logo logo
AI Search

عمرہ کی قرعہ اندازی کی شرعی حیثیت؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عمرہ کے لیے قرعہ اندازی میں جوئے کی صورت

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے علاقے میں ایک کمیٹی بنی ہوئی ہے، وہ ربیع الاول میں لوگوں سے فی کس ایک ہزار روپے جمع کرتی ہے، جو افراد رقم دیتے ہیں ،ان کا نام قرعہ اندازی میں شامل کیا جاتا ہے، پھر قرعہ اندازی میں جس ایک شخص کا نام نکلتا ہے، اسے عمرے پر بھیج دیا جاتا ہے اور بقیہ افراد کو کچھ نہیں ملتا، تو برائے کرم اس طریقہ کار کے متعلق شرعی رہنمائی فرمائیں۔

جواب

عمرہ کرنا اور عمرہ کے لیے کسی کے ساتھ تعاون کرنا بلاشبہ نہایت عمدہ اور مستحسن عمل ہے، عمرہ کے فضائل سے احادیث طیبہ مالا مال ہیں، یونہی نیکی کے کام میں تعاون کرنے کی ترغیب قرآن کریم میں موجود ہے، لیکن یاد رہے کہ ہم نیکی کے کام میں جائز تعاون ہی کر سکتے ہیں۔ کئی کمیٹیاں عمرہ کا شوق رکھنے والے افراد کے لیے مختلف اسکیمز نکالتی رہتی ہیں، یہ اگرچہ اچھی نیت کے ساتھ ہو، لیکن ضروری ہے کہ وہ اسکیم اسلام کے مطابق بھی ہو، جبکہ سوال میں ذکر کردہ اسکیم قرآن و حدیث کے خلاف اور جوئے پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز و حرام ہے۔ نیز اس کی خرابیوں میں سے یہ بھی ہے کہ جوئے کے ذریعے جو مال ملے گا، وہ لینا حرام اور دوسروں کا مال باطل طریقے سے کھانا کہلاتا ہے۔ پھر مالِ حرام سے کیا جانے والا عمرہ بھی اللہ عزوجل کی پاک بارگاہ میں قبول نہیں ہوتا۔ لہذا بحیثیتِ مسلمان اس اسکیم سے بچنا شرعاً لازم ہے۔ نیز اس اسکیم کی سر پرستی کرنے والوں کو بھی حکمتِ عملی سے شرعی حکم بتاتے ہوئے یہ اسکیم ختم کرنے کی ترغیب دلائیں، بلکہ انہیں خود بھی چاہئے کہ اس شیطانی عمل سے بچیں اور اپنی آخرت داؤ پر نہ لگائیں۔

اس اسکیم کے جوئے پر مشتمل ہونے کی تفصیل یہ ہے کہ جو افراد اس اسکیم میں رقم جمع کروائیں گے، انہی کا نام قرعہ اندازی میں شامل کیا جائے گا، پھر جس کا نام نکل آیا، اس کے لیے جمع شدہ رقم سے عمرہ کا انتظام کر دیا جائے گا اور بقیہ جن کا نام نہیں نکلا، ان کی رقم ضائع چلی جائے گی اور جوا کی تعریف بھی یہی ہے کہ اپنے مال کو اس طرح خطرہ پر ڈالنا کہ یا تو زائد مال مل جائے یا اپنا مال بھی چلا جائے۔

جزئیات درج ذیل ہیں:

جوا کی تعریف معجم لغۃ الفقہاء میں کچھ یوں منقول ہے: ”تعلیق الملک علی الخطر و المال من الجانبین“ ترجمہ: اپنی ملکیت کو خطرے میں ڈالنا، اس حال میں کہ مال دونوں طرف سے ہو۔ (معجم لغۃ الفقھاء، صفحہ 369، مطبوعہ دار النفائس)

اور محیطِ برہانی میں ہے: ’’القمار مشتق من القمر الذی يزداد و ينقص، سمي القمار قماراً، لان كل واحد من المقامرين ممن يجوز ان يذهب ماله الى صاحبه و يستفيد مال صاحبه، فيزداد مال كل واحد منهما مرة و ينتقص اخرى، فاذا كان المال مشروطاً من الجانبين كان قماراً و القمار حرام و لان فيه تعليق تمليك المال بالخطر و انه لا يجوز‘‘ ترجمہ: لفظ قمار قمر سے بنا ہے جو گھٹتا اور بڑھتا رہتا ہےاور قمار کو قمار اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس میں بھی بازی لگانے والوں میں سے ہر ایک کا مال دوسرے کے پاس جانا، ممکن ہوتا ہے اور وہ مدِ مقابل کے مال سے نفع حاصل کر لیتا ہے، پس اس طرح ان میں سے ہر ایک کا مال بھی کبھی گھٹتا ہے اور کبھی بڑھتا ہے، پس جب مال جانبین سے مشروط ہو، تو یہ قمار ہوگا اور قمار حرام ہے، اس لیے کہ اس میں اپنے مال کو خطرے پر پیش کرنا ہے اور یہ جائز نہیں۔ (محیط برھانی، کتاب الکراھیۃ، جلد 6، صفحہ 54، مطبوعہ کوئٹہ)

جوئے کو مَیْسِر بھی کہتے ہیں اور اس کی مذمت بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ﴾ ترجمہ کنز العرفان : اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور قسمت معلوم کرنے کے تیر ناپاک شیطانی کام ہی ہیں، تو ان سے بچتے رہو کہ تم فلاح پاؤ۔ (پارہ 7، سورۃ المائدہ، آیت 90)

مزید فرماتا ہے: ﴿اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ عَنِ الصَّلٰوةِۚ- فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ﴾ ترجمہ: شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے درمیان دشمنی اور بغض و کینہ ڈال دے اور تمہیں اللہ کی یاد سے اور نماز سے روک دے، تو کیا تم باز آئے ہو؟۔ (پارہ7، سورۃ المائدہ، آیت91)

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ”ان اللہ حرم علیکم الخمر و المیسر و الکوبۃ و قال کل مسکر حرام‘‘ ترجمہ: ﷲ تعالیٰ نے شراب اور جوا اور کوبہ (ڈھول) حرام کیا اور فرمایا: ہر نشے والی چیز حرام ہے۔ (سنن الکبری للبیھقی، جلد 10، صفحہ 360، مطبوعہ بیروت)

جوئے سے حاصل کردہ مال دوسرے کا مال باطل طریقے سے کھانا ہے اور اس کے متعلق اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ﴾ ترجمۂ کنز الایمان: اور آپس میں ایک دوسرے کا مال نا حق نہ کھاو۔ (پارہ 2، سورۃ البقرہ، آیت 188)

اس آیت کے تحت تفسیر قرطبی میں ہے: ’’و المعنی: لا یاکل بعضکم مال اخیہ بغیر حق، فیدخل فی ھذا: القمار و الخداع و الغصوب ۔۔ و غیر ذلک‘‘ ترجمہ: اور (اس آیت کا) معنی یہ ہے کہ تم میں سے کوئی بھی دوسرے کا مال ناحق طریقے سے نہ کھائے، اس عموم میں جوا، دھوکادہی، غصب ۔۔ وغیرہ سب داخل ہیں۔ (تفسیر قرطبی، جلد 2، صفحہ 338، مطبوعہ دار الکتب، القاھرہ)

ایسی اسکیم کے متعلق وقار الفتاوی میں ہے: ایسی کوئی لاٹری جائز نہیں، جس میں قرعہ اندازی کرنے سے اگر کسی ممبر کا نام نہ نکلے، تو اس کا اپنا روپیہ ختم ہوجائے گا اور جس کا نام نکلا وہ دوسروں کا روپیہ حاصل کرلے، یہ جوا ہے۔ (وقار الفتاوی، جلد 3، صفحہ 310، مطبوعہ کراچی)

جوئے سے حاصل شدہ مال حرام ہے۔ فتاوی رضویہ میں ہے: سود اور چوری اور غصب اورجوئے کا روپیہ قطعی حرام ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 19، صفحہ 646، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

اور مالِ حرام سے کیا جانے والا عمرہ قبول نہ ہوگا۔ بغیۃ الباحث عن زوائد مسند الحارث میں ہے: ’’و من کسب مالا حراما لم تقبل لہ صدقۃ و لا عتق و لا حج و لا عمرۃ‘‘ ترجمہ: جس نے مال حرام کمایا اللہ عزوجل نہ اس کا صدقہ قبول فرمائے گا، نہ غلام آزاد کرنا، نہ حج کرنا اور نہ ہی عمرہ کرنا۔ (بغیۃ الباحث عن زوائد مسند الحارث، جلد 1، صفحہ 309، مطبوعہ المدینۃ المنورہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: PIN-7057
تاریخ اجراء: 07 ربیع الاول 1444ھ / 04 اکتوبر 2022ء