logo logo
AI Search

زمین کا کرایہ بعد میں ملے تو زکوٰۃ کب واجب ہوگی؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

زمین کا کرایہ بعد میں ملا تو گزشتہ عرصے کی زکوٰۃ لازم ہوگی؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

پوچھی گئی صورت میں جو کرایہ اسے ابھی وصول نہیں ہوا، اس کی زکوٰۃ اس پر لازم نہیں، اور جب تک وصول نہ ہو، اس کی زکوٰۃ لازم نہیں ہوگی، خواہ کتنے ہی سال یوں گزر جائیں۔ اور وصول کرنے کے بعد بھی اس پر گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ دینا لازم نہیں ہوگا؛ کیونکہ یہ کرایہ دینِ ضعیف ہے، کہ غیر تجارتی مال کے منافع کا عوض، دینِ ضعیف ہوتا ہے، اور دینِ ضعیف کی زکوٰۃ اس کے وصول ہونے سے پہلے لازم نہیں ہوتی۔

البتہ، جس سال کرایہ وصول ہو جائے گا، تب نصاب مکمل ہونے اور اس پر اسلامی مہینوں کے اعتبار سے سال گزرنے پر زکوٰۃ لازم ہونے کا اعتبار کیا جائے گا۔ اور تب اگر پہلے سے ہی نصاب کا سال جاری ہو تو اس کرائے کو بھی اسی کے ساتھ شمار کر لیں گے، اور جاری نصاب کا سال مکمل ہونے پر زکوٰۃ دیں گے، جبکہ اس وقت بھی زکوٰۃ لازم ہونے کی شرائط پائی جا رہی ہوں۔

چنانچہ امامِ اہلِ سنت، شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن، فتاویٰ رضویہ میں فرماتے ہیں: سوم: (دین) ضعیف کہ کسی مال کا بدل نہ ہو، جیسے عورت کا مہر کہ منافعِ بضع کا عوض ہے، یا وہ دین جو بذریعہ وصیت اسے پہنچا، یا بسببِ خلع عورت پر لازم آیا، یا مکان، دکان، زمین کہ بہ نیتِ تجارت نہ خریدی تھی، اُن کا کرایہ چڑھا۔ قسمِ سوم کے دین پر، جب تک دین رہے، اصلاً زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی، اگرچہ دس برس گزر جائیں۔ ہاں، جس دن سے اس کے قبضہ میں آئے گا، شمارِ زکوٰۃ میں محسوب ہوگا، یعنی اس کے سوا اور کوئی نصابِ زکوٰۃ اسی کی جنس سے اس کے پاس موجود تھا، اس پر سال چل رہا تھا، تو جو وصول ہوا، اس میں ملا لیا جائے گا اور اسی کے سال تمام پر کل کی زکوٰۃ لازم ہوگی، اور اگر ایسا نصاب نہ تھا تو جس دن سے وصول ہوا، اگر بقدرِ نصاب ہے، اُسی وقت سے سال شروع ہوا، ورنہ کچھ نہیں ۔ ۔ ۔ ۔

تنویر الابصار ودرمختار میں ہے: الدیون عند الامام ثلثۃ: قوی، متوسط، ضعیف، فتجب زکوٰتھا اذا تم نصابا (بنفسہ او بما عندہ مما یتم بہ) وحال الحول (ای و لو قبل قبضہ فی القوی والمتوسط) لکن لا فوراً، بل عند قبض اربعین درھما من القوی کقرض وبدل مال التجارۃ، فکلما قبض اربعین درھما یلزمہ درھم، وعند قبض مائتین من بدل مال لغیر تجارۃ، و ھو المتوسط کثمن سائمۃ وعبید خدمۃ، و یعتبر ما مضی من الحول قبل القبض فی الاصح، و مثلہ ما لو ورث دینا علی رجل، وعند قبض مائتین مع حولان الحول بعدہ من ضعیف، و ھو بدل غیر مال کمھر و بدل خلع، الا اذا کان عندہ ما یضم الی الدین الضعیف (الاولی ان یقول: ما یضم الدین الضعیف الیہ، و الحاصل انہ اذا قبض منہ شیأً و عندہ نصاب یضم المقبوض الی النصاب و یزکیہ بحولہ، و لا یشترط لہ حول بعد القبض) اھ ملخصاً۔

امام صاحب کے نزدیک دیون کی تین اقسام ہیں: قوی، متوسط، ضعیف۔ دیون پر زکوٰۃ ہوتی ہے، بشرطیکہ وہ خود یا مالک کے پاس موجودہ مال سے مل کر نصاب کو پہنچیں اور ان پر سال گزرا ہوا ہو، اگرچہ دینِ قوی اور دینِ متوسط پر ابھی قبضہ نہ کیا ہو، لیکن ان کی ادائیگی فوراً لازم نہیں، بلکہ قوی میں چالیس دراہم کے قبضہ پر ایک درہم ہوگا، جیسا کہ قرض اور بدلِ مالِ تجارت میں ہوتا ہے، تو جب بھی چالیس درہم پر قابض ہوگا، ایک درہم لازم ہوگا۔ غیر تجارتی مال کے بدلے میں جو دین ہوتا ہے، اسے متوسط کہا جاتا ہے، اس میں سے دو سو دراہم کے قبضہ کے بعد زکوٰۃ ہوگی، مثلاً سائمہ جانوروں کی قیمت، خدمت والے غلاموں کی قیمت، دینِ متوسط ہے۔ اس میں اصح قول کے مطابق قبضہ سے قبل گزشتہ سالوں کا بھی اعتبار کیا جائے گا۔ اسی کی مثل وہ صورت ہے جب کوئی دین میں کسی کا وارث بنا، اور دینِ ضعیف میں دو سو درہم پر قبضہ کے بعد زکوٰۃ ہوگی، بشرطیکہ اس کے بعد سال گزرے، اور دینِ ضعیف غیر مال کا بدل ہوتا ہے، مثلاً مہر، بدلِ خلع، مگر ایسی صورت میں جب دینِ ضعیف کے ساتھ مالک کے پاس موجود مال ہو تو ملایا جائے (بہتر یہ ہے کہ یوں کہا جائے کہ دینِ ضعیف کو اس مال کے ساتھ ملایا جائے، حاصل یہ ہے کہ اس میں سے جب کسی شے پر قبضہ ہوا، حالانکہ مالک کے پاس نصاب بھی تھا، تو اب مقبوض کو نصاب سے ملا کر سال پورا ہونے پر زکوٰۃ دی جائے، پہلے سے نصاب ہونے کی صورت میں قبضہ کے بعد الگ سال گزرنا شرط نہیں) اھ تلخیصاً۔

مزید امن ردالمحتار: اقول و الاولی فی رسم الضعیف ما لیس بدل یشتمل ما لیس بدلاً اصلاً کالدین الموصی بہ، فی رد المحتار عن المحیط: اما الدین الموصی بہ فلا یکون نصاباً قبل القبض؛ لان الموصی لہ ملکہ ابتداءً من غیر عوض، و لا قائم مقام الموصی فی الملک، فصار کما لو ملکہ بھبۃ اھ۔

اضافی عبارت رد المحتار کی ہے۔ اقول: ضعیف کی تعریف یوں کرنا بہتر ہے کہ جو بدل نہ ہو، تاکہ اسے بھی شامل ہو جائے جو اصلاً بدل ہی نہیں، مثلاً وہ دین جس کی وصیت کی گئی ہو۔ رد المحتار میں محیط سے ہے: وہ دین جس کی وصیت کی گئی ہو، وہ قبضہ سے پہلے نصاب نہیں بن سکتا؛ کیونکہ موصیٰ لہ بغیر عوض کے ابتداءً مالک بن رہا ہے، اور یہ ملکیت میں وصیت کرنے والے کا قائم مقام بھی نہیں، یہ ایسے ہوگا جیسے وہ ہبہ سے مالک بنا ہو، اھ۔

و فی الخانیۃ والفتح والبحر، واللفظ لقاضی خان: اذا اٰجر دارہ او عبدہ بمائتی درھم لا تجب الزکوٰۃ ما لم یحل الحول بعد القبض، فی قول ابی حنیفۃ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ، فان کانت الدار والعبد للتجارۃ، وقبض اربعین درھماً بعد الحول، کان علیہ درھم بحکم الحول الماضی قبل القبض؛ لان اجرۃ دار التجارۃ وعبد التجارۃ بمنزلۃ ثمن مال التجارۃ فی الصحیح من الروایۃ اھ۔

خانیہ، فتح اور بحر میں ہے، اور الفاظ قاضی خان کے ہیں: جب کسی نے اپنا مکان یا غلام، دو سو دراہم کے عوض اجرت پر دیا، تو امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کے مطابق اس کی زکوٰۃ لازم نہ ہوگی، جب تک قبضہ کے بعد اس پر سال نہ گزر جائے، اور اگر مکان اور غلام تجارت کے لیے تھے اور سال کے بعد چالیس دراہم پر قبضہ ہوا، تو اب ایک درہم لازم ہوگا، اس سال کی وجہ سے جو قبضہ سے پہلے گزرا؛ کیونکہ صحیح روایت کے مطابق تجارت کے مکان اور غلام کی اجرت، مالِ تجارت کے ثمن کی مثل ہوتی ہے۔ (ملتقطاً از فتاویٰ رضویہ، ج 10، ص 162 تا 165، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

بہارِ شریعت میں ہے: تیسرے دَین ضعیف، جو غیر مال کا بدل ہو، جیسے مہر، بدلِ خلع، دیت، بدلِ کتابت، یا مکان یا دکان، کہ بہ نیتِ تجارت خریدی نہ تھی، اس کا کرایہ کرایہ دار پر چڑھا؛ اس میں زکوٰۃ دینا اس وقت واجب ہے کہ نصاب پر قبضہ کرنے کے بعد سال گزر جائے، یا اس کے پاس اس جنس کی کوئی نصاب ہو اور اس کا سال تمام ہو جائے، تو زکوٰۃ واجب ہے۔ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 5، ص 906، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد ابوبکر عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: GRW-44
تاریخ اجراء: 09 شوال المکرم 1442ھ / 21 مئی 2021ء