logo logo
AI Search

ہم محمد ﷺ کے عبد ہیں کہنا کیسا ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

خود کو نبی پاک ﷺ کا بندہ کہنا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ "نحن عبادمحمدصلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم" (ہم محمد صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کے عبد ہیں) کہنا کیسا ہے؟

جواب

"نحن عبادمحمدصلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم" (ہم محمدصلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کے عبدہیں) کہنا شرعا درست ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔ اس کا ثبوت قرآن و احادیث کی واضح نصوص میں موجودہے۔ چنانچہ قرآن پاک میں اللہ تبارک و تعالی نے انسانوں کے غلاموں کو ان کے عباد (بندے) کے لقب سے ذکر فرمایا، پس ارشادخداوندی: ﴿وَ اَنْكِحُوا الْاَیَامٰى مِنْكُمْ وَ الصّٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَ اِمَآىٕكُمْ﴾ ترجمہ کنز الایمان: اور نکاح کردو اپنوں میں اُن کا جو بے نکاح ہوں اور اپنے لائق بندوں اور کنیزوں کا۔ (سورۃ النور، پ 18، آیت 32)

اسی طرح مختلف احادیث میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے انسانوں کے غلاموں کو ان کا عبد فرمایا۔ چنانچہ بخاری، مسلم، ابوداود، سنن ترمذی، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ وغیرہ میں روایت ہے، (و اللفظ للبخاری) "عن النبي صلى اللہ عليه و سلم قال: ليس على المسلم صدقة في عبده و لا في فرسه" ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: مسلمان پر صدقہ نہیں اس کے عبد (غلام) میں اور نہ اس کے گھوڑے میں۔ (صحیح البخاری، کتاب الزکوۃ، ج 01، ص 280، مطبوعہ کراچی)

حضرت عمرفاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے آپ کو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کا عبد، فرمایا۔ چنانچہ کنز العمال، المستدرک للحاکم اور الاعتقاد للبیہقی وغیرہ میں ہے (و اللفظ للآخر) "أخبرنا أبو عبد اللہ الحافظ، و أبو بكر أحمد بن الحسن و أبو صادق محمد بن أبي الفوارس قالوا: ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، ثنا إبراهيم بن سليمان البرلسي، ثنا عبد اللہ بن صالح، ثنا يحيى بن أيوب، عن ابن حرملة، عن سعيد بن المسيب، قال: لما ولي عمر خطب الناس على منبر رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم فحمد اللہ و أثنى عليه ثم قال: يا أيها الناس ۔ ۔ ۔ ۔ كنت مع رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم فكنت عبده و خادمه"

ترجمہ: حضرت سعیدبن مسیب رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے، فرمایا: جب حضرت عمررضی اللہ تعالی عنہ خلیفہ مقرر ہوئے تو آپ نے منبر رسول صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم پر لوگوں کوخطبہ دیا، پس اللہ تعالی کی حمدو ثناکرنے کے بعد فرمایا: اے لوگو! میں اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ تھا تو میں آپ علیہ الصلوۃ و السلام کا عبد (غلام) اور خادم تھا۔ (الاعتقاد للبیہقی، ص 360، مطبوعه بیروت)

اسی طرح فقہاء اسلام نے کتب فقہ میں جابجا، انسانوں کے غلاموں کو ان کا عبد فرمایا ہے۔ صرف ایک جزئیہ ذکر کیا جاتا ہے، چنانچہ درمختار میں ہے "و لو زوج المولى عبده البالغ ۔ ۔ ۔ الخ" ترجمہ: اور اگر مولی نے اپنے بالغ غلام کا نکاح کیا ۔ ۔ ۔ الخ۔ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب النکاح، ج 04، ص 103، مطبوعہ: کوئٹہ)

پس جب عام انسانوں کے غلاموں کو ان کا عبد کہا جاسکتا ہے تو امتی جوکہ اپنے نبی علیہ الصلوۃ و السلام کا خادم و غلام ہوتا ہے، اسے بھی اس کے نبی علیہ الصلوۃ و السلام کا عبد کہنے میں شرعا کوئی حرج نہیں ہے۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتوی نمبر: Lar-10990
تاریخ اجراء: 24 ربیع الآخر 1443ھ / 30 نومبر 2021ء