logo logo
AI Search

حیض کم دنوں میں رکنے پر ہمبستری کا حکم

بسم اللہ الرحمن الرحيم

ماہواری ختم ہونے پر کب ازدواجی معاملات کب کرنا، جائز ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا اگر حیض کم دنوں میں رُک جائے تو کیا عورت سے ہمبستری کرنا، جائز ہے؟

جواب

حیض کی زیادہ سے زیادہ مدت دس (10) دن ہے، اس مدت سے پہلے حیض کے رُک جانے کی دو صورتیں ہوتی ہیں:

(1) اگر پچھلی عادت کے دنوں سے پہلے ہی رُک گیا، مثلاً عورت کو پچھلی بار سات دن حیض آیا تھا، اب کی بارپانچ دن آکر رُک گیا، تو عورت سے ہمبستری کرنا،جائز نہیں ،اگرچہ عورت نے غسل کر لیا ہو، اس صورت میں عورت کے عادت کے دن پورے ہونے کا انتظار کرنا واجب ہے۔

(2) اگر حیض دس دن سے پہلے لیکن عادت کے ایام پورے کرکے رُ ک جائے، مثلاً پہلے سات دن آتا تھا اور اس مرتبہ بھی سات یا آٹھ دن میں آکر رُک گیا، یا یہ عورت کا پہلا حیض ہو اور وہ دس دن سے پہلے ختم ہوگیا، تو شوہر کے لیے عورت سے ہمبستری کرنا اس وقت تک جائز نہیں جب تک درج ذیل دو صورتوں میں سے ایک صورت نہ پائی جائے:

پہلی صورت: عورت غسل کرلے، یعنی اگر پانی موجود ہو تو غسل کرے، اور اگر بیماری یا پانی نہ ہونے کی وجہ سے تیمم کرے تو صرف تیمم کافی نہیں، بلکہ تیمم کے بعد فرض نماز بھی ادا کرے، تب ہمبستری کرنا، جائز ہوگا۔

دوسری صورت: عورت غسل نہ کرے، لیکن نماز کا وقت گزر جائے، یعنی اگر عورت نے غسل نہیں کیا، تو فرض نماز میں سے کسی نماز کا وقت گزرجائے جس میں اسے اتنا وقت ملا ہو کہ وہ غسل کر کے، سر سے پاؤں تک چادر اوڑھ کر تکبیرِ تحریمہ کہہ کر نماز شروع کرسکتی تھی۔ جب اتنا وقت مل کر کسی فرض نماز کا وقت گزر جائے گا تو عورت سے ہمبستری جائز ہوجائے گی،ورنہ نہیں۔

چنانچہ تنوير الابصار مع درمختار میں ہے:’’(و ان) انقطع ۔ ۔ ۔ لدون عادتها لم يحل، ۔ ۔ ۔؛ و إن لعادتها، ۔ ۔ ۔ (لا) يحل (حتى تغتسل) أو تتيمم بشرطه (أو يمضي عليها زمن يسع الغسل) و لبس الثياب (و التحريمة) يعني من آخر وقت الصلاة‘‘ ملتقطاً۔ ترجمہ: اور اگر خون عورت کی عادت کی مدت سے کم پر بند ہوگیا تو اس سے (ہمبستری) حلال نہیں ہوگی، اور اگر خون اس کی عادت کی مدت کے مطابق بند ہو تو بھی وطی حلال نہیں ہوگی، یہاں تک کہ وہ غسل کرلے، یا اپنی شرائط کے ساتھ تیمم کرلے، یا اس پر اتنا وقت گزر جائے جس میں غسل، کپڑے پہننے اور تکبیرِ تحریمہ کہنے کی گنجائش ہو، یعنی نماز کے آخری وقت سے اتنی مدت گزر جائے۔

سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں: ”جو حیض اپنی پوری مدت یعنی دس دن کامل سے کم میں ختم ہوجائے اس میں دو صورتیں ہیں: یا تو عورت کی عادت سے بھی کم میں ختم ہوا یعنی اس سے پہلے مہینے میں جتنے دنوں آیا تھا اتنے دن بھی ابھی نہ گزرے اور خون بند ہوگیا جب تو اس سے صحبت ابھی جائز نہیں اگرچہ نہالے اور اگر عادت سے کم نہیں مثلاً پہلے مہینے سات دن آیا تھا اب بھی سات یا آٹھ روز آکر ختم ہوا یا یہ پہلا ہی حیض ہے جو اس عورت کو آیا اور دس دن سے کم میں ختم ہوا تو اس سے صحبت جائز ہونے کے لئے دو باتوں سے ایک بات ضرور ہے یا تو عورت نہالے اور اگر بوجہ مرض یا پانی نہ ہونے کے تیمم کرنا ہو تو تیمم کرکے نماز بھی پڑھ لے، خالی تیمم کافی نہیں یا طہارت نہ کرے تو اتنا ہو کہ اس پر کوئی نمازِ فرض، فرض ہوجائے یعنی نمازِ پنجگانہ سے کسی نماز کا وقت گزرجائے جس میں کم سے کم اس نے اتنا وقت پایا ہو جس میں نہاکر سر سے پاؤں تک ایک چادر اوڑھ کر تکبیر تحریمہ کہہ سکتی تھی، اس صورت میں بے طہارت بھی اس سے صحبت جائز ہوجائے گی، ورنہ نہیں۔“ (فتاویٰ رضویہ، جلد 4، صفحہ 352، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ بہار شریعت میں لکھتے ہیں: ”پورے دس دن پر (حیض) ختم ہوا تو پاک ہوتے ہی اس سے جماع جائز ہے، اگرچہ اب تک غسل نہ کیا ہو مگر مستحب یہ ہے کہ نہانے کے بعد جماع کرے۔ دس دن سے کم میں پاک ہوئی تو تاوقتیکہ غسل نہ کرلے یا وہ وقتِ نماز جس میں پاک ہوئی گزر نہ جائے جماع جائز نہیں اور اگر وقت اتنا نہیں تھا کہ اس میں نہاکر کپڑے پہن کر ااکبر کہہ سکے تو اس کے بعد کا وقت گزر جائے یا غسل کرلے تو جائز ہے، ورنہ نہیں۔ عادت کے دن پورے ہونے سے پہلے ہی ختم ہو گیا تو اگرچہ غسل کرلے جماع ناجائز ہے تاوقتیکہ عادت کے دن پورے نہ ہولیں، جیسے کسی کی عادت چھ دن کی تھی اور اس مرتبہ پانچ ہی روز آیا تو اسے حکم ہے کہ نہا کر نماز شروع کردے مگر جماع کے لیے ایک دن اور انتظار کرنا واجب ہے۔“ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 383، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: FAM-1288
تاریخ اجراء: 22 صفر المظفر 1448ھ / 06 اگست 2026ء