logo logo
AI Search

نبیذ سے وضو کرنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

نبیذ سے وضو کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

نبیذ سے وضو کرنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

نبیذ میں چھوہارے یا کشمش وغیرہ کوئی میوہ، جب اتنا ڈالیں کہ پانی اپنی طبعی رقّت پر نہ رہے، تو اس سے بالاجماع وضو ناجائز ہے، اور اگر پانی ابھی مغلوب نہیں ہوا، وہ مائے مطلق ہی ہے، تو اس صورت میں اس سے وضو کیا جا سکتا ہے، اور اگر حالت مشتبہ ہو (تحقیق نہ ہو کہ پانی اس میوے سے مغلوب ہو کر نبیذ ہوگیا، یا ابھی نہیں ہوا) تو اس صورت میں اس سے وضو بھی کرے کہ شاید پانی ہو، اور تیمم بھی کرے کہ شایدپانی نہ ہو، اور اس صورت میں اختیار ہے کہ خواہ پہلے وضو کرے، بعد میں تیمم، یا پہلے تیمم کرے اور بعد میں وضو، ہاں! بہتر یہ ہے کہ وضو پہلے کرے، نیز اس صورت میں جب وضو کرے گا، تو اس میں نیت شرط ہے، بغیر نیت وضو درست نہیں ہوگا۔

امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: "نبیذ میں چھوہارے یا کشمش خواہ کوئی میوہ شربت میں شکر بتاسے مصری خواہ کوئی خشک شیرینی خیساندہ میں دوا رنگ میں کسم کیسر پڑیا روشنائی میں کسیس مازو خواہ اور اجزاء جب اتنے ڈالیں کہ پانی اپنی رقّت پر نہ رہے اس سے بالاجماع وضو ناجائز ہے۔" ( فتاوی رضویہ، جلد 02، صفحہ، 626، 627، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

"مسائل طہارت کا انسائیکلو پیڈیا" نامی کتاب میں فتاوی رضویہ کے حوالے سے ہے" اسی طرح پانی ایسی حالت پر ہے کہ اس کے مطلق و مقید ہونے میں اشتباہ ہے جیسے نبیذ تمر وغیرہ جس میں تحقیق نہ ہو کہ پانی اُس میوے سے مغلوب ہو کر نبیذ ہو گیا یا ابھی نہیں ہوا، اُس سے وضو بھی کرے کہ شاید پانی ہو اور تیمم بھی کہ شاید نہ ہو۔ اور اس صورت میں جب وہ وضو کرے گا تو اس میں نیت کر نا شرط ہے، بغیر نیت کے یہ وضو درست نہیں ہو گا۔

ہمارے امام اعظم رضی اللہ عنہ سے نبیذ تمر میں جو تین حکم مروی ہیں، ایک یہ کہ اُس سے وضو کرے۔ دوسرا یہ کہ وضو نہ کرے، تیمم ہی کرے۔ اور تیسرا یہ کہ وضو و تیمم دونوں کرے۔

ان کی توجیہ یہی ہے کہ یہ تین مختلف حالتوں کے احکام ہیں:

(الف) جس صورت میں پانی ابھی مغلوب نہیں ہوا وہ مائے مطلق ہی ہے تو اس صورت میں اس سے وضو کا حکم فرمایا۔

(ب) جس صورت میں پانی مغلوب ہو گیا اور مائے مطلق نہ رہا تو تیمم کا حکم فرمایا۔

(ج) جہاں مغلوب ہونا نہ ہونا، مشتبہ ہو گیا تو دونوں کو جمع کرنے کا فرمایا۔

ضروری نوٹ: ۔ ۔ ۔ ۔ اختیار ہے چاہے وضو پہلے کرے، چاہے تیمم۔ اور بہتر یہ ہے کہ وضو پہلے کرے۔" (مسائل طہارت کا انسائیکلو پیڈیا، ص 70،مکتبۃ المدینہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو شاہد مولانا محمد ماجد علی مدنی 
فتوی نمبر: WAT-5428
تاریخ اجراء: 05 ربیع الآخر 1448ھ / 17 ستمبر 2026ء