logo logo
AI Search

نو ذوالحجہ کو حج کرنے جتنا مال آنے پر حج کا حکم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اگر کسی کے پاس نو ذوالحجہ کو حج کرنے جتنا مال آگیا، تو کیاحج فرض ہوجائے گا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر کسی کے پاس نو ذوالحجہ کو اتنا مال آیا کہ جتنا حج کے لئے ضروری ہے، تو کیا حکم ہے کیونکہ اب وہ جا تو نہیں سکتا اور حج کے ارکان بھی نکل جائیں گے، قانونی مسائل کا بھی سامنا ہو سکتا ہے، کیا اس شخص پر حج فرض رہے گا؟

جواب

حج فرض ہونے کی شرائط اگر ایسے قت پائی گئیں کہ اب پہنچ نہیں سکتا تو حج فرض نہیں۔

حج کے واجب ہونے کی شرائط بیان کرتے ہوئے بہار شریعت میں فرماتے ہیں: ”وقت یعنی حج کے مہینوں میں تمام شرائط پائے جائیں اور اگر دُور کا رہنے والا ہو تو جس وقت وہاں کے لوگ جاتے ہوں اس وقت شرائط پائے جائیں اور اگر شرائط ایسے وقت پائے گئے کہ اب نہیں پہنچے گا تو فرض نہ ہوا۔“ (بہار شریعت، جلد 1، صفحہ 1050، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی

فتوی نمبر: Web-2462

تاریخ اجراء: 24 ربیع الاوّل 1447ھ/18 ستمبر 2025ء