گھریلو جانوروں کے لیے اگائے گئے چارے پر عشر کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
گھریلو جانوروں کے لیے اگائے گئے چارے پر بھی عشر ہوگا ؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے کچھ گھریلو جانور ہیں، ان کے لیے ہم نے اپنی مخصوص اراضی میں چارہ لگاتے ہیں، کیا اس چارے پر عشر لازم ہو گا ؟ جو کہ گھریلو جانوروں کے لیے اگایا جاتا ہے، بیچنے کے لیے نہیں اگایا جاتا۔
جواب
پوچھی گئی صورت میں گھریلو جانوروں کے چارے کے لیے کاشت کی گئی فصل پر عشر لازم ہو گا۔
مسئلہ کی تفصیل یہ ہے کہ اگر چارے والی چیزوں، مثلاً گھاس پھوس وغیرہ کو زمین میں باقاعدہ کاشت نہ کیا جائے اور یہ خود بخود اُگ آئیں، تو ان کی پیداوار پر عشر لازم نہیں ہوتا ہے، کیونکہ ان کے ذریعے زمین کے منافع حاصل کرنا مقصود نہیں ہوتا، لیکن اگر کوئی چارے والی فصل کو بالقصد منافع حاصل کرنے کی نیت سے کاشت کرے، خواہ اسے بیچنے کی نیت ہو یا نہ ہو، بہر صورت اس کی پیداوار میں عشر (یعنی دسواں حصہ جبکہ بارش، نہر، وغیرہ کے پانی سے سیراب ہو) یا نصف عشر ( یعنی بیسواں حصہ جبکہ ٹیوب ویل وغیرہ کے پانی سے سیراب ہو) واجب ہے۔ چونکہ صورت مسئولہ میں چارے کی فصل کی کاشت کے ذریعے زمین کے منافع حاصل کرنا مقصود ہے اور زمین کو ان چیزوں میں مشغول کیا جا رہا ہے، لہذا اس فصل پر بھی اپنی تفصیل کے مطابق عشر یا نصف عشر لازم ہو گا۔
عشر کے وجوب کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿كُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ اٰتُوْا حَقَّهٗ یَوْمَ حَصَادِهٖ﴾ ترجمۂ کنز العرفان: ”تو اس کے پھل سے کھاؤ اور اس کی کٹائی کے دن اس کا حق دو ۔“ (پارہ 8، سورۃ انعام، آیت 141)
جانوروں کا جو چارہ، جیسے گھاس بغیر کاشت کیے خود بخود اُگ آئے، اس پر عشر لازم نہیں، جیسا کہ مذکورہ آیت کے تحت علامہ ابوبکر الجصاص رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ”ومن جهة النظر أن الأرض يقصد طلب نمائها بزراعتها الخضراوات كما يطلب نماؤها بزراعتها الحب، فوجب أن يكون فيها العشر كالحبوب، ولا يلزم عليه الحطب والقصب والحشيش; لأن ذلك ينبت في العادة إذا صادفه الماء من غير زراعة وليس يكاد يقصد بها الأرض، فلذلك لم يجب فيها شيء، ولا خلاف في نفي وجوب الحق عن هذه الأشياء“
ترجمہ: عقلی دلیل سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ زمین سے سبزیاں اگا کر اس کی پیداوار حاصل کرنا مقصود ہوتا ہے، جس طرح غلہ کاشت کر کے اس کی پیداوار حاصل کرنا مقصود ہوتا ہے، لہٰذا جس طرح غلے میں عشر واجب ہوتا ہے، یونہی سبزیوں میں بھی عشر واجب ہے۔ البتہ اس پر لکڑی، سرکنڈا اور گھاس کو قیاس نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ چیزیں عموماً بغیر کاشت کے، صرف پانی ملنے سے خود ہی اُگ آتی ہیں، اور عام طور پر زمین کو ان کی کاشت کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا، اسی لیے ان میں کوئی حق واجب نہیں ہوتا۔ نیز ان اشیاء میں عشر واجب نہ ہونے کے بارے میں علماء کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔ (احکام القرآن للجصاص، جلد 3، صفحہ 16، مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
جن چیزوں کی پیداوار سے منافع حاصل کرنا مقصود نہ ہو، اگر انہیں باقاعدہ کاشت کیا جائے، تو ان میں عشر لازم ہو گا، جیساکہ لکڑی، گھاس وغیرہ کی کاشت کرنے کے متعلق در مختار میں ہے:”لو اشغل ارضہ بھا یجب العشر“ ترجمہ: اگر کوئی اپنی زمین ان (گھاس، لکڑی وغیرہ) میں مشغول کر دے، تو عشر واجب ہوگا۔
اس کے تحت علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ”وان المدار علی القصد حتی لو قصد بذلک وجب العشر“ ترجمہ: اور بےشک (عشر واجب ہونے کا) دار و مدار قصد پر ہے، یہاں تک کہ اگر ان (مذکورہ بالا چیزوں سے منافع) کا قصد کر لیا، تو عشر واجب ہوگا۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 3، صفحہ 315، مطبوعہ کوئٹہ)
اس جزئیہ سے واضح ہوا کہ اگر ذکر کردہ اشیاء کو زمین سے مقصودی طور پر حاصل کیا جائے، تو عشر لازم ہوگا، یہی وجہ ہے کہ فقہائے کرام نے صراحت فرمائی کہ اگر چارے والی چیزوں، مثلاً گھاس پھوس کی باقاعدہ کاشت کی جائے، تو ان میں بھی عشر لازم ہو گا، جیسا کہ صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ”جو چیزیں ایسی ہوں کہ اُن کی پیداوار سے زمین کے منافع حاصل کرنا مقصود نہ ہو اُن میں عشر نہیں، جیسے ایندھن، گھاس، نرکل، سنیٹھا، جھاؤ، کھجور کے پتّے، خطمی، کپاس، بیگن کا درخت، خربزہ، تربز، کھیرا، ککڑی کے بیج۔ یوہیں ہر قسم کی ترکاریوں کے بیج کہ اُن کی کھیتی سے ترکاریاں مقصود ہوتی ہیں، بیج مقصود نہیں ہوتے۔ یوہیں جو بیج دوا ہیں مثلاً کندر، میتھی، کلونجی اور اگر نرکل، گھاس، بید، جھاؤ وغیرہ سے زمین کے منافع حاصل کرنا مقصود ہو اور زمین ان کے لیے خالی چھوڑ دی تو اُن میں بھی عشر واجب ہے۔“ (بھارِ شریعت، جلد 1، حصہ 5، صفحہ 917، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-10079
تاریخ اجراء: 24 محرم الحرام 1448ھ/10 جولائی 2026ء