logo logo
AI Search

کیا طواف کے دوران دھات کا چھلا پہننا جائز ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

دورانِ طواف یاد داشت کے لئے دَھات کا چھلّا پہننا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ طواف کے لئے ایک قسم کی دھات کا چھلّا ملتا ہے جس کے ساتھ دانوں والی تسبیح لٹک رہی ہوتی ہے اسے یاد داشت کے لئے انگلی میں ڈالتے ہیں اور پھر ہر چکّر پر ایک دانہ شمارکرتے جاتے ہیں۔ شرعی رہنمائی فرمائیں کہ اس طرح کا چھلّا انگلی میں ڈالنا شرعا جائز ہے یا نہیں؟ اور جو چھلّا پہننا گناہ ہے یہ اس میں شمار ہوگا یا نہیں؟

جواب

تانبا اور پیتل میں صرف تَحَلّی (یعنی زیورکے طور پر پہننا) حرام ہے اور تَحَلّی زیور کے ساتھ ہوتی ہے اور زیور وہ چیز ہوتی ہے جس سے زینت حاصل کی جاتی ہے اور تسبیحات وغیرہ کو پکڑنے کے لئے جو چھلّا ان کے ساتھ لگا ہوتا ہے یہ زیور کی طرز پر نہیں بنا ہوتا اور اس طرح کا نہیں ہوتا کہ اس سے زینت حاصل کی جائے اور اس کو انگلی میں زیور اور زینت کے طور پر ڈالا بھی نہیں جاتا بس حفاظت کے لئے انگلی میں اَٹکا لیا جاتا ہے۔ پس اسے حفاظت کے لئے انگلی میں اَٹکا لینا جائز ہے۔

جُزئیات سے ثابت ہے کہ زیور وہ ہے جس سے تَزَیُّن (یعنی زیب و زینت اختیار کرنا) مقصود ہوتا ہے اور تسبیحات وغیرہ اَشیاء کے ساتھ جو چھلّا ہوتا ہے اس سے تَزَیُّن مقصود نہیں ہوتا لہٰذا یہ زیور میں شمار نہیں ہوگا۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
تاریخ اجراء: ماہنامہ فیضان مدینہ مئی 2018ء