت حجِ بدل کی وصیت کرجائے۔ وجوبِ ادا کی کل 5 شرائط ہیں: تندرست ہونا، راستے میں امن ہونا، قید میں نہ ہونا، (اگر عورت پر حج فرض ہے تو) اس کے لئےمحرم یا شوہر کا موجود ہونا نیز عورت کا عدّت میں نہ ہونا۔ (رد المحتار، جلد 3، صفحہ 521 - 522، مطبوعہ: کوئٹہ) (المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط، صفحہ 70، مطبوعہ مکۃ المکرمۃ)
عورت کے لئے محرم یا شوہر کا ہونا شرائطِ وجوبِ ادا میں سے ہے جیسا کہ صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ حج کی شرائطِ وجوبِ ادا کے تحت فرماتے ہیں: عورت کو مکہ تک جانے میں تین دن یا زیادہ کا راستہ ہو تو اس کے ہمراہ شوہر یا محرم ہونا شرط ہے، خواہ وہ عورت جوان ہو یا بوڑھیا۔ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 6، صفحہ 1044، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
مال کم ہوجانے یا ہلاک ہونے کی وجہ سے فرض ہوجانے والا حج ساقط نہیں ہوتا۔ اس کے متعلق مناسک ملا علی قاری میں ہے: ”(لا یسقط) ای وجوب الحج (بھلاک المال) ای بضیاعہ و کذا بالاستھلاک اذا تعلق بہ الوجوب (و فوت القدرۃ) ای بعد تحققھا (اتفاقا) ای بین علمائنا، فیجب علیہ حینئذ ان یحج بنفسہ او یحج غیرہ او یوصی بہ“ یعنی وجوبِ حج ساقط نہیں ہوگا مال کے ہلاک ہونے یعنی ضائع ہونے کی وجہ سے۔ خود ہلاک کرنے کی وجہ سے حج ساقط نہیں ہوگا بشرطیکہ اس کے ساتھ وجوب متعلق ہوچکا ہو اور قدرت متحقق ہونے کے بعد قدرت فوت ہو گئی تو بھی وجوبِ حج ساقط نہیں ہوگا، اس میں ہمارے علما کا اتفاق ہے، پس اب اس پر واجب ہے کہ خود حج کرے یا کسی دوسرے کو حج کروائے یا دوسرے کو حج کرانے کی وصیت کر جائے۔ (المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط، صفحہ 84، مطبوعہ: مکۃ المکرمہ)
علامہ ابنِ عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”لا يسقط الحج و صدقة الفطر بهلاك المال لوجوبهما بقدرة ممكنة و هی القدرة على الزاد و الراحلة و ملك النصاب“ یعنی مال ہلاک ہوجانے کی وجہ سے حج اور صدقۂ فطر ساقط نہیں ہوتے کیونکہ ان دونوں کا وجوب قدرتِ ممکنہ کی وجہ سے ہوتا ہے اور وہ زادِ راہ اور سواری پر قادر ہونا اور مالکِ نصاب ہونا ہے۔ (رد المحتار، جلد 9، صفحہ 522 ۔ 523، مطبوعہ: کوئٹہ)
محرم کے نہ ہونے کی وجہ سے حج نہیں کرسکتی تو انتظار کرے۔ اگراتنی بوڑھی ہوگئی کہ خود حج کرنے سے ہی عاجز آگئی، تو حجِ بدل کروائے۔ اس کے متعلق رد المحتار میں ہے: ”و من العجز الذی یرجی زوالہ عدم وجود المراۃ محرما فتقعد الی ان تبلغ وقتا تعجز عن الحج فیہ ای لکبر او عمی او زمانۃ فحینئذ تبعث من یحج عنھا“ یعنی ایسا عجز جس کے ختم ہونے کی امید ہے اس میں عورت کا محرم کو نہ پانا ہے، تو یہ عورت انتظار کرے گی یہاں تک کہ ایسے کیفیت کو پہنچ جائے جس میں خود حج کرنے سے عاجز ہو یعنی بڑھاپے، اندھے پن یا لنگڑے پن کی وجہ سے، تو اب ایسے شخص کو بھیجے جو اس کی طرف سے حج کر سکے۔ (رد المحتار، جلد 4، صفحہ 18، مطبوعہ: کوئٹہ)
اگر حجِ بدل نہ کرواسکی تو وفات سے پہلے حجِ بدل کی وصیت کرنا واجب ہے۔ اس کے متعلق بہارِ شریعت میں ہے: اگر اس پر حقوق اللہ کی ادائیگی باقی ہے جیسے اس پر کچھ نمازوں کا ادا کرنا باقی ہے یا اس پر حج فرض تھا ادا نہ کیا یا روزہ رکھنا تھا نہ رکھا، تو ایسی صورت میں ان کے لئے وصیت کرنا واجب ہے۔ (بہارِ شریعت، جلد 3، صفحہ 936، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Nor-12375
تاریخ اجراء: 28 محرم الحرام 1444ھ / 27 اگست 2022ء