logo logo
AI Search

دانتوں میں ڈینٹل فلنگ کروائی ہو تو وضو اور غسل کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

دانتوں میں ڈینٹل فلنگ کروانے والے کے وضو اور غسل کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ میری ایک داڑھ tooth decay  کی وجہ سے کافی damage ہوچکی ہے، تقریباً خراب ہو گئی ہے۔ Dentist نے مجھے filling (بھرائی) کروانے کا مشورہ دیا ہے۔ اب میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا dental filling کروانے کی صورت میں اس کے بعد میرا وضو اور غسل ہو جائے گا یا کوئی مسئلہ تو نہیں ہوگا؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں داڑھ کی خرابی کی وجہ سے (dental filling) کروانا بالکل جائز عمل ہے اور اس کے بعد آپ کا وضو اور غسل بھی بلا کراہت درست ہو جائے گا، یہ نہیں کہا جائے گا کہ (filling) کی وجہ سے نیچے پانی نہیں پہنچا، اس لیے وضو کی سنت یا غسل میں کلی کا فرض ادا نہیں ہوا، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جب (filling) ہوجاتی ہے تو وہ دانت ہی کا حصہ بن جاتی ہے، اور اس پر پانی پہنچ جانا ہی کافی ہوتا ہے۔ اس کے نیچے تک پانی پہنچانا ناممکن رہتا ہے اور نہ ہی شرعاً اس کا مکلف بنایا گیا ہے، کیونکہ شریعتِ مطہرہ کا اصول یہ ہے کہ وضو یا غسل میں ایسی جگہ تک پانی پہنچانا لازم نہیں جہاں پانی پہنچانا یا تو ممکن نہ ہو یا اس میں مشقت و حرج ہو۔

جہاں پانی پہنچانا، ممکن نہ ہو یا اس میں مشقت و حرج ہو تو وضو و غسل کے معاملے میں وہاں تک پانی پہنچانے کا انسان مکلف نہیں، در مختار میں ہے: ”(ويجب) أي يفرض (غسل) كل ما يمكن من البدن بلا حرج مرة۔۔و(لا) يجب (غسل ما فيه حرج كعين) وإن اكتحل بكحل نجس (وثقب انضم )“ ترجمہ: اور پورے بدن میں جتنی جگہ کو بغیر مشقت کے دھونا، ممکن ہو، اس کا ایک مرتبہ دھونا فرض ہے، جبکہ ایسی جگہ کو دھونا فرض نہیں جس میں حرج و دشواری ہو، جیسے آنکھ کا اندرونی حصہ، اگرچہ کسی نے ناپاک سرمہ لگایا ہو۔ اسی طرح وہ سوراخ جو بند ہو چکا ہو۔ (الدر المختار مع رد المحتار، ج 01، ص 152، مطبوعہ مصر)

فتاوٰی عالمگیری میں ہے: ”في مجموع النوازل إذا كان برجله شقاق فجعل فيه الشحم وغسل الرجلين ولم يصل الماء إلى ما تحته ينظر إن كان يضره إيصال الماء إلى ما تحته يجوز وإن كان لا يضره لا يجوز. كذا في المحيط فإن خرزه جاز بكل حال. كذا في الخلاصة.وذكر شمس الأئمة الحلواني إذا كان في أعضائه شقاق وقد عجز عن غسله سقط عنه فرض الغسل“ ترجمہ: مجموع النوازل میں ہے کہ اگر کسی کے پاؤں میں شگاف پڑ جائیں، پھر اس نے ان میں چربی لگالی اور پاؤں دھوئے، لیکن پانی اس چربی کے نیچے نہ پہنچ سکا، تو دیکھا جائے گا کہ اگر پانی پہنچانا اس کے لیے نقصان دہ ہو تو وضو جائز ہے، اور اگر نقصان دہ نہ ہو تو جائز نہیں۔ اسی طرح محیط برہانی میں مذکور ہے۔ اور اگر ان شگافوں کو سی دیا گیا ہو تو ہر حال میں وضو جائز ہوگا۔ اسی طرح خلاصہ میں مذکور ہے۔ اور شمس الائمہ حلوانی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جب اعضائے وضو میں شگاف ہوں اور انہیں دھونا، ممکن نہ ہو، تو اس حصے کو دھونے کا فرض ساقط ہو جاتا ہے۔ (الفتاوی الھندیۃ، ج 01، ص 05، دار الفکر)

داڑھ کی بھرائی والے مسئلے کی نظیر ہلتا ہوا دانت ہے کہ اگر تار سے باندھا ہو یا کسی مسالے وغیرہ سے جمایا ہو یا دانتوں میں چونا یا مِسِّی کی ریخیں جم گئی ہوں تو شرعی طور پر اس کے نیچے پانی بہانا ضَروری نہیں۔ فتاویٰ رضویہ میں ہے: ”ہلتا ہوا دانت اگر تارسے جکڑا ہے معافی ہونی چاہئے، اگرچہ پانی تار کے نیچے نہ بہے کہ بار بار کھولنا ضرر دے گا، نہ اس سے ہر وقت بندش ہوسکے گی۔ ہلتا ہوا دانت چاندی کے تار سے باندھنا یا مسالے سے جمانا جائز ہے اور اس وقت غسل میں اس تار یا مسالے کے نیچے پانی نہ بہنا معاف ہونا چاہئے۔ یوں ہی اگر اُکھڑا ہُوا دانت کسی مسالے، مثلاً برادہ آہن و مقناطیس وغیرہ سے جمایا گیا ہے جمے ہوئے چُونے کی مثل اس کی بھی معافی چاہئے۔ اقول لانہ ارتفاق مباح وفی الازالۃ حرج میں کہتا ہوں کیونکہ یہ انتفاع مباح ہے اور زائل کرنے میں حرج ہے۔ “  (فتاویٰ رضویہ، ج 1، ص 606، 607، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

بہار شریعت میں ہے: ”یوں ہی ہِلتا ہوا دانت تار سے یا اُکھڑا ہوا دانت کسی مسالے وغیرہ سے جمایا گیا اور پانی تار یا مسالے کے نیچے نہ پہنچے تو معاف ہے یا کھانے یا پان کے ریزے دانت میں رہ گئے کہ اس کی نگہداشت میں حَرَج ہے۔ ہاں بعد معلوم ہونے کے اس کو جدا کرنا اور دھونا ضروری ہے جب کہ پانی پہنچنے سے مانع ہوں۔“ (بہار شریعت، ج 01، ص 316، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: HAB-0747
تاریخ اجراء: 20 ذو القعدہ 1447ھ / 09 مئی 2026ء