logo logo
AI Search

قبر پختہ کرنے اور اس پر عمارت بنانے کی ممانعت والی حدیث

بسم اللہ الرحمن الرحیم

قبر کو پختہ کرنے اور اس پر عمارت تعمیر کرنے سے ممانعت والی حدیث کی شرح

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ مزارات پر قبے اور گنبد بنانا، جائز نہیں، کیونکہ حدیثِ پاک میں ہے: ”نهى رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم أن يجصص القبر وأن يبنى عليه“ یعنی: نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے قبر کو پختہ کرنے اور اس پر عمارت تعمیر کرنے سے منع کیا ہے، لہٰذا قبر پر گنبد اور قبہ بنانا شرعا درست نہیں ہے۔ شرعی رہنمائی فرمائیں کہ کیا واقعی حدیثِ پاک میں مزارات پر گنبد بنانے سے منع کیا گیا ہے؟ سائل: عبداللہ

جواب

انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلامْ اور اولیائے عظام رَحِمَہُم اللہ کی تعظیم و توقیر، درحقیقت اسلام کی ہی تعظیم و توقیر ہے کہ قرآنِ کریم نے شعائر اللہ کی تعظیم کو دل کے تقویٰ کی علامت قرار دیا ہے اور حضراتِ انبیاء و اولیاء کے مزارات بھی شعائرِ اسلام میں داخل ہیں کہ یہ اسلام کی نشانی اور ان نفوسِ قدسیہ کی یادگار ہیں، نیز چونکہ صالحین کے مزارات پر مسلمان تلاوتِ قرآن، فاتحہ خوانی، ذکر و دعا اور فیوض و برکات کے حصول کے لیے آتے رہتے ہیں، اس لیے ان کے مزارات کی حفاظت، ان کی شناخت برقرار رکھنے، زائرین کی سہولت اور مخلوقِ خدا کے دلوں میں ان کے مقام و مرتبہ کے اظہار کے لیے عمارت اور گنبد وغیرہ تعمیر کرنا، نہ صرف جائز، بلکہ کارِ ثواب ہے۔

مزارات پر گنبد بنانے کے جواز و استحسان پر قرآن و حدیث کے دلائل کے لیے دارالافتاء اہل سنت کے تفصیلی فتویٰ (  Fsd:10127) کا مطالعہ فرمائیں ۔

جہاں تک سوال میں بیان کردہ اس حدیثِ پاک کا تعلق ہے کہ ”نهى رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم أن تجصص القبور، أو يبنى عليها“ یعنی: نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے قبروں کو پختہ کرنے اور ان پر تعمیر کرنے سے منع فرمایا ہے۔ ( مسند احمد، جلد 23، صفحہ 426، مطبوعہ بیروت)

تو اس حدیث پاک کا کسی بھی طرح صالحین کے مزارات پر بنے ہوئے گنبد اور قبہ جات کے ممنوع ہونے سے کوئی تعلق نہیں، کیونکہ حدیثِ پاک کے دو حصے ہیں: (1) أن تجصص القبور یعنی: قبروں کو پختہ کرنے سے منع فرمایا۔ (2) أو يبنى عليها یعنی: قبروں پر تعمیر کرنے سے منع فرمایا۔ ان دونوں جملوں کا وہ مفہوم درست نہیں جو سوال میں بیان کیا گیا ہے، لہٰذا ہر جملے کا درست مفہوم اور محمل اَئمۂ دین، فقہا ء و محدثین اور سلف صالحین کے اقوال و عبارات کی روشنی میں ملاحظہ کیجیے:

حدیثِ پاک کے پہلے حصے أن تجصص القبور“ کا درست مفہوم اور محمل:

(۱) حدیثِ پاک کے ان الفاظ میں درحقیقت قبر کا اندرونی حصہ پختہ کرنے کی ممانعت ہے، یعنی قبر کی اندرونی جانب کو پکی اینٹوں، وغیرہ سے پختہ نہ کیا جائے، اوپری جانب سے پختہ کرنے کی اجازت ہے، کیونکہ یہ خود نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے عمل سے ثابت ہے، چنانچہ احادیثِ طیبہ میں ہے کہ نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے اپنے شہزادے حضرت ابراہیم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی قبرِ مبارک کو اوپر سے پتھروں اور کنکروں سے پختہ فرمایا، جیسا کہ سنن الکبریٰ میں ہے: ”عن جعفر بن محمد عن أبيه: أن النبي صلى اللہ عليه وسلم ‌رش ‌على ‌قبر إبراهيم ابنه، ووضع عليه ‌حصباء“ یعنی: نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے اپنے شہزادے حضرت ابراہیم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی قبر پر پانی کا چھڑکاؤ کیا اور اس پر کنکریاں ڈالیں۔ ( سنن کبریٰ ، جلد 3 ، صفحہ 576 ، مطبوعہ بیروت )

مذکورہ حدیثِ پاک کے تحت مرقاۃ المفاتیح میں ہے: ”قال ابن الملك: وهو يدل على أن وضع الحصا عليه سنة، لئلا ينبشه سبع“ یعنی: امام عبدالملک علیہ الرحمۃ نے فرمایا: یہ حدیثِ پاک اس بات پر دلیل ہے کہ قبر پر کنکریاں ڈالنا سنت ہے، تاکہ کوئی درندہ اسے کھود نہ سکے۔ ( مرقاۃ المفاتیح ، جلد 3 ، صفحہ 1223 ، مطبوعہ بیروت )

اسی حدیثِ پاک کے تحت کشاف القناع عن الاقناع میں ہے : ولأن ذلك ‌أثبت له، وأبعد لدروسه، وأمنع لترابه من أن تذهبه الرياح یعنی: قبر پر کنکریاں اس لیے ڈالیں، کیونکہ یہ قبر کو مضبوط اور پائیدار کرتی ہیں، قبر کو مٹ جانے سے محفوظ رکھتی ہیں اور قبر کی مٹی کو ہواؤں کے اڑا لے جانے سے روکتی ہیں۔ ( کشاف القناع ، جلد 4 ، صفحہ 209 ، مطبوعہ وزارۃ العدل ، السعودیۃ )

معلوم ہوا کہ کسی غرضِ صحیح کے لیے قبر کو اوپر سے پختہ کرنا، نہ صرف جائز، بلکہ نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے عملِ مبارک سے ثابت ہے ۔

اسی طرح سنن ابو داؤد میں ہے کہ حضرت عثمان ابن مظعون رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے وصال کے بعد جب ان کی تدفین ہوئی، تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ان کی قبر پر سرہانے والی جانب ایک بڑا پتھر نصب فرمایا، پھر فرمایا: ”أتعلم بها ‌قبر أخي، وأدفن إليه من مات من أهلي“ یعنی: میں اس نشان کے ذریعے اپنے بھائی کی قبر کو پہچانتا رہوں گا اور اسی جگہ اپنے اہل خانہ کی تدفین کروں گا۔ ( سنن ابو داؤد ، جلد 3 ، صفحہ 212 ، مطبوعہ بیروت)

اور صحیح بخاری کی حدیثِ پاک میں ہے کہ حضرت عثمان بن مظعون رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی قبر بہت اونچی تھی، چنانچہ خارجہ بن زید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: ”رأيتني ونحن شبان في زمن عثمان رضي اللہ عنه، وإن أشدنا وثبة الذي يثب ‌قبر ‌عثمان ‌بن ‌مظعون حتى يجاوزه“ یعنی: حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی خلافت کے زمانے میں ہم جوان تھے اور ہم میں سے بڑا کودنے والا اسے سمجھا جاتا تھا، جو عثمان ابن مظعون رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی قبر کو پھلانگ جاتا تھا۔ (صحیح البخاری، جلد 2، صفحہ 95، مطبوعہ مصر)

مذکورہ روایت کے تحت مرقاۃ المفاتیح میں ہے: ”ودليل الحثي جيد، ودليل ‌وضع ‌الحصى ضعيف، ومع ذلك يعمل به فيسن وضعها على القبر“ ترجمہ: اور (مذکورہ حدیث میں) قبر پر مٹی ڈالنے پر عمدہ دلیل ہے، جبکہ قبر پر کنکریاں ڈالنے کے بارے میں اس روایت کو دلیل بنانا ضعیف ہے، اس کے باوجود اس پر عمل کیا جائے گا ، کیونکہ قبر پر کنکریاں رکھنا سنت ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 3، صفحہ 1223، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

درحقیقت قبر کو اندر سے پختہ کرنا منع ہے، اوپر سے پختہ کرنے کی ممانعت نہیں، چنانچہ عامہ کتبِ فقہ میں ہے، واللفظ لتنویر الابصار و درالمختار: ”(یسوی اللبن علیہ و القصب لا الآجر) المطبوخ و الخشب لو حولہ اما فوقہ فلایکرہ“ یعنی: میت پر (قبر کے اندورنی حصے میں) کچی اینٹیں اور بانس لگا دے، میت کے گرد پکی اینٹیں اور لکڑی نہ لگائے، البتہ قبر کے تعویذ کے اوپر ہو، تو مکروہ نہیں۔

مذکورہ عبارت کے تحت رد المحتار میں ہے: ”فلو فوقہ لا یکرہ لانہ یکون عصمۃ من السبع“ یعنی: قبر کے اوپر پکی اینٹیں لگانا، مکروہ نہیں، کیونکہ اس میں درندوں سے حفاظت ہے۔ ( تنویر الابصار و در مختار مع رد المحتار، جلد 3 ، صفحہ 167 ، مطبوعہ کوئٹہ )

امامِ اہلِ سنَّت، امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”قبر پختہ نہ کرنا، بہتر ہے اور کریں، تو اندر سے کڑا کچا رہے، اوپر سے پختہ کرسکتے ہیں۔“ (فتاوی رضویہ ، جلد 9 ، صفحہ 425 ، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن ، لاھور)

ذکر کردہ دونوں روایات، ان کی شروحات اور اقوال فقہائے کرام سے واضح ہوا کہ سوال میں بیان کردہ حدیثِ پاک میں قبر کو اوپر سے پختہ کرنے سے منع نہیں کیا گیا، ورنہ نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم از خود قبر کے اوپر کنکریاں ڈال کر ا سے پختہ نہ فرماتے۔ یہی معنیٰ ائمہ دین اور فقہائے اسلام نے مراد لیا ہے۔ جیسا کہ اوپر جزئیات میں ذکر ہوا۔ لہٰذا خاص قبر کا نشان قائم رکھنے، یا پہچان، وغیرہ کسی صحیح مقصد کے لیے قبر اونچی کرنا یا بیرونی جانب سے پختہ کرنا، بلا شبہ جائز، بلکہ سنتِ فعلی سے ثابت ہے۔

حدیث پاک کے ان الفاظ أن تجصص القبور کا مذکورہ معنیٰ و مفہوم کئی علماءو بزرگانِ دین نے بیان فرمایا ہے، جیسا کہ مصنفِ کتبِ کثیرہ، فیضِ ملت، حضرت علامہ فیض احمد اویسی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اپنی تالیف " مزارات پر گنبد بنانا " میں اور مشہور مفسر و شارح، حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے "جاء الحق" میں ذکر کیا۔ (مزارات پر گنبد بنانا، ص 76، مطبوعہ عطاری پبلشرز) (جاء الحق ، ص 235 ، مطبوعہ قادری پبلشرز )

( ٢ ) قبروں کو زیب و زینت اور فخریہ طور پر پختہ کرنا منع ہے، لیکن کسی غرضِ صحیح اور فائدے کے لیے، مثلاً قبر کا نشان باقی رکھنے کیلئے اسے پختہ کرنا یا قبر کو درندوں وغیرہ سے محفوظ رکھنے کے لیے پختہ کرنا، بلا شبہ جائز ہے، جیسا کہ شہزادۂ رسول حضرت ابراہیم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اورحضرت عثمان ابن مظعون رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی قبر کے متعلق احادیث ذکر ہو چکیں۔

چنانچہ حدیثِ پاک میں ممانعت کی علت اور ا س علت کے نہ پائے جانے کی صورت میں رخصت کو بیان کرتے ہوئے امام شرف الدین طیبی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 743 ھ) لکھتے ہیں: ”لعل ورود النهي لأنه نوع من الزينة، ولذلك رخص بعضھم التطيين، منهم الحسن البصرى“ یعنی: ممکن ہے کہ حدیثِ پاک میں ممانعت کی وجہ یہ ہو کہ اس میں ایک قسم کی زیب و زینت ہے اسی وجہ سے بعض اکابرین نے (کہ جب زینت مقصد نہ ہو تو) قبر کو گارے، مٹی وغیرہ سے پکا کرنے کی اجازت دی ہے ، ان اجازت دینے والوں میں حضرت حسن بصری علیہ الرحمۃ بھی شامل ہیں۔ ( شرح المشکاۃ للطیبی، جلد 4، صفحہ 1407، مطبوعہ ریاض)

محقق علی الاطلاق شاہ عبد الحق محدث دہلوی حنفی بخاری رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1052 ھ) ”لمعات التنقیح“ میں لکھتے ہیں: ”لما فيه من الزينة والتكلف“ کیونکہ اس میں محض سجاوٹ اور تکلف ہے۔ ( لمعات ، جلد 4 ، صفحہ 171 ، مطبوعہ دمشق )

عظیم محدث و فقیہ، امام محمد بن خلیفہ وشتانی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 827 ھ) کی ”اكمال اكمال المعلم شرح صحيح مسلم“ میں ہے: ”اما البناء علی القبور بالرخام و نحوہ للمباھاۃ والزینۃ فقال ابن بشیر: لیست القبورموضع الزینۃ ولا مباھاۃ، فالبناء علیھا لشیئ من ذلک حرام، وان کان لحوز الموضع و تمییزہ فجائز“ یعنی: بہر حال قبروں پر فخر و نمائش اور زیب و زینت کے لیے سنگِ مرمر وغیرہ سے عمارت بنانا، تو ابن بشیر علیہ الرحمۃ نے فرمایا: قبریں زیب و زینت اور باہم فخر و مباہات کی جگہ نہیں ہیں، لہٰذا اس طرح کے کسی مقصد کے لیے قبر پر تعمیر کرنا حرام ہے۔ اور اگر مقصد اس جگہ کو محفوظ کرنا اور اسے دوسری جگہوں سے ممتاز کرنا ہو، تو جائز ہے۔ ( اکمال اکمال المعلم ، جلد 3 ، صفحہ 381 ، مطبوعہ بیروت )

فقہائے کرام نے بھی ممانعت کا حکم زینت کی بنا پر بیان کیا اور فرمایا کہ جب زینت مقصود نہ ہو، تو حرمت کا حکم بھی نہیں ہوگا، بلکہ غرضِ صحیح کے لیے قبر کو پختہ کرنااور اس پر تعمیر کرنا، جائز ہے، چنانچہ مراقی الفلاح میں ہے: ”(ويحرم البناء عليه للزينة) لما رويناه (ويكره) البناء عليه (للاحكام بعد الدفن) لأنه للبقاء والقبر للفناء“ یعنی: قبر پر زینت کی غرض سے تعمیر کرنا حرام ہے، اس کی وجہ وہی روایت جو ہم نے بیان کر دی۔ اور اگر قبر کو پختہ کرنا مقصود ہے، تو پھر (حرام نہیں بلکہ) مکروہ ہے کہ قبر کو پختہ کرنا بقا کے لیے ہوتا ہے اور قبر تو فنا ہونے کے لیے ہے۔

مراقی کی دلیل فنا مضبوط نہیں، کیونکہ اصحابِ قبور فنا کے لئے ہیں، نہ کہ قبور۔ قبور کی تو حفاظت کا شریعت نے خود حکم دیا ہے۔ اسی لئے مذکورہ بالا عبارت کے تحت علامہ طَحْطاوی حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات:1231ھ/1815ء) لکھتے ہیں: ”وقد اعتاد أهل مصر ‌وضع ‌الأحجار حفظا للقبور عن الاندارس والنبش ولا بأس به وفي الدر ولا يجصص ‌ولا ‌يطين ولا يرفع عليه بناء وقيل لا بأس به هو المختار“ یعنی: اور اہلِ مصر کا معمول ہے کہ وہ قبروں پر پتھر رکھتے ہیں، تاکہ قبریں مٹنے اور اکھاڑے جانے سے محفوظ رہیں، لہٰذا اس میں کوئی حرج نہیں۔ اور در مختار میں ہے: قبر کو پختہ نہ کیا جائے اور نہ اس پر چونا کیا جائے، اور نہ اس پر کوئی عمارت بلند کی جائے۔ لیکن ایک قول یہ ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں، اور یہی قول مختار ہے۔ ( حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی ، صفحہ 611 ، مطبوعہ بیروت )

معلوم ہوا کہ اگر زیب و زینت اور تفاخر مقصود نہ ہو، تو قبر کو اوپر سے پختہ کرنا، جائز ہے، یہ حدیثِ پاک کے ہرگز خلاف نہیں، بلکہ احادیثِ طیبہ کے عین مطابق ہے ۔

حدیثِ پاک کے الفاظ ”ان يبنى عليه“ کا درست مفہوم اور مراد:

( ۱) حدیثِ پاک میں بیان کردہ ممانعت عین قبر پر عمارت بنانے کی ہے، یوں کہ قبر دیوار میں شامل ہوجائے، قبر کے ارد گرد قبہ، وغیرہ بنانے کی ممانعت نہیں، یہی وجہ ہے کہ فقہائے اسلام نے عین قبر پر زیادہ مٹی ڈالنے کو ممنوع قرار دیا اور وجہ یہ بیان فرمائی کہ یہ حدیثِ پاک میں منع کردہ ”بناء علی القبر“ کے قائم مقام ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ اصل مراد عین قبر پر عمارت بنانا ہے، چنانچہ علامہ علاؤ الدین حصکفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 1088ھ/1677ء) لکھتے ہیں: ”وتكره الزيادة عليه من التراب لانه بمنزلة البناء“ یعنی: قبر پر مٹی زیادہ ڈالنا منع ہے، کیونکہ یہ قبر پر عمارت بنانے کے قائم مقام ہے۔

اسی طرح علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 1252ھ/1836ء) نے قبر پر زیادہ مٹی ڈالنے کی ممانعت اسی حدیث پاک کے تحت بیان کی، اس سے بھی یہی محمل مراد ہونا واضح ہوتا ہے، لہٰذا فقہائے اسلام کی بیان کردہ مراد کو چھوڑ کر حدیث کا خود ساختہ مفہوم بیان کر کے مزارتِ اولیاء پربنے قبہ جات کو ناجائز و ممنوع قرار دینا ہرگز درست نہیں۔ رد المحتار کی عبارت ملاحظہ کیجیے: ”وتكره الزيادة عليه كما في المسلم نهى رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم ان يجصص القبرو ان يبني عليه“ یعنی قبر پر زیادہ مٹی ڈالنا مکروہ ہے، جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے قبر کو پختہ کرنے اور اس پر کچھ بنانے سے منع فرمایا۔ (در مختار مع رد المحتار، ج 3، ص 168، 169، مطبوعہ کوئٹہ)

اور مفتیِ اعظم دہلی، حضرت مفتی مظہر اللہ شاہ دہلوی مجددی نقشبندی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات:1386 ھ) نے مزارات پر قبے اور گنبد بنانے کے متعلق اپنے تحقیقی رسالہ ”کشف الحجاب عن مسئلۃ البناء والقباب“ میں یہی مفہوم بیان کیا: ”بعض نے فرمایا کہ (حدیثِ پاک میں) عینِ قبر پر مقدارِ شرعی سے زیادہ کرنا مراد ہے، تو گویا کہ انہوں نے اس بنا کو قبرِ مشرف پر محمول کیا، جس کا اہلِ کتاب میں دستور تھا ، در مختار اور اس کے حاشیہ رد المحتار میں ہے (پھر آپ علیہ الرحمۃ نے دُر کی یہی مذکورہ بالا عبارت نقل کی، پھر مزید فرماتے ہیں) اسی طرح (در مختار کے) دوسرے مقام پر فرمایا: (ويسنم) ندبا وفي الظهيرية وجوبا قدر شبرهو مقتضى النهي المذكور، ويؤيده ما في البدائع من التعليل بأنه ‌من ‌صنيع ‌أهل ‌الكتاب، والتشبه بهم فيما منه بد مكروه، لكن في النهر أن الأول أولى قلت: ولعل وجهه شبهة الاختلاف“ یعنی: قبر کو کوہان نما بنایا جائے کہ یہ مستحب ہے۔ اور ظہیریہ میں ہے کہ اسے ایک بالشت کے بقدر اونچا رکھنا واجب ہے۔ (علامہ شامی فرماتے ہیں:) اور نہی مذکور (حدیثِ جابر ) کا تقاضا بھی وجوب کا ہے۔ اس کی تائید بدائع میں مذکور اس تعلیل سے بھی ہوتی ہے کہ قبروں کو اونچا کرنا اہلِ کتاب کا طریقہ ہے، اور مکروہ و ممنوع امور میں اہلِ کتاب کی مشابہت اختیار کرنا مکروہ ہے۔ لیکن نہر میں ہے کہ پہلا قول (استحباب والا ) ہی اولیٰ ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اس کی وجہ شاید اختلاف کی وجہ سے شبہ کا واقع ہو جانا ہے ۔حاشیہ ابو داؤد میں ہے: ”مشرِفا بکسر الراء من اشرف اذا ارتفع و ھو الذی بنی علیہ حتی ارتفع“ یعنی: مشرف راء کے کسرہ کے ساتھ، اشرف سے مشتق ہے۔ اور مشرف وہ قبر ہے جس پر بنا کی جائے یہاں تک کہ وہ قبر اونچی ہو جائے۔

(مزید لکھتے ہیں:) اور بعد امعان نظر یہی احتمال اوجہ معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیثِ پاک میں نفسِ قبر ہی کے متعلق احکام بیان فرمائے گئے ہیں کہ قبر پر چونا گچی نہ کی جائے اور یہ زینت ہے اور قبر محلِ زینت نہیں، اس پر اینٹ پتھر پر چنائی کر کے اونچا نہ کیا جائے کہ یہ بے فائدہ ہے، دوسرا یہ اہلِ کتاب کا بھی طریقہ ہے اور بے ضرورت ان کا طریقہ اختیار کرنا، مکروہ ہے۔ ( کشف الحجاب عن مسئلۃ البناء والقباب، مجموعہ مزارات پر گنبد، صفحہ 202 تا 204، مطبوعہ مسلم کتابوی، لاھور)

یہی مفہوم حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے "جاء الحق" میں بھی ذکر فرمایا ہے۔ ( جاء الحق ، صفحہ 230 ، مطبوعہ قادری پبلشرز )

پتا چلا کہ قبر پر بِنا کا مطلب یہ ہے کہ عینِ قبر پر یوں دیوار یا تعمیر کی جائے کہ قبر ہی اس دیوار میں آجائے اور قبر پر گنبد بنانا یہ ”بناء علی القبر“ نہیں، بلکہ ”بناء حول القبر“ یعنی قبر کے ارد گرد عمارت بنانا ہے، جو شرعاً ممنوع نہیں جیسا کہ خود نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی تربت اطہر پر صدیوں سے گنبد خضری موجود ہے بلکہ خود نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی تدفین ہی بِنا یعنی ایک بنی بنائی عمارت، (حجرہ عائشہ رضی اللہ عنھا) میں ہوئی۔

( ۲) حدیثِ پاک میں عمارت بنانے کی ممانعت سے مراد یہ ہے کہ قبر پر عمارت بنا کر اسے نماز کا قبلہ بنایا جائے۔ یوں اس حدیث کی تشریح وہ حدیثِ پاک ہے کہ جس میں فرمایا کہ ”اللهم لا تجعل قبري وثنا، لعن اللہ قوما اتخذوا قبور أنبيائهم مساجد“ یعنی: اے اللہ میری قبر کو بت نہ بنانا کہ جس کی عبادت کی جائے، اللہ کی لعنت اس قوم پر جس نے اپنے پیغمبروں کی قبروں کو مسجد بنالیا۔

یعنی قبر پر عمارت بنا کر اس کی طرف رخ کر کے عبادت کرنے کی ممانعت ہے، لیکن اگر عمارت بنانے سے یہ مقصود نہ ہو، بلکہ مقصود زائرین کی آسانی ہو، تو بلاشبہ جائز ہے (کما مرّ)۔ اس توجیہ کو فیضِ ملت، حضرت علامہ فیض احمد اویسی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اپنی تالیف "مزارات پر گنبد بنانا" میں اور مفتیِ اعظم دہلی، مفتی مظہر اللہ شاہ دہلوی مجددی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ”کشف الحجاب عن مسئلۃ البناء والقباب“ میں بھی ذکر فرمایا ہے۔ (مزارات پر گنبد بنانا، صفحہ 76، مطبوعہ عطاری پبلشرز/ کشف الحجاب، صفحه 204، مطبوعه مسلم كتابوی )

( ۳) یہ حکم عام مسلمانوں کی قبروں کیلئے ہے، کیونکہ خواص کی قبروں پر قبہ و عمارت بنانا، صحابہ کرام اورصحابیات عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے ثابت ہے۔ جیسا کہ سرکارِ دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا کے حجرے میں دفن کیا گیا (سنن ترمذی، 1/266، ط: بیروت) اور یہ بات کسی پر مخفی نہیں کہ حضرت عائشہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا کا حجرہ مکمل کمرے کی صورت میں تھا، جس پر چھت بھی تھی، تو اگر قبر کے ارد گرد عمارت کا ہونا، ناجائز تھا، تو صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان وہاں تدفین نہ کرتے، حالانکہ انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

پھر اس کے بعد صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے مختلف اَدوار میں سرورِ کائنات صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی قبرِ انور کے ارد گرد نئی تعمیرات کروائیں، جیسا کہ حضرت عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی قبرِ انور کے گرد عمارت بنوائی۔ (خلاصۃ الوفاء، ج 2، ص 125، شاملہ)

یونہی حضرت عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت زینب بنت حجش رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا کی قبر پر، حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْھَا نے اپنے بھائی عبد الرحمن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی قبر پر، حضرت مولیٰ علی کَرَّمَ اللہُ وَجْھَہٗ الْکَرِیْم کے بیٹے محمد بن حنفیہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی قبر پر اور حضرت امام حسن بن حسن بن علی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی قبر پر ان کی زوجہ نے خیمہ بنایا۔ ( صحیح البخاری ، جلد 1 ، صفحہ 446 ، مطبوعہ دمشق ) (المنتقیٰ، جلد 2، صفحہ 23، مطبوعہ مصر)

نیز خوّاص یعنی اہل اللہ کی قبور پر گنبد و قبہ جات کی تعمیر کا استثنا اور جداگانہ حکم صدیوں سے اکابرینِ امت بیان کرتے آ رہے ہیں، لہٰذا قبروں پر عمارت وغیرہ کی ممانعت کے عمومی دلائل کو عوام الناس کی قبور پر محمول کیا جائے گا۔ چنانچہ علامہ اسمٰعیل حقی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ (سالِ وفات: 1127ھ) قرآنِ کریم کی آیتِ مبارکہ ﴿اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ﴾ کے تحت لکھتے ہیں: ”فبناء القباب على قبور العلماء والأولياء والصلحاء ووضع الستور والعمائم والثياب على قبورهم امر جائز إذا كان القصد بذلك التعظيم فى أعين العامة حتى لا يحتقروا صاحب هذا القبر“ ترجمہ: علماء، اولیاء اور صالحین کی قبروں پر قبے بنانا اور ان کی قبروں پر چادریں، عمامے اور کپڑے رکھنا جائز ہے، جبکہ اس سے مقصود عوام الناس کی نگاہوں میں ان کی تعظیم کا اظہار ہو تاکہ وہ اس صاحب قبر کو کم تر نہ سمجھیں۔ ( روح البیان، جلد 3، صفحہ 400، مطبوعہ بیروت)

علامہ عبد الغنی نابلسی حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 1143ھ/ 1730ء) نے مزاراتِ اولیاء کے متعلق تفصیلی رسالہ ”کشف النور عن اصحاب القبور“ تحریر فرمایا، اس میں مزارات صالحین کے متعلق لکھتےہیں: ”قال تعالى: ﴿وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآىٕرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ﴾ و شعائر اللہ هي الأشياء التي تشعر أي تعلم به تعالى كالعلماء والصالحين أحياء وأمواتا ونحوهم. ومن تعظيمهم بناء القباب على قبورهم وعمل التوابيت لهم من الخشب حتى لا تحتقرهم العامة من الناس، وإن كان ذلك بدعة فهي بدعة حسنة، كما قال الفقهاء في تكبير العمائم وتوسيع الثياب للعلماء، أنه جائز حتى لا تستخف بهم العامة ويحترمونهم. وإن كان ذلك بدعة لم يكن عليها السلف...حتى قال في جامع الفتاوى في البناء على القبر: وقيل لا يكره إذا كان الميت من المشايخ والعلماء والسادات“

ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا (اور جو اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہے) اور اللہ کی نشانیوں سے مراد وہ اشیاء ہیں جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے بارے میں علم حاصل ہوتا ہے جیسا کہ علماء اور صالحین چاہے زندہ ہو ں یا وفات پا چکے ہوں اور انہی کی مثل، اور ان کی تعظیم میں سے یہ بھی ہے کہ ان کی قبور پر قبے بنائے جائیں اور اعلیٰ قسم کی لکڑی کے تابوت بنائے جائیں، تا کہ عوام الناس ان کو بے ادبی کی نگاہ سے نہ دیکھیں، اگرچہ یہ بدعت ہے لیکن بدعت حسنہ ہے، جیسا کہ فقہاء نے علماء کے لئے بڑے عماموں و وسیع کپڑوں کے متعلق فرمایا کہ یہ جائز ہے تاکہ عوام الناس کے نزدیک ان کی قدر و منزلت کم نہ ہو۔ اگرچہ یہ بدعت ہے کہ سلف نے یہ طریقہ اختیار نہیں کیا، حتی کہ قبر پر قبہ بنانے کے متعلق جامع الفتاوی میں فرمایا: کہا گیا ہے کہ جب میت، مشائخ، علماء اور سادات میں سےکسی کی ہو تو اس کی قبر پر قبہ بنانا مکروہ نہیں۔ ( کشف النور عن اصحاب القبور ، صفحہ 44 ، مطبوعہ دار الآثار الاسلامیہ )

علامہ علی قاری حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: ”قد اباح السلف البناء علی قبور المشائخ والعلماء المشھورین لیزورھم الناس ویستریحوا بالجلوس“ یعنی: سلف صالحین نے مشائخ اور معروف علمائے کرام کی قبروں پر عمارت بنانے کو جائز قرار دیا ہے تاکہ لوگ ان کی زیارت کریں اور وہاں بیٹھ کر راحت و سکون پائیں۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 3، صفحہ 1217، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

اور علامہ ابن حجر ہیتمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 972ھ) ”فتاوی الفقهية الکبری“ اور علامہ ابنِ عابدین شامی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ ”رد المحتار“ میں لکھتے ہیں، واللفظ للاوّل: ”لا یکرہ البناء اذا کان المیت من المشائخ والعلماء والسادات“ یعنی: اگر میت مشائخ، علماء اور سادات کرام میں سے ہو تو اس کی قبر پر عمارت بنانا مکروہ نہیں ہے۔ (الفتاویٰ الکبریٰ، جلد 2، صفحہ 17، مطبوعہ المکتبۃ الاسلامیہ)

مزاراتِ صالحین پر گنبد و قبے بنانے پر تعاملِ امت کی ایک جھلک:

خدا توفیقِ ہدایت دے تو غور کرنا چاہیے کہ صالحین کے مزارات پر گنبد وغیرہ بنانا، ایسا معاملہ ہے جس پر اکابرینِ امت اور عالمِ اسلام کا اجماع و اتفاق موجود ہے، یوں کہ ہمیشہ سے امتِ مسلمہ کا شرق سے غرب تک عرب و عجم میں یہی عمل چلتا آ رہا ہے کہ وہ عوام الناس کی قبور کو سادہ رکھتے آئے ہیں اور انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلامْ، صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اور صالحینِ عظام رَحِمَھُمُ اللہُ السَّلاَمْ کے مزارات پر گنبد و قبے تعمیر کرتے آئے ہیں، تاکہ دیکھنے والوں کو علم ہو سکے کہ یہ کسی صاحبِ کمال اور بزرگ ہستی کا مزار ہے اور وہ وہاں سے اکتسابِ فیض کر سکیں۔ قرونِ ثلاثہ یعنی اسلام کی ابتدائی صدیوں سے لے کر آج تک مزاراتِ صالحین پر گنبد و قبہ جات کا بننا ایک حقیقتِ ثابتہ رہی اور بلاتفریق جمہور مسلمین اس کے جواز و استحسان پر قولاً و عملاً متحد و متفق رہے۔ خیر القرون میں صحابہ و تابعین و تبع تابعین، کتاب و سنت کے حاملین، علمائے راسخین، فقہاء و محدثین اور ائمۂ مجتہدین رَحِمَھُمُ اللہُ المُبِین سب کا یہی مؤقف و عمل رہا، حتی کہ نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ دیگر انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلامْ کے مزارات پر بھی قبے بنتے آئے ہیں، جو آج تک موجود ہیں اور نہ صرف کسی ایک خطے میں، بلکہ پوری دنیا میں نظر آتے ہیں اور آج بھی کسی اختلاف و نزاع کے بغیر رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے حقیقی جانشین اسی مستحسن عمل پر گامزن ہیں، ان میں سے کسی نے بھی انبیاء و صلحاء کے مزارات اور ان پر بنی ہوئی عمارتوں کو اسلامی تصورِ توحید کے منافی نہیں جانا۔

الغرض جب آغازِ اسلام سے اب تک ہر دور میں صالحین کے مزارات پر گنبد وغیرہ بنانے کا عام دستور رہا، کسی نے بھی اس پر انکار نہیں کیا اور سب کے سب بالاتفاق اسے جائز و مستحسن سمجھتے رہے ہیں، تو یہ اسلام و دین کے مخالف، بدعت و گمراہی یا شرک کا باعث کیسے ہو سکتا ہے؟ معلوم ہوا کہ یہ کام ہرگز برا، گناہ یا شرک و گمراہی نہیں، کیونکہ نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کے مجموعی طور پر شرک اور گمراہی سے محفوظ رہنے کی ضمانت خود بیان فرمائی ہے، چنانچہ صحیح بخاری میں ہے: ’’وإني واللہ ما أخاف عليكم أن تشركوا بعدي، ولكني أخاف عليكم أن تنافسوا فيها“ یعنی: بے شک میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں مجھے اپنے بعد تمہارے شرک میں مبتلا ہونے کا کوئی خوف نہیں، ہاں مجھے یہ خوف ہے کہ تم لوگ دنیا میں رغبت کرو گے۔ (صحیح البخاری ج 5، ص 103، مطبوعہ مصر)

اور دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا: ”إن اللہ لا يجمع أمتي أو قال: أمة محمد صلى اللہ عليه وسلم على ضلالة، ويد اللہ مع الجماعة ومن شذ شذ إلى النار“ یعنی: اللہ تعالیٰ میری امت کو یا فرمایا امتِ محمد کو گمراہی پر جمع نہ کرے گا اور اللہ تعالیٰ کا دست رحمت جماعت پر ہے (تو جب لوگوں میں اختلاف دیکھو، تو مسلمانوں کی سب سے بڑی جماعت کو تھام لو کہ) جو جماعت سے جدا ہوا، وہ دوزخ میں گیا۔ ( سنن ترمذی ، کتاب الفتن ، جلد 4 ، صفحہ 39 ، مطبوعہ بیروت )

مزاراتِ صالحین پر گنبد و قبہ جات بنانا، ہمیشہ سے امت کا عمل رہا ہے ، بلکہ اس پر علماء و ائمہ کا اتفاق و اجماع ہے ، چنانچہ علامہ ابن حجر ہیتمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ ”فتاوی الفقهية الکبری“ میں لکھتے ہیں: ”أن الامام بدر الدين الزركشي نقل في الخادم عن الشيخ الامام شرف الدين الأنصاري كلاما طويلا في الكلام على القرافة ذكر في أثنائه أن السلف رضي اللہ عنهم ‌شاهدوا ‌هذه ‌القرافة ‌الكبرى والصغرى من الزمان المتقدم وبني فيها الترب والدور ولم ينكره أحد من علماء الأعصار لا بقول ولا فعل قال وقد بنوا فيه قبة الإمام الشافعي رضي الله عنه ومدرسته وهكذا سائر المزارات...الثالث أن الحاكم قال في مستدركه إثر تصحيح أحاديث النهي عن البناء والكتب على القبور ليس العمل عليها فإن أئمة المسلمين شرقا وغربا البناء على قبورهم وهو أمر أخذه الخلف عن السلف قال البرزلي فيكون إجماعا الأمر ا“ یعنی: امام بدر الدین زرکشی علیہ الرحمۃنے "الخادم" میں شیخ امام شرف الدین انصاری علیہ الرحمۃ سے قرافہ کے بارے میں ایک طویل کلام نقل کیا ہے، اس میں انہوں نے ذکر کیا ہے کہ سلفِ صالحین رضی اللہ عنہم نے قدیم زمانے ہی سے قرافۂ کبریٰ اور قرافۂ صغریٰ کا مشاہد ہ فرمایا ہے، وہاں قبروں پر گنبد، قبہ جات اور عمارتیں بنائی جاتی تھیں، لیکن کسی زمانے کے کسی عالم نے نہ قولاً اور نہ فعلاً اس پر انکار کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ وہاں امام شافعی رضی اللہ عنہ کی قبرِ مبارک پر گنبد اور ان کا مدرسہ بھی بنایا گیا، اور اسی طرح دوسرے مزارات بھی بنائے گئے ۔ جواز كی تیسری وجہ: امام حاکم علیہ الرحمۃ نے اپنی مستدرک میں قبروں پر عمارت بنانے اور قبروں پر کتابت کرنے کی ممانعت والی احادیث کو فنی لحاظ سے صحیح قرار دینے کے بعد فرمایا: (صالحین کے معاملے میں) ان احادیث پر عمل نہیں ہے، کیونکہ مشرق و مغرب میں مسلمانوں کے ائمہ کی قبروں پر عمارتیں بنی ہوئی ہیں اور یہ ایسا طریقہ ہے جسے بعد والوں نے پہلے لوگوں سے حاصل کیا ہے۔ علامہ برزلی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ صالحین کے مزارات کے متعلق ائمہ کی یہ بات اجماع قرار پائے گی ۔ ( الفتاویٰ الکبریٰ ، جلد 2 ، صفحہ 16 ، مطبوعہ المکتبۃ الاسلامیہ )

معلوم ہوا کہ شارحین اور اَئمۂ دین ممانعت کی حدیث کا محمل عوام الناس کی قبور کو قرار دیتے آئے ہیں اور خواص کی قبروں کا استثنا بیان کرتے آئے ہیں، لہٰذا صالحین کے مزارات پر قبہ و گنبد بنانا منع نہیں، ورنہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اور سلف صالحین ہرگز قبروں پر قبے نہ بناتے ۔

( ۴) قبور پر قبے بنانے کی ممانعت اس صورت میں ہے کہ جب بنانے والے کا یہ اعتقاد ہو کہ اس سے میت کو راحت یا فائدہ پہنچتا ہے کہ یہ غلط خیال ہے، جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک شخص کو دیکھا جو اپنے بھائی کی قبر پر سائبان لگائے ہوئے تھا، تو فرمایا: ”انزعه يا غلام، وإنما يظله عمله“ یعنی: اس کو اتار دے، اس کے اعمال ہی اس پر سایہ کریں گے۔ ( صحیح البخاری ، ج 2 ، ص 95 ، مطبوعہ مصر )

لیکن اگر قبر پر قبہ و گنبد وغیرہ عمارت بنانے سے مقصود یہ ہو کہ زائرین کو تلاوت اور ذکر و دعا میں آسانی ہوگی، تو بلا شبہ جائز ہے ۔

چنانچہ حافظ ابن حجر عسقلانی شافعی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات:852ھ/1449ء) لکھتے ہیں: ”وهي الاشارة إلى أن ضرب الفسطاط إن كان ‌لغرض ‌صحيح كالتستر من الشمس مثلا للحي لا لاظلال الميت فقد ‌جاز وكأنه يقول إذا أعلي القبر ‌لغرض ‌صحيح لا لقصد المباهاة ‌جاز“ یعنی: اس میں اشارہ ہے کہ اگر قبر پر قبہ وغیرہ بنانے میں کوئی صحیح غرض ہو، مثلاً زندہ شخص کو دھوپ سے بچانے کے لیے، نہ کہ میت پر سایہ کرنے کے لیے، تو یہ جائز ہے۔ گویا مصنف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اگر قبر کو اونچا کرنا کسی درست مقصد کے لیے ہو، محض فخر و نمائش کی غرض سے نہ ہو، تو یہ بھی جائز ہے۔ ( فتح الباری ، جلد 3 ، صفحہ 224 ، مطبوعہ بیروت )

اور علامہ علی قاری حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: ”وقال التوربشتي:يحتمل ‌وجهين: أحدهما: ‌البناء ‌على ‌القبر بالحجارة، وما يجري مجراها، والآخر: أن يضرب عليها خباء ونحوه، وكلاهما منهي لعدم الفائدة فيه، قلت: فيستفاد منه أنه إذا كانت الخيمة لفائدة مثل أن يقعد القراء تحتها فلا تكون منهية ...قد اباح السلف البناء علی قبور المشائخ والعلماء المشھورین لیزورھم الناس ویستریحوا بالجلوس“ یعنی: علامہ تورپشتی علیہ الرحمۃ نے فرمایا: ممانعت کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں: ایک یہ کہ قبر پر پتھروں وغیرہ سے عمارت بنائی جائے اور دوسری یہ کہ قبر پر خیمہ و قبہ وغیرہ بنایا جائے اور یہ دونوں صورتیں اس لیے ممنوع ہیں کہ ان میں کوئی فائدہ نہیں۔ میں کہتا ہوں: اس سے یہ حکم مستفاد ہوتا ہے کہ اگر قبر پر قبہ وغیرہ اس لیے بنایا جائے کہ اس کے نیچے بیٹھ کر با آسانی تلاوت وغیرہ کی جاسکے، تو یہ ممنوع نہیں ہے، سلف صالحین نے مشائخ اور معروف علمائے کرام کی قبروں پر عمارت بنانے کو جائز قرار دیا ہے، تاکہ لوگ ان کی زیارت کریں اور وہاں بیٹھ کر آرام پائیں۔ ( مرقاۃ المفاتیح، جلد 3، صفحہ 1217، مطبوعہ دار الفکر ، بیروت)

مزاراتِ صالحین پر گنبد بنانے میں ایک غرضِ صحیح اور مصلحت یہ ہے کہ یہ اسلام کی شان و شوکت میں اضافہ کا ذریعہ ہے، جیسا کہ محقق علی الاطلاق شاہ عبد الحق محدث دہلوی حنفی بخاری رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1052 ھ) لکھتے ہیں: ”در آخر زمان بجہت اقصار نظر عوام بر ظاہر مصلحت در تعمیر ترویج مشاہد و مقابر مشائخ و عظماء زیدہ چیزہا افزوند تاآنجابیت و شوکت اسلام و اہل صلاح پیدا آید خصوصاً درد یار ہند کہ اعدائے دین از ہنود و کفار بسیاراند۔ وترویج اعلاء شان ایں مقامات باعث رعب و انقیا داایشاں است و بسیار اعمال و افعال واوضاع کہ در زمان سلف از مکروہات بودہ انددر آخر زمان از مستحسنات گشتہ“ یعنی: آخری زمانے میں چونکہ عام لوگ محض ظاہر بین رہ گئے، اس لیے مشائخ اور بزرگوں کے مزارات و مقابر کی تعمیر، ترویج اور شان و شوکت قائم کرنے میں بہت سی ایسی چیزوں کا اضافہ کیا گیا ہے جن سے دینِ اسلام اور نیک لوگوں کی ہیبت و شوکت ظاہر ہو۔ خصوصاً سرزمینِ ہند میں، جہاں ہندوؤں اور دیگر کفار کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ان مقامات کی ترویج اور ان کی شان و عظمت کو بلند کرنا، دشمنوں کے دلوں میں رعب پیدا کرنے اور انہیں اسلام کے سامنے جھکانے کا سبب ہے ۔ اور بہت سے ایسے اعمال، افعال اور طور طریقے جو زمانۂ سلف میں مکروہ سمجھے جاتے تھے، آخری زمانے میں (حالات کی تبدیلی اور مصلحت کی وجہ سے) مستحسن اور پسندیدہ قرار پائے ہیں ۔ ( شرح سفر السعادۃ، صفحہ 273، مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ، سکھر)

( ۵) مزاراتِ صالحین پر عمارت بنانے کی ممانعت اس صورت میں ہے کہ جب کسی غیر کی ملکیتی جگہ میں بغیر اجازت عمارت بنائی جائے یا وقف قبرستان میں جگہ گھیر کر عمارت بنائی جائے، لیکن جہاں ایسی صورت نہ ہو، وہاں بلا شبہ جائز ہے۔

چنانچہ حدیثِ پاک کی شرح میں علامہ ابو المحاسن رویانی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 502 ھ) ”بحر المذہب“ میں اور امام ابو الحسین یحیی یمنی شافعی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 558 ھ) ”البيان فی مذہب الامام الشافعی“ میں لکھتے ہیں، واللفظ للآخر: ”وأما البناء على القبر: فإن بني عليه بيت أو قبة، فإن كان ذلك في مقبرة مسبلة … لم يجز، لأنه يضيق على غيره، وعليه يحمل الخبر ... وإن كان في ملكه جاز له أن يبني ما شاء، لأنه لا يضيق على غيره“ یعنی: اور جہاں تک قبر پر عمارت بنانے کا معاملہ ہے، تو اگر قبر پر عمارت یا قبہ عام وقف شدہ قبرستان میں بنایا جائے، تو ایسا کرنا، جائز نہیں، کیونکہ اس سے دوسرے لوگوں کے لیے جگہ تنگ ہوجاتی ہے اور حدیث میں وارد ممانعت اسی صورت پر محمول ہے ۔ اور اگر قبر اپنی ذاتی ملکیت کی زمین میں ہو تو اس پر جیسے چاہیں عمارت بنا سکتے ہیں، کیونکہ اس سے کسی دوسرے کے لیے جگہ تنگ نہیں ہوتی۔ ( البیان فی مذھب الامام ، جلد 3 ، صفحہ 110 ، مطبوعہ جدۃ )

( ٦ ) بعض علمائے کرام فرماتے ہیں کہ اگر اس حدیثِ پاک کو مطلقاً قبہ جات کی ممانعت پر محمول کیا جائے، تو یہ ممانعت لزومی نہیں ہوگی، بلکہ زہد و تقویٰ کی تعلیم کے طور پر ہوگی، جیسا کہ احادیثِ طیبہ میں پختہ اور اونچے مکانات بنانے کی ممانعت مذکور ہے، بلکہ ایسے مکانات گرادئیے جاتے تھے، جیسا کہ حدیثِ پاک میں ہے: ”أن العباس بنى غرفة، فقال النبي صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم: اهدمها، فقال: أو أتصدق بثمنها؟ فقال: اهدمها ثلاثا“ یعنی: حضرت عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنا کمرہ بلند تعمیر کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے انہیں تین دفعہ فرمایا کہ اس کو گرادو۔ ( مسند ابو داؤد طیالسی ، جلد 2 ، صفحہ 278 ، مطبوعہ مصر)

لیکن پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کئی مقاصد کے پیشِ نظر مسلمانوں نے پختہ مکانات بھی تعمیر کیے اور آج بھی پختہ مکانات تعمیر ہو رہے ہیں، اگر اس کو ناجائز و گناہ قرار دیا جائے، تو دنیا میں کوئی بھی مسلمان اس گناہ سے محفوظ نہیں رہے گا۔ لہٰذا یہی کہا جائے گا کہ اس مفہوم کی احادیث زہد و تقویٰ کی تعلیم پر محمول ہیں۔ (ماخوذ از مزارات پر گنبد بنانا، صفحہ 75، مطبوعہ عطاری پبلشرز)

سوال میں بیان کردہ حدیث پاک کی جامع تفصیل اور توجیہات بیان کرتے ہوئے فقیہ اعظم، مفتی محمد شریف محدثِ کوٹلوی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1370ھ) لکھتے ہیں: ”بعض (فقہاء) نے بنا ء سے مراد بناء للسکونۃ مراد لی ہے کہ اپنی سکونت کے لیے قبور پر گھر وغیرہ بنا لینا درست نہیں کہ اس میں اہلِ اسلام کی قبور کی اہانت ہے اور بعض نے "علیٰ" کے حقیقی معنوں کے لحاظ سے نفسِ قبر پر بنا ء منع سمجھی، نہ حولِ قبر اور ظاہر ہے کہ قبے حولِ قبر پر ہوتے ہیں، نہ کہ نفسِ قبر پر۔ اور بعض نے اسی نہی کو قبورِ عوامِ مسلمین پر حمل کیا اور مشائخ و علما ء صالحین کے قبور کو اس سے مستثنیٰ سمجھا۔ اور وہ بھی بہ نیتِ فخر و تکبر و زینت و اظلالِ میت ہو، تو منع۔ اور اگر زائرین و قارئین کی استراحت کے لیے یا علامت کے لیے ہو کہ لوگوں کو صلحا کے مزار کا پتہ لگ جائے، تو جائز و درست ہے۔ اور بعض نے بناء سے وہ بنا مراد لی ہے جو مشرکین قبورِ صالحین پر بناتے تھے، جن میں تصاویر ہوتی تھیں۔“ ( دلائل المسائل، صفحہ 322، مطبوعہ فرید بک اسٹال)

اور مفتی اعظم ہند، مولانا مصطفیٰ رضا خان نوری رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1402ھ/1981ء) لکھتے ہیں: ”مسلمانوں کو اطمینان رکھنا چاہیے کہ وہ جس راہ پر گامزن ہیں وہ بالکل صحیح و درست اور نہایت پاک وصاف راہ ہے۔ انہیں ان وہابيوں ندویوں کے فریبوں، کیدوں، مکاریوں سے دھوکے میں نہ پڑنا چاہیے، جن علماء نے منع فرمایا ہے اور جنہوں نے اجازت دی ہے اُن میں کوئی اختلاف نہیں جسے وہ منع کرتے ہیں اُسے یہ بھی جائز نہیں کہتے۔ جو حضرات منع کرتے ہیں وہ وہاں منع فرماتے ہیں جہاں وجوہِ منع سے کوئی وجہ منع پائی جائے کہ غیر کی ملک میں بے اجازت تعمیر ہو یا قبرستان وقف میں بے شرط واقف عمارت بنائی جائے یا صرف تفاخر و زینت کے لیے بنائیں یا محض بے فائدہ ایسا کریں اور جہاں یہ کچھ نہ ہو، وہاں کیوں ممنوع ٹھہرائیں اور جبکہ علمائے کرام نے اُس کی تصریح فرمادی کہ جوازہی مختار و مرجح و مفتی بہ ہے تو اب کسی کو کیا گنجائش کلام ہے اور جواَب بھی محض زورِ زبان مخالفت کی جائے تو اس کا قول کیا قابل التفات ہو۔“ (مزارات پر گنبد، صفحہ 33، 34، مطبوعہ مسلم کتابوی، لاھور)

تنبیہ: مذکورہ توجیہات اس لیے ذکر کی گئیں کہ بہت سے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے خاص خاص قبروں پر عمارات بنائی ہیں (جس کا بیان گزر چکا) تو اگر اس عمل کو ناجائز قرار دیا جائے، تو ہمیشہ سے چلتے آ رہے صحابہ و تابعین، ائمہ و محدثین اور سلف صالحین رِضْوَانُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْھِمْ اَجْمَعِیْن کے عمل کو غلط اور خلافِ شرع قرار دینا لازم آئے گا، جو سراسر غلط اور بہت بڑی جراءت و بےباکی ہے۔ اللہ کریم ہدایتِ حق نصیب فرمائے۔ آمین

مشورہ: اس حوالے سے تفصیلی معلومات کے لیے اس عنوان پر مرتب کی گئی، چند بزرگانِ دین کے فتاویٰ جات و مقالہ جات پر مشتمل ضخیم کتاب "مزارات پر گنبد" اور حضرت فیض احمد اویسی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی کتاب "مزارات پر گنبد بنانا" کا مطالعہ بہت مفید رہے گا۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری

فتوی نمبر: FSD-10151

تاریخ اجراء: 06 ربیع الاول 1448ھ/20 اگست 2026ء