logo logo
AI Search

حج کیلئے جمع کی گئی رقم پر زکوٰۃ ہوگی؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

حج کے لئے گورنمنٹ کو جمع کروائی گئی رقم پر زکوٰۃ کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

جس وقت زکوۃ کا سال پورا ہو، اس وقت کا اعتبار ہے، اگر سال پورا ہونے کے وقت تک آپ کانام متوقع امیدواروں کی فہرست سے نکل کر حتمی فہرست میں داخل ہوچکا، اور جمع کردہ رقم عرفا ناقابل واپسی قرار پائی، تو ایسی صورت میں جمع کردہ رقم، پیکج کی اجرت قرار پاکر ملکیت سے نکل چکی، لہذا اس رقم پر زکوۃ لازم نہیں۔

اور اگر سال پورا ہونے کے وقت تک حج کے لیے نام منتخب نہیں ہوا، تو یہ جمع شدہ رقم قرض ہے، لہذا اس کی زکوۃ ادا کرنا لازم ہے، بشرطیکہ زکوۃ کی دیگر شرائط پائی جائیں، لیکن اس کی ادائیگی فی الفور لازم نہیں، بلکہ جب کل مال یا نصاب کا پانچواں حصہ وصول ہوجائے، تب اس کی ادائیگی لازم ہوگی۔

ردالمحتار ميں ہے "إذا أمسكه لينفق منه كل ما يحتاجه فحال الحول، و قد بقي معه منه نصاب فإنه يزكي ذلك الباقي، و إن كان قصده الإنفاق منه أيضا في المستقبل لعدم استحقاق صرفه إلى حوائجه الأصلية وقت حولان الحول" ترجمہ: اگر کسی شخص نے مال اس غرض سے اپنے پاس رکھا ہو کہ وہ اپنی ضروریات کے مطابق اس میں سے خرچ کرتا رہے، پھر اس پر سال گزر جائے اور اس میں سے نصاب کے برابر مال باقی رہ جائے، تو اس باقی ماندہ رقم کی زکاۃ ادا کرنا واجب ہوگی، اگرچہ آئندہ بھی اس کا ارادہ اسی مال میں سے خرچ کرنے کا ہو، کیونکہ سال پورا ہونے کے وقت وہ مال اس کی بنیادی ضروریات میں صرف نہیں ہوا تھا۔ (رد المحتار، جلد 3، صفحہ 213، مطبوعہ: کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے "حاجتِ اصلیہ میں خرچ کرنے کے روپے رکھے ہیں تو سال میں جو کچھ خرچ کیا کیا اور جو باقی رہے اگر بقدر نصاب ہیں تو ان کی زکاۃ واجب ہے، اگرچہ اسی نیّت سے رکھے ہیں کہ آئندہ حاجتِ اصلیہ ہی میں صَرف ہوں گے۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 5، صفحہ 881، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

تنوير الابصار و در مختار میں ہے (فتجب) زكاتها إذا تم نصابا و حال الحول، لكن لا فورا بل (عند قبض أربعين درهما من الدين) القوي كقرض (وبدل مال تجارة) فكلما قبض أربعين درهما يلزمه درهم" ترجمہ: جب نصاب پورا ہو، اور سال گزر جائے تو زکوۃ واجب ہے،لیکن فورا نہیں بلکہ دین قوی (جیسا کہ قرض اورمالِ تجارت کےبدل)سے چالیس درہم (نصاب کا پانچواں حصہ) حاصل کر لینے پر ایک درہم واجب ہے، پس جب بھی وہ چالیس درہم پر قابض ہو گیا،تو ایک درہم لازم ہو گیا۔ (تنوير الابصار و در مختار مع رد المحتار، جلد 3، صفحہ 281، مطبوعہ: کوئٹہ)

فتاوی اہلسنت میں ہے "جب تک حتمی طورپر آپ کانام منتخب نہیں ہوجاتا آپ کی جمع کردہ رقم منتظمین کے پاس قرض کے حکم میں ہے ایسی حالت میں اگر نصاب کا سال پورا ہو کر زکوۃ نکالنے کی تاریخ آجاتی ہے تو آپ کو اس جمع شدہ رقم کی زکوۃ ادا کرنا ہوگی۔ البتہ سرکاری اسکیم ہو یا پرائیویٹ طو رپر حج کی درخواست جمع کروائیں جب آپ کا نام تمام کاغذی کاروائی مکمل ہونے کے بعد متوقع امیدواروں کی فہرست سے نکل کر حتمی فہرست میں داخل ہوجائے اور جمع کردہ رقم عرفا ناقابل واپسی قرار پائے تو یہ معاہدہ طے ہوجانے کی علامت ہے اور ایسی صور ت میں آپ کی جمع کردہ رقم پورے پیکج میں اجرت قرار پاکر آپ کی ملکیت سے نکل جائے گی اور اس پر اب زکوۃ نہیں ہوگی ۔ ۔ ۔ لہذا جس وقت آپ کا زکوۃ کا سال پورا ہوا اس وقت تک اگر آپ کا نام حتمی طور پر عازمین حج میں شامل ہو چکا تھا تو چونکہ اجارہ بشرط التعجیل کی وجہ سے رقم آپ کی ملکیت سے نکل گئی اس لیے اس کی زکوۃ دینا آپ پر لازم نہیں لیکن اگر سال پورا ہوتے وقت بھی آپ متوقع امیدواروں میں شامل تھے (حتمی طور پر ابھی تک منتخب نہیں ہوئے) تو وہ رقم آپ کی ملکیت اور گورنمنٹ کے پاس قرض کی حیثیت سے امانت تھی، لہٰذا اس رقم کی زکوٰۃ بھی آپ پر فرض ہے۔ لیکن اس کی ادائیگی فی الفور لازم نہیں بلکہ جب نصاب کا خمس وصول ہوجائے تب اس کا ڈھائی فیصد زکوٰۃ میں دینا واجب ہوگا۔ (فتاویٰ اہل سنت، صفحہ 170، 171، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو شاہد مولانا محمد ماجد علی مدنی 
فتویٰ نمبر: WAT-5248
تاریخ اجراء: 18 صفر المظفر 1448ھ / 03 اگست 2026ء