عورت کی شرمگاہ میں انگلی داخل کرنے سے غسل فرض ہوجاتا ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
عورت کی شرمگاہ میں انگلی داخل کرنے سے غسل کا حکم؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
صرف انگلی داخل کرنے سے غسل فرض نہیں ہوگا کیونکہ انگلی داخل کرنا شہوت کاملہ کا سبب نہیں، البتہ اس کے ساتھ انزال ہو گیا یعنی منی بھی خارج ہو گئی تو غسل فرض ہو جائے گا۔
مراقی الفلاح میں ہے: "و" منها "إدخال أصبع و نحوه" كشبه ذكر مصنوع من نحو جلد "في أحد السبيلين" على المختار لقصور الشهوة یعنی مختار قول کے مطابق شہوت ناقص ہونے کی وجہ سے غسل فرض نہ کرنے والی چیزوں میں انگلی وغیرہ داخل کرنا ہے جیسے آلہ تناسل کی مثل کوئی چیز جانور کی کھال سے بنا کر اگلی یا پچھلی شرمگاہ میں داخل کرنا۔ (مراقي الفلاح مع الطحطاوی، ص 101)
مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: عورت نے اپنی فرج میں انگلی یا جانور یا مردے کا ذَکر یا کوئی چیزربڑ یا مٹی وغیرہ کی مثلِ ذَکر کے بنا کر داخل کی تو جب تک اِنزال نہ ہو غُسل واجب نہیں۔ (بہار شریعت، حصہ دوم، صفحہ 323، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا عابد عطاری مدنی
فتوی نمبر: FatwaQA-032
تاریخ اجراء: 19 ربیع الاول 1448ھ / 01 اگست 2026ء