logo logo
AI Search

نابالغ کا حج بالغ ہونے کے بعد کفایت کرے گا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نابالغ بچے نے حج کیا تو کیا بالغ ہونے کے بعد دوبارہ کرنا ہوگا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

ہم فیملی کے پانچ افراد پاکستان سے حج کے لئے جا رہے ہیں، جن میں دو نابالغ بچے ہیں، ایک کی عمر 8 سال ہے اور دوسرے کی 10 سال۔ ہم جا کر عمرہ کریں گے اور احرام کھول دیں گے، پھر حج کا احرام باندھیں گے، بچوں کو بھی حج و عمرہ کے افعال ادا کروائیں گے، دریافت طلب امر یہ ہے کہ

(1) بچے جو ابھی حج کر لیں گے، تو کیا بالغ ہونے کے بعد انہیں دوبارہ حج کرنا پڑے گا یا یہ والا ہی کفایت کرے گا؟

(2) کیا نابالغ بچوں کی طرف سے بھی ہمیں حج کی قربانی کرنی ہو گی؟ ان پر حجِ تمتع کی قربانی لازم ہو گی یا نہیں؟

جواب

(1) نابالغ بچے نے حج کیا (یعنی سمجھ دار بچے نے خود ہی نیت کر کے مناسک ادا کیے یا نا سمجھ کی طرف سے اُس کے ولی نے احرام باندھا ہو، بہرحال) اس سے بچے کا فرض حج ادا نہیں ہوگا، لہذا بعد میں جب وہ بالغ ہو اور حج کی شرائط پائی جائیں، تو اس پر حج فرض ہو جائے گا، بچپن میں ادا کیا جانے والا حج کافی نہیں ہو گا۔

مسند ابی داؤد الطیالسی و مسند الحارث وغیرہ کتب احادیث میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: والنظم للاول: ’’ولو أن صبيا حج عشر حجج، ثم احتلم كانت عليه حجة إن استطاع إليه سبيلا‘‘ یعنی: اگر بچہ دس حج بھی کر لے، پھر وہ بالغ ہو تو صاحبِ استطاعت ہونے پر اس پر حج لازم ہو گا۔ (مسند ابی داؤد الطیالسی، جلد 3، صفحہ  321، مطبوعہ مصر)

بدائع الصنائع میں ہے: ”وأما شرائط فرضيته۔۔۔ فمنها: البلوغ، ومنها العقل فلا حج على الصبي، والمجنون؛ لأنه لا خطاب عليهما فلا يلزمهما الحج حتى لو حجا، ثم بلغ الصبي وأفاق المجنون فعليهما حجة الإسلام وما فعله الصبي قبل البلوغ يكون تطوعا وقد روي عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: أيما صبي حج عشر حجج ثم بلغ فعليه حجة الإسلام“ ترجمہ: حج کے فرض ہونے کی شرائط میں سے بالغ اور عاقل ہونا بھی ہے، پس بچے اور مجنون پر حج فرض نہیں، کیونکہ یہ مکلف نہیں ہیں، تو ان پر حج بھی لازم نہیں، حتی کہ اگر ان دونوں نے حج کر لیا، پھر بچہ بالغ ہوا اور مجنون کو افاقہ ہوا، تو ان پر حجۃ الاسلام (یعنی فرض حج) لازم ہوگا اور بچے نے بلوغت سے پہلے جو حج کیا تھا، وہ نفل قرار پائے گا، تحقیق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے، آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا: بچہ بالغ ہونے سے پہلے دس حج کرے، پھر بالغ ہوا، تو اس پر حجۃ الاسلام لازم ہوگا۔  (بدائع الصنائع، جلد  2، صفحہ  10، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: بچے پر(حج) فرض نہیں، کرے گا تو نفل ہوگا اور ثواب اُسی (بچے) کے لئے ہے، باپ وغیرہ مربّی، تعلیم و تربیت کا اجر پائیں گے۔ پھر (جب) بعدِ بلوغ شرطیں جمع ہوں گی، اس پر حج فرض ہو جائے گا، بچپن کا حج کفایت نہ کرے گا۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 775، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

(2) نابالغ بچہ چاہے سمجھدار ہو یا نا سمجھ، اس پر حج (تمتع یا قِران) کی قربانی واجب نہیں ہوتی، لہذا مناسکِ حج ادا کرنے / کروانے کے باوجود ان کی طرف سے قربانی کرنا لازم نہیں ہے۔

حضرت علامہ رحمت اللہ سندھی حنفی رحمۃ اللہ علیہ حج کی قربانی واجب ہونے کی شرائط بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”وشرائط وجوبہ: القدرۃ علیہ وصحۃ القران و التمتع والعقل والبلوغ والحریۃ“ ترجمہ:  قربانی کے وجوب کی شرطیں یہ ہیں: ذبح پر قدرت رکھتا ہو، صحت ِ قران و تمتع، عقل، بالغ ہونا، آزاد ہونا۔

حضرت علامہ فقیہ محدث ملا علی القاری رحمۃ اللہ علیہ ”والبلوغ “کے تحت فرماتے ہیں: ”ای لعدم الوجوب علی الصبی ممیزاً او غیرہ“ ترجمہ: بچہ چاہے سمجھدار ہو یا بے سمجھ، اس پر(حج کی) قربانی واجب نہیں۔ (المسلک المتقسط فی المنک المتوسط، باب القران، فصل فی ھدی القارن والمتمتع، صفحہ 290، مطبوعہ کوئٹہ)

تنبیہ: بچوں کو مسجد کے آداب سکھا، سمجھا کر مسجد میں داخل کیا جائے، تاکہ مسجد کے آداب کا خیال رکھیں۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: ابو تراب محمد علی عطاری
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Pin-7753
تاریخ اجراء: 25 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 13 مئی 2026ء