بارش اور موٹر سے سیراب ہونے والی فصل پر عشر کا حکم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
جو فصل بارش اور موٹر دونوں سے سیراب ہوئی ہو، اس میں عشر کی تفصیل
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
شجرکاری مہم میں 4 ایکڑ درخت لگائے تھے، تقریباً ڈیڑھ سال مصنوعی بور اور موٹر سے پانی دیا، بڑے ہو گئے، تو پانی کی حاجت نہ رہی بارش اور زمین کا پانی کافی رہا۔ چار سال بعد اب بیچنے ہیں ان پر عشر یا نصف عشر ہوگا، یا نہیں ہوگا؟
جواب
ایسی زمین جس کو کچھ عرصہ بور اور موٹر وغیرہ کے پانی سے سیراب کیا گیا ہو، اور کچھ عرصہ قدرتی پانی سے سیراب کیا گیا ہے، تو اس میں عُشر یا نصف عُشر لازم ہونے کے حوالے سے حکمِ شرعی یہ ہے کہ اگر اکثر قدرتی پانی سے سیراب کیا گیا، تو عُشر لازم ہے، ورنہ نصف عشر۔ اس تفصیل کے مطابق پوچھی گئی صورت میں چونکہ چار سالوں میں سے ڈیڑھ سال رقم خرچ کرکے پانی لگایا گیا، اور باقی اکثر حصہ قدرتی پانی لگا، تو اس لیے عُشر لازم ہوگا۔ امام شمس الآئمہ سرخسی علیہ الرحمۃ (المتوفی سن: 483ھ) لکھتےہیں: ”الأصل عند أبي حنيفة رحمه اللہ تعالى أن كل ما يستنبت في الجنان و يقصد به استغلال الأراضي، ففيه العشر“ ترجمہ: امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اصل یہ ہے کہ ہر وہ چیز جو باغوں میں اگائی جائے اور اس سے زمینوں کی آمدن مقصود ہو، تو اس میں عشر ہے۔ (المبسوط للسرخسی، باب عشر الارضين، جلد 3، صفحہ 2، مطبوعہ:بیروت)
جس زمین کی سیرابی بارش، نہر وں اور آلات وغیرہ کے ذریعے حاصل ہونے والے دونوں طرح کے پانیوں سے ہوتی ہو، تو جس پانی سے زیادہ تر سیرابی ہواس کا اعتبار ہوگا، چنانچہ بدائع الصنائع میں ہے ”فما سقي بماء السماء، أو سقي سيحا ففيه عشر كامل، و ما سقي بغرب، أو دالية، أو سانية ففيه نصف العشر، والأصل فيه ما روي عن رسول اللہ – صلى اللہ عليه و سلم – أنه قال «ما سقته السماء ففيه العشر و ما سقي بغرب، أو دالية، أو سانية ففيه نصف العشر»۔۔۔۔ و لأن العشر وجب مؤنة الأرض فيختلف الواجب بقلة المؤنة و كثرتها ولو سقي الزرع في بعض السنة سيحا وفي بعضها بآلة يعتبر في ذلك الغالب؛ لأن للأكثر حكم الكل ‘‘ ترجمہ: جو زمین، آسمان یا نہر کے پانی سے سیراب کی جائے تو اس میں مکمل عشر واجب ہے، اور جو کھیتی ڈول یا چرسے سے سیراب کی جائے، اس میں آدھا عشر (یعنی بیسواں حصہ) واجب ہوتا ہے۔ اس کی اصل رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی وہ حدیث ہے، جس میں فرمایا: جس کھیتی کو آسمان (بارش) سیراب کرے اس میں عشر ہے، اور جس کو ڈول یا چرسے سے سیراب کیا جائے اس میں آدھا عشر ہے۔ اور اس لئے بھی کیونکہ عشر زمین کی مشقت کے بدلے میں واجب ہوتا ہے، اس لیے مشقت کم یا زیادہ ہونے سے واجب کی مقدار میں فرق آئے گا۔ اور اگر کھیتی کو سال کے کچھ حصے میں نہر کے پانی سے اور کچھ حصے میں کسی آلے کے ذریعے سے سیراب کیا جائے، تو اس میں غالب کا اعتبار کیا جائے گا، کیونکہ اکثر کا حکم کل پر جاری ہوتا ہے۔ (بدائع الصنائع، جلد 2، صفحہ 185، مطبوعہ: کوئٹہ)
عُشر یا نصف عُشر لازم ہونے کی تفصیل کے متعلق بہار شریعت میں ہے ”جو کھیت بارش یا نہر نالے کے پانی سے سیراب کیا جائے، اس میں عُشر یعنی دسواں حصہ واجب ہے اور جس کی آبپاشی چرسے یا ڈول سے ہو، اس میں نصف عشر یعنی بیسواں حصہ واجب۔ اور پانی خرید کر آبپاشی ہو یعنی وہ پانی کسی کی مِلک ہے، اُس سے خرید کر آبپاشی کی جب بھی نصف عشر واجب ہے اور اگر وہ کھیت کچھ دنوں مینھ کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہے اور کچھ دنوں ڈول چر سے سے تو اگر اکثر مینھ کے پانی سے کام لیا جاتا ہے اور کبھی کبھی ڈول چرسے سے تو عشر واجب ہے، ورنہ نصف عشر۔ (بہار شریعت، جلد 1، صفحہ 917، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا عبدالرب شاکر عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5257
تاریخ اجراء: 13 صفر المظفر1448ھ/28 جولائی 2026ء