logo logo
AI Search

حج کی قربانی منی کے بجائے مکہ میں کرنے کا حکم؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حج کی قربانی مکہ میں کرنا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر حاجی دس ذو الحجہ کو حج کی قربانی کا جانور مقام مِنیٰ کے بجائے مکہ مکرمہ میں ذبح کرے تو کیا اس کی قربانی ادا ہوجائے گی یا اسے دوبارہ قربانی کا جانور ذبح کرنا ہوگا؟

جواب

حج کی قربانی کو حدود حرم میں ذبح کرنا ضروری ہوتا ہے اور مکہ مکرمہ حدود حرم میں شامل ہے اس لئے اگر حاجی مکہ مکرمہ میں حج کی قربانی کا جانور ذبح کرے گا توحج کی قربانی ادا ہوجائے گی، لیکن دس ذو الحجہ کو حج کی قربانی مکہ میں ذبح کرنا خلافِ سنّت ہے کیونکہ حج کی قربانی کو ایام نحر میں مِنیٰ میں ذبح کرنا سنت ہے۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
تاریخ اجراء: ماہنامہ فیضانِ مدینہ جون 2023ء