کیا کعبہ شریف کا طواف بھاگ کر کیا جاسکتا ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دوڑتے ہوئے طواف کرنے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا کعبے کا طواف بھاگ کر کیا جاسکتا ہے تاکہ طواف جلدی مکمل ہو جائے؟
جواب
دورانِ طواف بھاگنے کی اجازت نہیں، اس وجہ سے کہ اولاً: مطاف مسجد کا حصہ ہے اور مسجد میں بلاوجہ بھاگنا منع ہے۔ اور ثانیا: دورانِ طواف بھاگنے کی وجہ سے دیگر طواف کرنے والوں کو اذیت ہوسکتی ہے اوردوسروں کو بلاوجہ شرعی اذیت پہنچانا جائز نہیں۔ یہاں تک کہ دورانِ طواف جہاں رمل کا حکم ہے یا دورانِ سعی جہاں دوڑنے کا حکم ہے، اس میں بھی فقہائے کرام نے یہ شرط ذکر کی ہے کہ اس کی وجہ سے کسی کو اذیت نہ ہو، اگر یہ اذیت کا سبب بنے، تو وہاں رمل یا دوڑنے کی بجائے نارمل انداز سے چلنے کا حکم ہے۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد نوید چشتی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-1290
تاریخ اجراء: 04 جمادی الاولیٰ 1444ھ / 29 نومبر 2022ء