کن پرندوں کی بیٹ پاک اور کن کی ناپاک ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
کن پرندو ں کی بیٹ پاک ہے اور کن کی ناپاک؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
پرندوں کی بیٹ کے حوالے سے ضابطہ یہ ہے کہ جو پرندے اونچا نہیں اڑتے، جیسے مرغی، بطخ وغیرہ، ان کی بیٹ نجاستِ غلیظہ ہے اور جو پرندے اونچا اڑتے ہیں، لیکن حلال نہیں جیسے چیل، شِکرا، باز، وغیرہ، ان کی بیٹ نجاستِ خفیفہ ہے اور جو اونچا اڑتے ہیں اور حلال ہیں جیسے: کبوتر،مینا، مرغابی ، وغیرہ ان کی بیٹ پاک ہے، چونکہ بگلا بھی اونچا اڑنے والا ایک حلال پرندہ ہے، لہذا اس کی بیٹ پاک ہے۔
تنویر الابصار و در مختار میں پرندوں کی بیٹ کے حوالے سے نجاستِ غلیظہ کے بیان میں ہے: (و خرء) كل طير لا يذرق في الهواء كبط (و دجاج) أما ما يذرق فيه، فإن مأكولا فطاهر و إلا فمخفف‘‘ ہر وہ پرندہ جو ہوا میں بیٹ نہیں کرتا جیسے بطخ اور مرغی، ان کی بیٹ (نجاستِ غلیظہ ہے)، رہے وہ (پرندے) جو ہوا میں بیٹ کرتے ہیں، تو اگر وہ حلال ہوں، تو (ان کی بیٹ) پاک ہے، ورنہ نجاستِ خفیفہ ہے۔ ملخصا۔ (تنویر الابصار و در مختار، ج 1، ص 577، مطبوعہ کوئٹہ)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے: و خرء الدجاج و البط و الاوز نجس نجاسۃ غلیظۃ ھکذا فی فتاویٰ قاضیخان ۔ ۔ ۔ و خرء طیر لایؤکل مخفف ھکذا فی الکنز ۔ ۔ ۔ ۔ و ذرق ما یؤکل لحمہ من الطیرطاھر عندنا مثل الحمام و العصافیر کذا فی السراج الوھاج‘‘ مرغی، بڑی بطخ اور چھوٹی بطخ کی بیٹ نجاستِ غلیظہ ہے، اسی طرح فتاویٰ قاضی خان میں ہے، اور وہ پرندے جو حلال نہیں ان کی بیٹ نجاستِ خفیفہ ہے، اسی طرح کنز میں ہے۔ اور وہ پرندے جن کا گوشت کھایا جاتا ہے، ان کی بیٹ ہمارے نزدیک پاک ہے ، جیسے کبوتر اور چڑیا، اسی طرح سراج وہاج میں ہے۔ ملتقطا۔ (فتاویٰ عالمگیری ج 1، ص 87 تا 89، مطبوعہ کوئٹہ)
بہار شریعت میں ہے: جوپرند کہ اونچا نہ اُڑے اس کی بِیٹ، جیسے مر غی ا ور بَط چھوٹی ہو خواہ بڑی ۔۔نَجاستِ غلیظہ ہیں اور جس پرند کا گوشت حرام ہے، خواہ شکاری ہو یا نہیں، (جیسے کوا، چیل، شِکرا، باز، بہری) اس کی بِیٹ نجا ستِ خفیفہ ہے، جو پرند حلال اُونچے اُڑتے ہیں جیسے کبوتر، مینا، مرغابی، قاز، ان کی بیٹ پاک ہے۔ (ملتقطا از بھار شریعت ج 1، ص 391، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
بگلےکی بیٹ پاک ہے۔ چنانچہ صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی سے سوال ہوا سفید رنگ کا پرندہ جس کو بگلا کہتے ہیں، اس کی بیٹ پاک ہوتی ہے؟ اس کے جواب میں فر مایا: بگلا کی بیٹ پاک ہے اس لیے کہ جو پر ند ہوا میں اڑتی ہیں اور حلال ہیں ان کی بیٹ پاک ہے۔ ملخصا (فتاوی امجدیہ، ج 1، ص 33، مطبوعہ مکتبہ رضویہ، کراچی)
مشورہ: نجاست غلیظہ اور خفیفہ کے تفصیلی احکام جاننے کے لیے بہار شریعت حصہ دوم میں نجاستوں کا بیان مطالعہ کریں۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی فضیل رضا عطاری
فتویٰ نمبر: Mul-560
تاریخ اجراء: 15 جمادی الاول 1447ھ / 10 دسمبر 2022ء